پاکستان سے مذاکرات، آبنائے ہرمز کی بحری سلامتی اور ایران پر اقتصادی دباؤ سے متعلق امریکی پالیسی واضح، روبیو

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے پاکستان کے ساتھ مذاکرات جاری رکھنے، دہشت گردی کے خلاف امریکی مؤقف، آبنائے ہرمز میں بحری سلامتی اور ایران پر اقتصادی دباؤ برقرار رکھنے کے حوالے سے بیان دیا۔

پاکستان کے ساتھ مذاکرات جاری رکھنے کی ضرورت پر روبیو کا زور

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے پاکستان کے ساتھ مذاکرات جاری رکھنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس کی جوہری صلاحیت اور جغرافیائی حیثیت امریکی سفارت کاری کے لیے اہم ہے۔ بھارت کے دورے کے دوران نیٹ ورک18 کو دیے گئے ایک انٹرویو میں روبیو نے کہا کہ امریکا کو ان ممالک کے ساتھ بھی سفارتی تعلقات برقرار رکھنے پڑتے ہیں جن کے ساتھ اس کے سنگین اختلافات موجود ہیں۔

روبیو نے بھارت اور ایران کے تعلقات کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی سیاست میں مختلف ممالک کے ساتھ تعلقات میں توازن برقرار رکھنا آسان نہیں ہوتا، لیکن یہ ضروری ہے۔ ان کے بیان میں پاکستان کے ساتھ رابطے، دہشت گردی کے خلاف امریکی پالیسی، ایران کے ساتھ کشیدگی اور آبنائے ہرمز میں بحری سلامتی جیسے معاملات نمایاں رہے۔

امریکا پاکستان کے ساتھ مذاکرات کو کیوں ضروری سمجھتا ہے

مارکو روبیو نے کہا کہ پاکستان کے پاس جوہری ہتھیار ہیں اور اس کی جغرافیائی حیثیت بھی تزویراتی طور پر اہم ہے۔ ان حالات کے باعث امریکا کے لیے پاکستان کے ساتھ رابطہ برقرار رکھنا ضروری ہے۔ ان کے مطابق خارجہ پالیسی میں کسی ملک کے ساتھ اختلاف کا مطلب یہ نہیں کہ اس کے ساتھ مذاکرات مکمل طور پر ختم کر دیے جائیں۔

روبیو نے بھارت کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ نئی دہلی کے بھی ایران کے ساتھ تعلقات ہیں اور وہ وہاں کے رہنماؤں سے بات چیت کرتا ہے۔ ان کے مطابق بین الاقوامی تعلقات میں ممالک کو بعض اوقات ایسے شراکت داروں کے ساتھ بھی رابطہ برقرار رکھنا پڑتا ہے جن کی پالیسیوں سے وہ مکمل طور پر متفق نہیں ہوتے۔

روبیو کے بیان میں تزویراتی مفادات اور سیاسی اختلافات کے درمیان توازن برقرار رکھنے پر مبنی سفارتی نقطہ نظر سامنے آتا ہے۔ تاہم، پاکستان کے ساتھ مذاکرات کی ضرورت بیان کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ امریکا نے بھارت کے سلامتی سے متعلق خدشات کے حوالے سے کوئی نئی باضابطہ یقین دہانی کرائی ہے۔ روبیو کے تبصرے کو ان کے انٹرویو میں بیان کیے گئے سفارتی نقطہ نظر کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔

دہشت گردی کی حمایت کے خلاف امریکی مؤقف

روبیو نے کہا کہ امریکا دنیا میں کہیں بھی دہشت گردی کی حمایت کرنے والوں کے خلاف ہے۔ بھارت اور پاکستان کے درمیان مذاکرات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر دونوں ممالک بات چیت کر سکتے ہیں تو اس سے بھارت کے سلامتی سے متعلق خدشات سے جڑی سرگرمیوں کو روکنے میں مدد مل سکتی ہے۔

بھارت طویل عرصے سے سرحد پار دہشت گردی اور اپنی سلامتی سے متعلق معاملات اٹھاتا رہا ہے۔ روبیو کے بیان میں دہشت گردی کے خلاف امریکی مؤقف کے ساتھ ساتھ علاقائی مذاکرات جاری رکھنے کی اہمیت بھی سامنے آئی۔

ایران کی حکومت اور معاہدے کی مشکلات پر روبیو کا تبصرہ

روبیو نے ایران کے سیاسی نظام پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس کے ساتھ معاہدہ کرنا مشکل ہے۔ انہوں نے ایران کی قیادت میں انتہا پسند شیعہ مذہبی رہنماؤں کے اثر و رسوخ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مذہبی بنیادوں پر فیصلے کرنے والے رہنماؤں کے ساتھ اتفاق رائے پیدا کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔

روبیو نے واضح کیا کہ ان کا تبصرہ تمام شیعہ مذہبی رہنماؤں کے بارے میں نہیں تھا بلکہ ان انتہا پسند مذہبی رہنماؤں کے حوالے سے تھا جن کا ایران کی پالیسیوں پر اثر و رسوخ ہے۔ ان کا بیان امریکا اور ایران کے درمیان جاری سیاسی اختلافات کی عکاسی کرتا ہے۔

ایران کا جوہری پروگرام، میزائل اور ڈرون صلاحیتیں اور مغربی ایشیا میں اس کا کردار طویل عرصے سے بین الاقوامی سفارت کاری کے اہم معاملات رہے ہیں۔ روبیو کے تبصرے سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی انتظامیہ کو ایران کی قیادت اور اس کی سلامتی کی پالیسیوں کے حوالے سے سنجیدہ خدشات ہیں۔

