عدالت کی جانب سے ضمانت ملنے کے بعد اننت سنگھ کی رہائی کی راہ ہموار ہو گئی ہے، جبکہ کیس کی سماعت جاری رہے گی اور حتمی فیصلہ ٹرائل کے بعد ہی آئے گا۔
عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ کیس میں یہ واضح نہیں ہو سکا کہ اننت سنگھ نے دُلارچند کو براہ راست گولی ماری تھی۔ تفتیش کے دوران سامنے آنے والے شواہد سے یہ ثابت نہیں ہو سکا کہ فائرنگ کی کارروائی براہ راست انہی کی جانب سے کی گئی تھی، جس نے عدالتی فیصلے میں اہم کردار ادا کیا۔
عدالت نے پایا کہ کیس میں درج گواہوں کے بیانات میں متعدد تضادات موجود ہیں۔ مختلف گواہوں نے واقعے کے حوالے سے مختلف باتیں کہیں، جس سے کیس کی اعتباریت پر سوال اٹھتے ہیں۔ عدالت نے اس پہلو کو ضمانت دینے کے حق میں ایک مضبوط بنیاد قرار دیا۔
عدالت نے یہ بھی کہا کہ تفتیش اور ٹرائل کا عمل طویل ہو سکتا ہے، اس لیے ملزم کو غیر معینہ مدت تک جیل میں رکھنا مناسب نہیں سمجھا گیا۔ عدالت نے اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے کہا کہ جب تک جرم ثابت نہ ہو، ملزم کو قانونی رعایت دی جا سکتی ہے۔
اننت سنگھ نے عدالت کو یقین دہانی کرائی کہ وہ ہر پیشی پر حاضر ہوں گے اور تفتیش میں تعاون کریں گے۔ عدالت نے اسی شرط کے ساتھ انہیں ضمانت دی کہ وہ عدالتی عمل میں کسی قسم کی رکاوٹ نہیں ڈالیں گے۔
عدالت نے واضح کیا کہ ضمانت کا مطلب الزامات کا خاتمہ نہیں ہے۔ کیس کی سماعت جاری رہے گی اور حتمی فیصلہ ٹرائل کے بعد ہی سنایا جائے گا۔
اس فیصلے کے بعد سیاسی اور سماجی حلقوں میں مختلف ردعمل سامنے آئے ہیں، جہاں کچھ افراد اسے عدالتی عمل کا حصہ قرار دے رہے ہیں جبکہ کچھ اس پر سوال اٹھا رہے ہیں۔ فی الحال ضمانت کے بعد اننت سنگھ کی رہائی کا راستہ صاف ہو گیا ہے اور آئندہ قانونی کارروائی پر نظر رکھی جا رہی ہے۔





