کانپور میں ان دنوں گھریلو گیس کی فراہمی میں شدید بحران پیدا ہو گیا ہے، جہاں مختلف علاقوں میں گیس ایجنسیوں کے باہر طویل قطاریں دیکھی جا رہی ہیں اور صارفین کو گھنٹوں انتظار کے باوجود سلنڈر حاصل نہیں ہو رہا۔
شہر کے مختلف علاقوں میں گیس ایجنسیوں کے باہر صبح سے ہی بھیڑ جمع ہو جاتی ہے۔ خواتین، بزرگ اور ملازمت پیشہ افراد سبھی گیس سلنڈر کے حصول کے لیے قطار میں کھڑے نظر آتے ہیں۔ کئی صارفین کے مطابق وہ گزشتہ دو سے تین دن سے مسلسل ایجنسیوں کے چکر لگا رہے ہیں، لیکن ہر بار انہیں خالی ہاتھ واپس لوٹنا پڑتا ہے۔
سب سے بڑی شکایت یہ سامنے آئی ہے کہ جن صارفین کے موبائل پر او ٹی پی (ون ٹائم پاس ورڈ) موصول ہو چکا ہے، انہیں بھی سلنڈر فراہم نہیں کیا جا رہا۔ بکنگ کی تصدیق کے باوجود صارفین کو بار بار ایجنسیوں کے چکر لگانے پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے۔
صارفین نے الزام عائد کیا ہے کہ ایجنسیوں میں شفافیت کی کمی ہے اور تقسیم کا نظام مکمل طور پر بے ترتیب ہو چکا ہے۔ کچھ افراد کا کہنا ہے کہ انہیں یہ معلومات بھی فراہم نہیں کی جا رہی کہ سلنڈر کب دستیاب ہوگا۔
یہ بحران اب گھریلو استعمال سے آگے بڑھ کر تجارتی سرگرمیوں کو بھی متاثر کرنے لگا ہے۔ شہر کے کئی ریسٹورنٹس اور ڈھابوں نے گیس کی کمی کے باعث اپنے مینو میں کمی کر دی ہے۔ کچھ مقامات پر محدود کھانے دستیاب ہیں، جبکہ بعض چھوٹے ہوٹل عارضی بندش کے قریب پہنچ گئے ہیں۔
ریسٹورنٹ مالکان کے مطابق گیس کے بغیر کام کرنا ممکن نہیں۔ مسلسل سپلائی میں رکاوٹ کے باعث ان کے کاروبار پر اثر پڑ رہا ہے اور انہیں مالی نقصان بھی برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔
گیس ایجنسیوں کے عملے کا کہنا ہے کہ یہ مسئلہ سپلائی میں کمی کے باعث پیدا ہوا ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ جیسے ہی مناسب مقدار میں سلنڈرز دستیاب ہوں گے، تقسیم کا نظام معمول پر آ جائے گا۔
انتظامیہ نے صورتحال کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے اس پر نظر رکھی ہوئی ہے۔ حکام کے مطابق گیس سپلائی کو بہتر بنانے کے لیے متعلقہ کمپنیوں سے بات چیت جاری ہے اور جلد صورتحال کو معمول پر لانے کی کوشش کی جائے گی۔
فی الحال کانپور کے شہری اس گیس بحران کا سامنا کر رہے ہیں اور سپلائی میں بہتری کی توقع کر رہے ہیں۔