آبنائے ہرمز اور تیل کی فراہمی پر روبیو کا بیان

روبیو نے آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل اور دیگر توانائی کے وسائل کی نقل و حرکت کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس راستے سے جہازوں کی آمدورفت اور تیل کی فراہمی تنازع شروع ہونے سے پہلے کی سطح کے تقریباً 80 سے 100 فیصد تک برقرار ہے۔

تاہم، اس دعوے کا جائزہ لیتے وقت جہازوں کی اصل تعداد، تیل بردار ٹینکروں کی آمدورفت اور توانائی کی فراہمی کے اعداد و شمار کو الگ الگ دیکھنا ضروری ہے۔ خبر میں شامل فیکٹ چیک کے مطابق، اسٹریٹجک انرجی میپ ویب سائٹ کے اعداد و شمار میں 20 اکتوبر کو آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تیل بردار ٹینکروں کی تعداد معمول کی سطح سے تقریباً 99 فیصد کم بتائی گئی تھی۔

اگر یہ اعداد و شمار اسی مدت اور قابلِ موازنہ جہازوں کے زمرے سے متعلق ہیں تو یہ روبیو کے دعوے سے واضح فرق ظاہر کرتے ہیں۔ تاہم، دونوں اعداد و شمار کا درست موازنہ کرنے کے لیے ماخذ، مدت اور پیمائش کے طریقہ کار کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔ اس لیے بحری آمدورفت کی صورت حال کے بارے میں کسی نتیجے پر پہنچنے سے پہلے متعلقہ اعداد و شمار کی تصدیق اہم ہے۔

آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی تجارت کے لیے ایک اہم بحری راستہ ہے۔ اس خطے میں کشیدگی بڑھنے سے تیل اور گیس کی فراہمی، بحری مال برداری اور بین الاقوامی منڈیوں پر اثر پڑ سکتا ہے۔ اسی وجہ سے یہاں جہازوں کی محفوظ آمدورفت کے حوالے سے متعدد ممالک کو تشویش برقرار رہتی ہے۔

تجارتی جہازوں پر حملوں کا ایران پر الزام

روبیو نے ایران پر ایسے تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کا الزام عائد کیا جن کا جنگ سے براہِ راست تعلق نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان حملوں سے جہازوں پر کام کرنے والے ملاحوں کی جان خطرے میں پڑتی ہے۔ روبیو نے بین الاقوامی برادری سے ایسے حملوں کی مذمت کرنے کی بھی اپیل کی۔

انہوں نے ان واقعات کا موازنہ دوسری عالمی جنگ کے دوران جرمنی کی نازی فوج کی آبدوزوں کی جانب سے تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے سے کیا۔ اس موازنے کے ذریعے روبیو نے بحری تجارت اور شہری ملاحوں کی سلامتی کو بین الاقوامی تشویش کا معاملہ قرار دیا۔

تاہم، جہازوں پر ہونے والے ہر حملے کی ذمہ داری اور حالات کی آزادانہ تحقیقات اور قابلِ اعتماد ذرائع کی بنیاد پر تصدیق کی جانی چاہیے۔ روبیو کے الزامات کو امریکی وزیر خارجہ کے بیان کے طور پر پیش کرنا ضروری ہے، نہ کہ آزادانہ تصدیق کے بغیر انہیں ثابت شدہ حقیقت کے طور پر پیش کیا جائے۔

روبیو نے بھارتی ملاحوں کی ہلاکت کا بھی ذکر کیا

روبیو نے بحری حملوں کے دوران بھارتی ملاحوں کی ہلاکت کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان واقعات میں متعدد بھارتی ملاح اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ عالمی بحری تجارت میں بڑی تعداد میں بھارتی ملاح کام کرتے ہیں، جس کے باعث ایسے حملوں کا اثر بھارتی شہریوں پر بھی پڑتا ہے۔

دستیاب معلومات میں مغربی ایشیا کے تنازع کے دوران 11 بھارتی ملاحوں کی ہلاکت اور دو کے لاپتا ہونے کا ذکر کیا گیا ہے۔ ان اعداد و شمار کی تصدیق کے لیے متعلقہ بھارتی حکام اور قابلِ اعتماد خبر رساں ذرائع کی تازہ ترین تفصیلات دیکھنا ضروری ہے۔

بحری راستوں پر بڑھتے ہوئے خطرات کا اثر صرف جہاز مالکان یا توانائی کمپنیوں تک محدود نہیں رہتا۔ اس سے عملے کی سلامتی، تجارتی سرگرمیوں اور بین الاقوامی سپلائی چینز پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔

ایران پر اقتصادی دباؤ جاری رکھنے کی امریکی پالیسی

روبیو نے کہا کہ امریکا ایران پر اقتصادی دباؤ برقرار رکھے گا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ایران اپنے وسائل عام شہریوں کے حالات زندگی بہتر بنانے کے بجائے دہشت گردی کی حمایت اور میزائلوں اور ڈرونز کی تیاری کے لیے استعمال کرتا ہے۔

امریکی وزیر خارجہ کے مطابق، ایران کی فوجی صلاحیتیں اور تجارتی جہازوں پر حملوں میں استعمال ہونے والے ہتھیار تشویش کا باعث ہیں۔ ان کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن ایران کی پالیسیوں میں تبدیلی لانے کے لیے اقتصادی دباؤ کو ایک اہم ذریعہ سمجھتا ہے۔

اقتصادی پابندیوں اور دباؤ کا حقیقی اثر کئی عوامل پر منحصر ہوتا ہے، جن میں بین الاقوامی تعاون، تجارتی تعلقات اور متعلقہ ملک کے معاشی حالات شامل ہیں۔ ایران کے حوالے سے امریکی پالیسی کا آئندہ اثر آنے والی سفارتی پیش رفت اور علاقائی سلامتی کی صورت حال سے جڑا ہوگا۔

Leave a comment