دہلی وویک وہار آگ: چار منزلہ عمارت میں 9 افراد ہلاک، اے سی دھماکے کا شبہ

دہلی کے شاہدرہ علاقے کے وویک وہار میں اتوار کی علی الصبح چار منزلہ رہائشی عمارت میں آگ لگنے سے کم از کم 9 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے۔ ابتدائی تحقیقات میں ایئر کنڈیشنر دھماکے کو وجہ قرار دیا گیا ہے، تقریباً 15 افراد کو بچایا گیا ہے اور تحقیقات جاری ہیں۔

اتوار کی علی الصبح دہلی کے شاہدرہ علاقے کے وویک وہار میں واقع چار منزلہ رہائشی عمارت میں لگنے والی آگ میں کم از کم 9 افراد ہلاک ہو گئے اور متعدد زخمی ہو گئے۔ ابتدائی تحقیقات میں ایئر کنڈیشنر کے دھماکے کو آگ لگنے کی وجہ قرار دیا گیا ہے۔

ہلاکتیں اور ریسکیو آپریشن

دہلی کے شاہدرہ علاقے کے وویک وہار میں اتوار کی علی الصبح چار منزلہ رہائشی عمارت میں آگ لگنے سے کم از کم 9 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے۔ فائر بریگیڈ، پولیس اور مقامی افراد کی مدد سے تقریباً 15 افراد کو محفوظ باہر نکالا گیا۔ زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا جہاں دو افراد کا علاج جاری ہے۔ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ کوئی شخص عمارت میں پھنس نہ گیا ہو، سرچ آپریشن جاری رکھا گیا۔

واقعے کی ٹائم لائن

عینی شاہدین کے مطابق یہ واقعہ تقریباً صبح 3 بج کر 13 منٹ پر شروع ہوا جب عمارت کی بالائی منزل پر نصب ایئر کنڈیشنر اچانک پھٹ گیا۔ چند ہی منٹوں میں آگ دوسری، تیسری اور چوتھی منزل تک تیزی سے پھیل گئی، جس کے باعث کئی خاندانوں کو سنبھلنے کا موقع نہیں ملا۔

مقامی رہائشی روہت کے مطابق لوگوں نے چیخ و پکار سن کر باہر نکلنے کی کوشش کی، لیکن دھوئیں اور آگ کی وجہ سے کئی افراد اندر ہی پھنس گئے۔ فائر بریگیڈ کی ٹیمیں تقریباً صبح 3 بج کر 35 منٹ پر موقع پر پہنچیں اور ریسکیو اور آگ بجھانے کا کام شروع کیا۔

آگ بجھانے کی کارروائی

فائر فائٹرز نے سیڑھیوں اور ہائیڈرولک آلات کی مدد سے بالکونیوں اور کھڑکیوں کے ذریعے کئی افراد کو باہر نکالا۔ موقع پر 12 سے زائد فائر ٹینڈر تعینات کیے گئے تھے۔ پولیس اور ٹریفک ڈیپارٹمنٹ کی ٹیموں نے علاقے کو گھیر کر ریسکیو کارروائی میں تعاون کیا۔

شاہدرہ کے ڈپٹی کمشنر آف پولیس راجندر پرساد مینا نے بتایا کہ صبح تقریباً 4 بجے آگ لگنے کی اطلاع ملی تھی۔ کئی گھنٹوں کی کوشش کے بعد آگ پر قابو پا لیا گیا، لیکن اس وقت تک متعدد افراد کی جان جا چکی تھی۔ انہوں نے کہا کہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے سرچ آپریشن جاری رکھا گیا کہ عمارت میں کوئی اور شخص پھنس نہ ہو۔

مقامی افراد کا کردار

مقامی رہائشی چرن جیت سنگھ نے بتایا کہ پڑوسیوں نے اپنی جان خطرے میں ڈال کر کئی لوگوں کو باہر نکالنے میں مدد کی۔ ان کے مطابق کچھ افراد عمارت کے پچھلے حصے میں موجود فلیٹس کے ذریعے باہر نکلنے میں کامیاب ہوئے، تاہم ایک یا دو خاندانوں کے طویل عرصے تک پھنسے رہنے کا خدشہ برقرار رہا۔

آگ سے حفاظت پر خدشات

علاقے کے مکینوں نے پرانے اور گنجان آباد علاقوں میں فائر سیفٹی قوانین کے سخت نفاذ کا مطالبہ کیا ہے۔ ابتدائی معلومات کے مطابق عمارت میں مناسب آگ بجھانے کے آلات موجود نہیں تھے اور ایمرجنسی اخراج کے انتظامات بھی محدود تھے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ رہائشی عمارتوں میں باقاعدہ فائر آڈٹ، محفوظ وائرنگ اور برقی آلات کی وقتاً فوقتاً جانچ ضروری ہے۔

حالیہ آگ کے واقعات

دہلی اور اس کے اطراف کے علاقوں میں حالیہ دنوں میں آگ کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ ماہرین کے مطابق گرمی کے موسم میں ایئر کنڈیشنر اور برقی آلات پر بڑھتا ہوا دباؤ ایسے واقعات کی بڑی وجہ بنتا ہے۔

اسی طرح کا ایک واقعہ 29 اپریل کو راجستھان کے ضلع الور میں دہلی-ممبئی ایکسپریس وے پر پیش آیا تھا، جہاں چلتی کار میں آگ لگنے سے 6 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ ہلاک ہونے والوں میں مدھیہ پردیش کے ضلع شیوپور کے ایک ہی خاندان کے 5 افراد شامل تھے جو ویشنو دیوی سے واپس آ رہے تھے۔

تحقیقات جاری

حکام نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں اور آگ لگنے کی اصل وجوہات کا تعین کیا جا رہا ہے۔

Leave a comment