برطانیہ سعودی عرب کی فضائی دفاع کے لیے ٹائفون لڑاکا طیارے بھیجے گا

برطانیہ نے حوثی ڈرون اور میزائل حملوں سے سعودی عرب کے تحفظ کے لیے ٹائفون لڑاکا طیاروں سمیت اضافی فوجی امداد کا اعلان کیا ہے۔ یہ مشن دفاعی نوعیت کا ہوگا اور یمن میں حوثی ٹھکانوں پر براہِ راست حملے نہیں کیے جائیں گے۔

برطانیہ نے حوثی باغیوں کے ڈرون اور میزائل حملوں سے سعودی عرب کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے اضافی فوجی امداد دینے کا اعلان کیا ہے۔ برطانوی وزارتِ دفاع کے مطابق، رائل ایئر فورس (RAF) کے ٹائفون لڑاکا طیارے سعودی شہروں اور اہم بنیادی ڈھانچے کے تحفظ کے لیے دفاعی فضائی کارروائیاں کریں گے۔ برطانیہ نے واضح کیا ہے کہ ان طیاروں کو یمن میں حوثی ٹھکانوں پر حملوں کے لیے استعمال نہیں کیا جائے گا۔ اس امداد میں اٹلس A400M ٹرانسپورٹ طیارے اور فوجی مشیر بھی شامل ہوں گے۔

برطانوی وزارتِ دفاع نے 20 اکتوبر کو اضافی فوجی امداد کا اعلان کیا۔ اس کے تحت رائل ایئر فورس کے ٹائفون لڑاکا طیارے سعودی عرب کی فضائی حدود کے دفاع میں مدد کریں گے۔ ڈرون اور میزائل جیسے فضائی خطرات کا مقابلہ کرنا اور شہروں اور اہم قومی بنیادی ڈھانچے کے تحفظ میں تعاون کرنا ان کا بنیادی مقصد ہے۔

برطانوی حکومت نے کہا ہے کہ یہ مشن دفاعی نوعیت کا ہوگا۔ ٹائفون طیارے سعودی عرب کی سلامتی میں مدد کریں گے، تاہم اس تعیناتی کے تحت برطانیہ حوثی ٹھکانوں پر براہِ راست حملے نہیں کرے گا۔ یہ فیصلہ سعودی حکومت کی درخواست اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان کیا گیا ہے۔ برطانیہ کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کے شہری مراکز اور اہم تنصیبات پر حملے علاقائی استحکام کے لیے سنگین خطرہ پیدا کرتے ہیں۔

ریاض ایئرپورٹ پر حملے کے بعد تشویش میں اضافہ

برطانیہ کے وزیر دفاع ویس اسٹریٹنگ نے کہا ہے کہ سعودی عرب پر حوثی باغیوں کے مسلسل حملے قابلِ مذمت ہیں۔ انہوں نے خصوصی طور پر ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو نشانہ بنائے جانے کا ذکر کیا۔

برطانوی حکومت کے مطابق، ایسے حملے نہ صرف سعودی عرب کی سلامتی کو متاثر کرتے ہیں بلکہ پورے مغربی ایشیا میں عدم استحکام کو بھی بڑھا سکتے ہیں۔ اس سے توانائی کی فراہمی، تجارتی راستوں اور بین الاقوامی کاروبار پر بھی اثر پڑنے کا امکان ہے۔

اسٹریٹنگ نے کہا کہ اسی وجہ سے برطانیہ نے اضافی فوجی امداد کی منظوری دی ہے۔ ان کے مطابق، خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی برطانیہ کی معیشت کو بھی متاثر کر سکتی ہے، کیونکہ اس سے توانائی کی قیمتوں میں اضافے اور کاروباری اخراجات بڑھنے کا خطرہ ہے۔

اٹلس A400M طیارے اور فوجی مشیر بھی بھیجے جائیں گے

ٹائفون لڑاکا طیاروں کے علاوہ برطانیہ سعودی عرب کو اٹلس A400M فوجی ٹرانسپورٹ طیارے بھی فراہم کرے گا۔ ان کا استعمال سعودی عرب کے اندر دفاعی سازوسامان اور دیگر فوجی مواد کو ایک مقام سے دوسرے مقام تک منتقل کرنے میں مدد کے لیے کیا جائے گا۔

برطانوی فوجی مشیر بھی سعودی حکام کے ساتھ کام کریں گے۔ ان کا مقصد فوجی رابطہ کاری اور دفاع سے متعلق سرگرمیوں میں تعاون فراہم کرنا ہے۔

یہ امداد ستمبر میں اعلان کردہ برطانوی حمایت کو آگے بڑھاتی ہے۔ اس وقت برطانیہ نے سعودی عرب کی دفاعی فضائی سرگرمیوں کے لیے رائل ایئر فورس کا وویجر طیارہ فراہم کرنے پر رضامندی ظاہر کی تھی۔ وویجر طیارہ فضا میں دوسرے طیاروں کو ایندھن فراہم کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

