آگرہ، اتر پردیش میں ٹی ای ٹی (Teacher Eligibility Test) کو لازمی قرار دینے کے خلاف اساتذہ اور امیدواروں نے مشعل جلوس نکال کر احتجاج کیا اور حکومت کے فیصلے کے خلاف نعرے بازی کی۔
مظاہرین نے کہا کہ ٹی ای ٹی کو لازمی بنانے کا فیصلہ کئی اہل امیدواروں کے ساتھ ناانصافی ہے۔ ان کا الزام ہے کہ اس ضابطے کے باعث بڑی تعداد میں ایسے امیدوار باہر ہو رہے ہیں جنہوں نے برسوں تیاری کی ہے اور تدریس کے شعبے میں کیریئر بنانا چاہتے ہیں۔
مشعل جلوس شہر کے اہم راستوں سے گزرا، جس میں سینکڑوں افراد نے شرکت کی۔ احتجاج کے دوران اساتذہ نے نعرے لگائے اور حکومت سے مطالبات جلد پورے کرنے کی اپیل کی۔
مظاہرین کا کہنا ہے کہ وہ اپنی جدوجہد کو صرف سڑکوں تک محدود نہیں رکھیں گے اور ضرورت پڑنے پر عدالت سے رجوع کریں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ انصاف ملنے تک احتجاج جاری رہے گا۔
اساتذہ نے کہا کہ تعلیمی نظام میں اصلاح ضروری ہے، لیکن اس کے نام پر ایسے ضوابط نافذ کرنا جو اہل امیدواروں کو باہر کر دیں، مناسب نہیں۔ انہوں نے حکومت سے اس فیصلے پر نظرثانی کا مطالبہ کیا۔
کئی اساتذہ رہنماؤں نے اپنے خطاب میں کہا کہ یہ تحریک صرف ملازمت کا نہیں بلکہ مستقبل کا سوال ہے۔ انہوں نے تمام امیدواروں سے متحد رہنے اور پرامن طریقے سے آواز اٹھانے کی اپیل کی۔
انتظامیہ کی جانب سے سخت سیکیورٹی انتظامات کیے گئے تھے۔ پولیس فورس تعینات رہی تاکہ کسی بھی قسم کی بدانتظامی نہ ہو۔ حکام نے مظاہرین سے امن برقرار رکھنے کی اپیل کی۔
ماہرین کے مطابق اس طرح کے احتجاج حکومت اور امیدواروں کے درمیان مکالمے کی ضرورت کو ظاہر کرتے ہیں۔ اگر بروقت حل نہ نکالا گیا تو یہ مسئلہ مزید وسیع ہو سکتا ہے۔
فی الحال آگرہ میں اساتذہ کا یہ احتجاج موضوعِ بحث بنا ہوا ہے اور سب کی نظریں حکومت کے اگلے اقدام پر مرکوز ہیں۔ یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ انتظامیہ اس صورتحال کو کیسے سنبھالتی ہے اور کیا مطالبات پر کوئی فیصلہ کیا جاتا ہے۔





