کا بجٹ اجلاس پیر کو اپوزیشن کی عدم موجودگی میں شروع ہوا۔ اجلاس کے پہلے دن ایوان میں سابقہ عام آدمی پارٹی حکومت سے متعلق 6 کیگ اور 3 پی اے سی رپورٹس پیش کی گئیں، جن میں مختلف بے ضابطگیوں اور انتظامی کمزوریوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔
وزیراعلیٰ ریکھا گپتا آج اسمبلی میں مالی سال 2026-27 کے لیے ایک لاکھ کروڑ روپے سے زائد کا بجٹ پیش کریں گی۔ حکومت کے مطابق یہ بجٹ بنیادی سہولیات، ماحولیاتی بہتری اور عوامی فلاحی منصوبوں پر خصوصی توجہ کے ساتھ دارالحکومت کی ترقی کو آگے بڑھانے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
بجٹ پیش کیے جانے سے قبل وزیراعلیٰ نے کہا کہ یہ صرف ایک مالی دستاویز نہیں بلکہ “ترقی یافتہ دہلی، سرسبز دہلی” کے عزم کو آگے بڑھانے کا روڈ میپ ہے۔ ان کے مطابق حکومت کا مقصد عوام کے معیار زندگی میں ٹھوس بہتری لانا ہے اور اسی مقصد کے تحت بجٹ تیار کیا گیا ہے۔
اجلاس کے آغاز کے ساتھ ہی اپوزیشن کی غیر حاضری نمایاں رہی۔ عام آدمی پارٹی نے اپنے چار ارکان اسمبلی کی معطلی کے خلاف اجلاس کا بائیکاٹ کیا۔ معطل ارکان میں سنجیو جھا، کلدیپ کمار، سوم دت اور جرنیل سنگھ شامل ہیں، جنہیں سرمائی اجلاس کے دوران ہنگامہ آرائی کے الزامات میں معطل کیا گیا تھا۔
اسمبلی اسپیکر وجیندر گپتا نے معطلی برقرار رکھنے کا فیصلہ برقرار رکھا، جس کے خلاف اپوزیشن نے اجلاس میں شرکت نہیں کی۔ اسپیکر نے کہا کہ بجٹ اجلاس جیسے اہم موقع پر اپوزیشن کی شرکت ضروری ہوتی ہے اور اس سے دوری جمہوری روایات کے خلاف ہے۔
![]()
اجلاس کے پہلے دن پیش کی گئی کیگ اور پی اے سی رپورٹس میں مالی بے ضابطگیوں، انتظامی کمزوریوں اور بعض منصوبوں کے نفاذ میں خامیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ رپورٹس میں محلہ کلینک، جامعات کی صورتحال اور سرکاری اخراجات کے انتظام پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ ان امور پر آئندہ دنوں میں تفصیلی بحث متوقع ہے۔
اجلاس کے دوران وزیر اعظم نریندر مودی کے طویل ترین عرصے تک حکومت کے سربراہ رہنے کے ریکارڈ پر بھی بحث ہوئی۔ وزراء اور ارکان اسمبلی نے ان کی قیادت کی تعریف کرتے ہوئے ایک تہنیتی قرارداد پیش کی، جسے ایوان نے متفقہ طور پر منظور کیا۔ وزیراعلیٰ ریکھا گپتا نے کہا کہ وزیر اعظم مودی نے سیاست میں شفافیت، جوابدہی اور ترقی کی نئی تعریف قائم کی ہے اور ان کا تجربہ ریاستوں کے لیے بھی رہنمائی فراہم کرتا ہے۔
اجلاس کے دوران ارکان اسمبلی نے نقلی دودھ، پنیر، گھی اور ادویات کے بڑھتے ہوئے معاملات پر تشویش ظاہر کی۔ متعدد ارکان نے کہا کہ گزشتہ برسوں میں بڑی تعداد میں ایسے کیسز سامنے آئے ہیں اور جانچ کا نظام کمزور ہے۔ انہوں نے فوڈ انسپکٹرز اور لیبارٹریوں کی تعداد بڑھانے کے ساتھ سخت قوانین بنانے کا مطالبہ کیا تاکہ عوامی صحت سے متعلق خلاف ورزیوں پر مؤثر کارروائی کی جا سکے۔
بجٹ پیش ہونے سے قبل اسمبلی احاطے میں روایتی “کھیر تقریب” کا انعقاد کیا گیا۔ وزیراعلیٰ نے اسے خوشحالی اور نیک شگون کی علامت قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ روایت عوامی فلاح کے عزم کی عکاسی کرتی ہے۔ تقریب میں کسانوں، اساتذہ، ڈاکٹروں، طلبہ، خواتین ڈرائیوروں، خواجہ سرا برادری اور دیگر طبقات کے نمائندوں نے شرکت کی۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ اس سال کے بجٹ میں بنیادی ڈھانچے، صحت، تعلیم، صفائی، آلودگی پر قابو پانے اور سرسبز ماحول کو ترجیح دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال حکومت نے سمت کی تبدیلی کا آغاز کیا تھا اور اب حالات میں بہتری کے لیے بڑے اقدامات کیے جائیں گے۔ حکومت کے مطابق ایک لاکھ کروڑ روپے سے زائد کا بجٹ ترقی، روزگار اور ماحولیاتی بہتری کے لیے اہم ثابت ہوگا، جبکہ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ بجٹ کے نفاذ کے بعد اس کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے گا۔





