ہریانہوی گیت ‘ٹٹیری’ کے ریپ ورژن پر ریپر بادشاہ کو ہریانہ ریاستی خواتین کمیشن کا سمن

ہریانہوی گیت ‘ٹٹیری’ کے ریپ ورژن پر ریپر بادشاہ کو ہریانہ ریاستی خواتین کمیشن کا سمن

ہریانہوی گیت ‘ٹٹیری’ کے ریپ ورژن پر ریپر بادشاہ تنازع میں

بالی ووڈ کے ریپر بادشاہ (آدتیہ پرتیک سنگھ سسودیا) ہریانہوی لوک گیت ‘ٹٹیری’ کو اپنے انداز میں ریپ کی شکل میں پیش کرنے کے بعد ایک نئے تنازع میں گھر گئے ہیں۔ ہریانہ ریاستی خواتین کمیشن نے انہیں 13 مارچ کو پیش ہونے کے لیے طلب کیا ہے۔ اس تنازع کا مرکز گانے میں کم عمر لڑکیوں سے متعلق بعض مناظر اور استعمال کی گئی زبان کو بتایا جا رہا ہے۔

گانے کے مناظر اور زبان پر اعتراض

‘ٹٹیری’ نامی ہریانہوی لوک گیت کو اس سے قبل ایک ہریانہوی گلوکار کی بیٹی نے گایا تھا، جس میں لڑکیاں روایتی ہریانہوی لباس میں رقص کرتی نظر آتی ہیں۔ بعد ازاں بادشاہ نے اس گیت کو ریپ کی صورت میں پیش کیا، جس کی شوٹنگ ضلع جند میں کی گئی۔

اس گانے میں کیتھل کی رہائشی باکسر سمرن جاگلان کی آواز بھی شامل ہے۔ تاہم گانے کے بعض مناظر اور بول پر اعتراض کیا گیا ہے۔ ان اعتراضات میں لڑکیوں کو بس کی چھت پر چڑھا کر رقص کروانا، اسکول بیگ پھینکتے ہوئے دکھانا اور نامناسب زبان کے استعمال کے الزامات شامل ہیں۔

شکایت کنندگان کا کہنا ہے کہ اس طرح کی پیشکش معاشرے میں غلط پیغام پھیلا سکتی ہے اور بچوں کو تعلیم سے دور کر سکتی ہے۔

عوامی ردعمل اور شکایات

گانے کے اجرا کے بعد اسے یوٹیوب پر دو ملین سے زائد بار دیکھا جا چکا ہے۔ تاہم ریلیز کے فوراً بعد گانے کے بول اور فلم بندی کو لے کر تنازع بڑھ گیا۔

جے ہند سینا کے سربراہ نوین جے ہند نے سوشل میڈیا پر اس گانے پر اعتراض کرتے ہوئے اسے ممنوع قرار دینے کا مطالبہ کیا۔ پانی پت کی تنظیم ‘ناری تو نارائنی’ کی صدر سویتا آریہ اور شیو آرتی فاؤنڈیشن کے سربراہ شیو کمار نے خواتین کمیشن میں شکایت درج کرائی۔

اس کے علاوہ روہتک کے وکیل راج نارائن پنگھال نے بھی ریاستی کمیشن برائے تحفظ حقوق اطفال کو شکایت بھیجی۔ اس شکایت میں بادشاہ کے ریپ کی سطر “آیا بادشاہ ڈولی چڑھانے، ان سب کی گھوڑی بنانے” کو قابل اعتراض قرار دیا گیا ہے۔

خواتین کمیشن کا سمن اور سماعت

شکایت کنندگان کے مطابق گانے میں کم عمر لڑکیوں کو سرکاری اسکول کی وردی میں اسکول بیگ پھینکتے اور تعلیم سے دور ہوتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس طرح کے مناظر بچوں کے درمیان غلط اور نامناسب رویے کو معمول بنا سکتے ہیں اور تعلیم کی اہمیت کو کم کر سکتے ہیں۔

ہریانہ ریاستی خواتین کمیشن نے کہا ہے کہ اس طرح کے مناظر اور زبان معاشرے میں منفی پیغام پھیلا سکتے ہیں اور یہ بچوں اور نوعمروں کے لیے خطرناک ہو سکتے ہیں۔

کمیشن نے پانی پت کے پولیس سپرنٹنڈنٹ کو خط بھیج کر سمن جاری کیا ہے۔ شکایت کنندگان سویتا آریہ اور شیو کمار کو بھی پیش ہونے کے لیے کہا گیا ہے۔

بادشاہ کو فریق مخالف کے طور پر 13 مارچ کو خواتین کمیشن کے سامنے پیش ہونے کا حکم دیا گیا ہے۔ سماعت پانی پت کے ضلعی ڈپٹی کمشنر کے دفتر کے کانفرنس ہال میں خواتین کمیشن کی چیئرپرسن رینو بھاٹیا کی سربراہی میں ہوگی۔

Leave a comment