علی گڑھ، اتر پردیش سے تعلق رکھنے والے ایک خاندان کا بیٹا بادل اس وقت پاکستان کی جیل میں قید ہے، جس سے ملاقات اور رہائی کے لیے اس کے والدین سرحد پار جانے کی تیاری کر رہے ہیں۔
دستیاب معلومات کے مطابق بادل کسی وجہ سے پاکستان پہنچ گیا تھا، جہاں اسے گرفتار کر لیا گیا اور تب سے وہ جیل میں بند ہے۔ اس واقعے کے بعد سے خاندان مسلسل صدمے میں ہے اور اپنے بیٹے کی واپسی کے لیے کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔
سپریم کورٹ کے ایک وکیل کی یقین دہانی کے بعد معاملے میں پیش رفت کی امید پیدا ہوئی ہے۔ وکیل نے کہا ہے کہ وہ قانونی عمل کے تحت کیس کو آگے بڑھائیں گے اور بادل کو انصاف دلانے اور اس کی جلد رہائی کے لیے کوشش کریں گے۔
والدین نے بتایا کہ وہ اپنے بیٹے سے ملاقات کے لیے پاکستان جانے کو تیار ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ طویل عرصے سے بیٹے سے نہیں مل سکے اور اس کی حالت کے بارے میں شدید فکرمند ہیں۔ انہوں نے حکومت سے بھی مدد کی اپیل کی ہے تاکہ وہ محفوظ طریقے سے پاکستان جا کر اپنے بیٹے سے مل سکیں۔
خاندان کے مطابق بادل کے پاکستان پہنچنے کے حالات ابھی مکمل طور پر واضح نہیں ہیں۔ اس معاملے میں مختلف خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں جن کی جانچ ضروری ہے۔ خاندان کا کہنا ہے کہ ان کا بیٹا بے قصور ہے اور ممکن ہے کہ وہ کسی سازش کا شکار ہوا ہو۔
یہ معاملہ قانونی طور پر پیچیدہ ہے کیونکہ اس میں دو ممالک کے قوانین اور سفارتی تعلقات شامل ہیں۔ ایسے معاملات میں عموماً وزارت خارجہ اور سفارت خانوں کا کردار اہم ہوتا ہے۔
مقامی افراد اور سماجی تنظیموں نے بھی اس خاندان کی حمایت میں آواز اٹھائی ہے اور حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اس معاملے میں فعال کردار ادا کرتے ہوئے نوجوان کی محفوظ واپسی کو یقینی بنایا جائے۔
ماہرین کے مطابق سرحد پار سے متعلق معاملات میں قانونی اور سفارتی عمل طویل ہو سکتا ہے، تاہم مناسب کوششوں سے حل ممکن ہے۔
فی الحال خاندان کو امید ہے کہ سپریم کورٹ کے وکیل کی مدد اور حکومتی تعاون سے ان کا بیٹا جلد واپس گھر آ سکے گا۔ والدین کی خواہش ہے کہ وہ اپنے بیٹے کو محفوظ اپنے پاس دیکھ سکیں۔





