کلوزنگ آکشن سیشن کی جانچ کے لیے یکم اگست کو NSE اور BSE نے خصوصی موک ٹریڈنگ منعقد کی

یکم اگست 2026 کو NSE اور BSE نے 3 اگست سے نافذ ہونے والے کلوزنگ آکشن سیشن (CAS) نظام کی تکنیکی تیاریوں کی جانچ کے لیے خصوصی موک ٹریڈنگ سیشن منعقد کیا۔ اس مشق کا مقصد نئے نظام اور تکنیکی بنیادی ڈھانچے کی تیاری کا جائزہ لینا تھا۔

بھارتی شیئر بازار عام طور پر ہفتہ اور اتوار کو ہفتہ وار تعطیل کے باعث بند رہتے ہیں، جس کی وجہ سے نیشنل اسٹاک ایکسچینج (NSE) اور بمبئی اسٹاک ایکسچینج (BSE) میں بھی ٹریڈنگ نہیں ہوتی۔ تاہم، یکم اگست 2026 کو ہفتہ ہونے کے باوجود بازار میں ٹریڈنگ سرگرمیاں جاری رہیں، جس سے سرمایہ کاروں اور مارکیٹ کے شرکاء کے ذہنوں میں اس کی وجہ جاننے کا سوال پیدا ہوا۔

اس روز ہونے والی ٹریڈنگ معمول کی یا حقیقی مارکیٹ ٹریڈنگ نہیں تھی، بلکہ آئندہ تکنیکی تبدیلیوں کی جانچ کے لیے منعقد کیا گیا ایک خصوصی ’موک ٹریڈنگ سیشن‘ تھا۔

اس مشق کا مقصد ایکویٹی کیش سیگمنٹ میں نافذ کیے جانے والے نئے ’کلوزنگ آکشن سیشن‘ (Closing Auction Session-CAS) نظام کے لیے تیاریوں کا جائزہ لینا اور یہ یقینی بنانا تھا کہ نئے نظام کے نفاذ کے بعد مارکیٹ کے آپریشنز میں کسی قسم کی تکنیکی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔

نیشنل اسٹاک ایکسچینج نے حال ہی میں اعلان کیا ہے کہ وہ ایکویٹی کیش سیگمنٹ میں کلوزنگ آکشن سیشن (CAS) نافذ کرنے جا رہا ہے۔ یہ نظام 3 اگست 2026 سے لائیو ٹریڈنگ ماحول میں نافذ ہوگا۔ کلوزنگ آکشن سیشن کا مقصد مارکیٹ بند ہونے کے وقت شیئرز کی آخری قیمت کے تعین کے عمل کو مزید شفاف اور مؤثر بنانا ہے۔

اس نظام کے ذریعے مارکیٹ بند ہونے سے پہلے خریداروں اور فروخت کنندگان کے آرڈرز کو زیادہ مؤثر انداز میں میچ کیا جا سکے گا، جس سے آخری کلوزنگ قیمت کا تعین زیادہ درست طریقے سے ممکن ہوگا۔ عالمی مالیاتی منڈیوں میں اس نوعیت کے نظام پہلے ہی رائج ہیں اور انہیں مارکیٹ کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے اہم سمجھا جاتا ہے۔

NSE کی جانب سے جاری کردہ سرکلر کے مطابق، CAS نظام کو کامیابی کے ساتھ نافذ کرنے سے پہلے تکنیکی جانچ اور مارکیٹ کے شرکاء کی تیاری کو یقینی بنانا ضروری تھا۔ اسی مقصد کے تحت یکم اگست 2026 کو موک ٹریڈنگ سیشن منعقد کیا گیا۔ اس دوران ایکسچینجز، بروکریج کمپنیوں، ٹریڈنگ ممبران اور دیگر مارکیٹ شرکاء نے نئی ٹریڈنگ کارروائیوں اور سسٹم اپ گریڈز کی جانچ کی۔ اس عمل سے ممکنہ تکنیکی مسائل کی نشاندہی اور ان کے حل میں مدد ملتی ہے، جس سے اصل نفاذ کے وقت رکاوٹوں کے امکانات کم ہو جاتے ہیں۔

ایکسچینج نے تمام ٹریڈنگ ممبران کو مشورہ دیا تھا کہ وہ اس مشق میں فعال طور پر حصہ لیں تاکہ نئے نظام کے تحت مارکیٹ کا ہموار آپریشن یقینی بنایا جا سکے۔

موک ٹریڈنگ حقیقی شیئر بازار ٹریڈنگ کا ایک سمیولیٹڈ یا آزمائشی ورژن ہوتا ہے۔ اس میں شرکاء خرید و فروخت کے آرڈرز درج کرتے ہیں، لیکن ان لین دین میں حقیقی رقم استعمال نہیں کی جاتی۔ اس کا بنیادی مقصد ٹریڈنگ سسٹم، آرڈر پروسیسنگ، ڈیٹا فلو اور تکنیکی بنیادی ڈھانچے کی جانچ کرنا ہوتا ہے۔

موک ٹریڈنگ کے دوران ہونے والے سودوں کا سرمایہ کاروں کے حقیقی پورٹ فولیو یا مالی حالت پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ اسے ایک طرح کا ’ڈرائی رن‘ بھی کہا جاتا ہے، جس میں پورا عمل حقیقی مارکیٹ جیسا نظر آتا ہے، لیکن اس میں کسی قسم کا مالی خطرہ شامل نہیں ہوتا۔

بھارت میں ’’موک ٹریڈنگ‘‘ کی اصطلاح دو مختلف تناظرات میں استعمال ہوتی ہے۔ پہلی، NSE اور BSE جیسے ایکسچینجز کی جانب سے منعقد کیے جانے والے سرکاری موک ٹریڈنگ سیشن، جن کا مقصد تکنیکی جانچ اور مارکیٹ آپریشنز کی تیاری ہوتا ہے۔ ان میں بنیادی طور پر بروکرز، ٹریڈنگ ممبران اور ادارہ جاتی شرکاء شامل ہوتے ہیں۔

دوسری، ریٹیل سرمایہ کاروں اور نئے ٹریڈرز کے لیے دستیاب ورچوئل یا پیپر ٹریڈنگ پلیٹ فارمز، جہاں صارفین حقیقی سرمایہ لگائے بغیر ٹریڈنگ حکمت عملیوں کی مشق کر سکتے ہیں۔ اگرچہ یہ پلیٹ فارمز لائیو مارکیٹ ڈیٹا استعمال کرتے ہیں، لیکن ان کا ایکسچینجز کی جانب سے منعقد کیے جانے والے سرکاری موک ٹریڈنگ سیشن سے کوئی براہ راست تعلق نہیں ہوتا۔

Leave a comment