برطانیہ نے موجودہ اعلان کے تحت سعودی فضائی دفاعی کارروائیوں کے لیے فضا میں ایندھن بھرنے کی مدد بھی بڑھا دی ہے۔ اس سے سعودی طیاروں کو اپنی کارروائیوں کے دوران زیادہ دیر تک فضا میں رہنے میں مدد مل سکتی ہے۔

چار یورپی ممالک کے تعاون سے تیار کیا گیا ٹائفون

یورو فائٹر ٹائفون ایک کثیرالمقاصد لڑاکا طیارہ ہے، جسے برطانیہ، جرمنی، اٹلی اور اسپین کے تعاون سے تیار کیا گیا تھا۔ اسے فضائی حدود کے دفاع، دشمن کے طیاروں کو روکنے اور مخصوص حالات میں زمین پر موجود اہداف کے خلاف کارروائی کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

اس طیارے میں جدید ریڈار اور ہتھیاروں کے نظام موجود ہیں، جو فضائی خطرات کی شناخت اور ان کا مقابلہ کرنے میں مدد کرتے ہیں۔ تاہم، سعودی عرب میں مجوزہ برطانوی مشن کے لیے حکومت نے دفاعی کردار پر زور دیا ہے۔

ٹائفون کی تعیناتی سے سعودی عرب کو ڈرون اور میزائل حملوں کا پتہ لگانے اور ان سے نمٹنے کی صلاحیت میں مدد مل سکتی ہے۔ اس تعیناتی سے برطانیہ کی فوجی شمولیت بھی بڑھتی ہے، لیکن اعلان کردہ مشن کا مقصد حوثی ٹھکانوں پر براہِ راست حملے کرنا نہیں ہے۔

امریکا کا کردار اور سعودی عرب کے سکیورٹی خدشات

سعودی عرب کی سلامتی کے حوالے سے بین الاقوامی تعاون پر بھی بات چیت جاری ہے۔ تاہم، برطانیہ کے سرکاری اعلان میں یہ نہیں کہا گیا کہ ٹائفون طیاروں کی تعیناتی براہِ راست امریکا کے انکار کا نتیجہ ہے۔ اس لیے اس فیصلے کو امریکی پالیسی سے جوڑنے سے پہلے دونوں ممالک کے سرکاری بیانات اور قابلِ اعتماد رپورٹس کے تناظر کو الگ الگ دیکھنا ضروری ہے۔

خطے میں بڑھتے ہوئے حملوں نے سعودی عرب کے سامنے اپنی فضائی دفاعی صلاحیت مضبوط کرنے کا چیلنج کھڑا کر دیا ہے۔ ڈرون اور میزائل حملے شہروں، ہوائی اڈوں، توانائی کی تنصیبات اور دیگر اہم سہولیات کے لیے خطرہ پیدا کر سکتے ہیں۔ برطانیہ کی امداد اسی سکیورٹی چیلنج کا جواب ہے۔ اس میں لڑاکا طیارے، نقل و حمل کی صلاحیت، فوجی مشاورت اور فضا میں ایندھن بھرنے کی سہولت شامل ہے۔ ان اقدامات سے سعودی عرب کی دفاعی تیاری کو مضبوط بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔

پاکستان اور علاقائی دفاعی تعاون

سعودی عرب نے اپنی سلامتی کے لیے دیگر ممالک کے ساتھ بھی دفاعی تعاون بڑھانے پر زور دیا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی معاہدے اور ترکیہ کے ممکنہ کردار کے حوالے سے بھی بات چیت ہوئی ہے۔

رائٹرز کی 20 اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق، ترکیہ نے سعودی عرب اور پاکستان سے متعلق مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کو پارلیمانی منظوری کے لیے آگے بڑھایا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ اس معاہدے میں کسی ایک رکن پر مسلح حملے کی صورت میں اجتماعی دفاعی تعاون کی شق شامل ہے۔

تاہم، مختلف ممالک کی فوجی امداد کی شرائط اور اس کا حقیقی دائرہ مختلف ہو سکتا ہے۔ اس لیے علاقائی دفاعی معاہدوں کو برطانیہ کی ٹائفون تعیناتی سے جوڑتے وقت ان کے الگ الگ مقاصد اور سرکاری دفعات کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔

یمن تنازع اور علاقائی استحکام

یمن میں حوثی باغیوں اور ان کے مخالفین کے درمیان تنازع طویل عرصے سے جاری ہے۔ سعودی عرب اس تنازع میں یمن کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت کرتا رہا ہے۔ حالیہ حملوں میں اضافے کے بعد سعودی عرب کی سلامتی اور علاقائی استحکام کے حوالے سے خدشات بڑھے ہیں۔

برطانوی حکومت نے کہا ہے کہ خطے میں تشدد میں اضافے سے یمن کے شہریوں کے لیے پہلے سے موجود سنگین انسانی بحران مزید گہرا ہو سکتا ہے۔ توانائی کی فراہمی اور تجارتی راستوں میں خلل کا خطرہ بھی عالمی معیشت کے لیے تشویش کا باعث ہے۔

برطانیہ نے اپنی نئی امداد کو دفاعی کارروائی کے طور پر پیش کیا ہے اور یمن تنازع کے سفارتی حل کی ضرورت پر بھی زور دیا ہے۔

Leave a comment