فیفا ورلڈ کپ 2026 کا 48 ٹیموں والا فارمیٹ مستقل ہو سکتا ہے، ماہرین کے درمیان بحث جاری

فیفا ورلڈ کپ 2026 میں 48 ٹیموں کے نئے فارمیٹ پر بحث جاری ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ تبدیلی عالمی سطح پر فٹبال کے فروغ میں مددگار ہو سکتی ہے، تاہم گروپ مرحلے کے مقابلوں کے معیار پر اس کے ممکنہ اثرات پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

فیفا ورلڈ کپ 2026 میں 48 ٹیموں پر مشتمل نئے فارمیٹ کے مستقل ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ گروپ مرحلے میں میچوں کی تعداد بڑھنے سے شائقین کی دلچسپی متاثر ہو سکتی ہے، تاہم فیفا اس تبدیلی کو واپس لینے کے حق میں نظر نہیں آتا۔

فٹبال کی دنیا میں فیفا ورلڈ کپ 2026 کے حوالے سے زبردست جوش و خروش کے ساتھ ساتھ بحث بھی تیز ہو گئی ہے۔ یہ پہلا موقع ہوگا جب ٹورنامنٹ میں 32 کے بجائے 48 ٹیمیں حصہ لیں گی۔ اس تبدیلی کے بعد ٹورنامنٹ کا فارمیٹ پہلے سے کہیں بڑا اور طویل ہو گیا ہے، جس سے گروپ مرحلے کے میچوں کی تعداد اور ناک آؤٹ مرحلے تک پہنچنے کا طریقہ کار دونوں متاثر ہوں گے۔

48 ٹیموں کے فیصلے پر ماہرین کی رائے

BBC Sport کے فٹبال چیف رائٹر فل میک نلٹی کے مطابق، فیفا کا یہ فیصلہ اب تقریباً مستقل تصور کیا جا رہا ہے اور دوبارہ 32 ٹیموں کے فارمیٹ پر واپس آنے کے امکانات بہت کم ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک بار جب فیفا کسی بڑے ٹورنامنٹ کے ڈھانچے میں تبدیلی کر دیتا ہے تو اسے واپس پلٹانا تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے۔

فٹبال ماہرین اور تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ یہ تبدیلی کھیل کے فروغ کے لیے فائدہ مند ہے، لیکن اس سے "گروپ اسٹیج فیٹیگ" یعنی ابتدائی مرحلے میں کم دلچسپ مقابلوں کا مسئلہ بھی بڑھ سکتا ہے۔

متعدد سابق کھلاڑیوں اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ابتدائی میچوں میں یکطرفہ مقابلوں کے امکانات بڑھ سکتے ہیں کیونکہ نئی اور نسبتاً کمزور ٹیمیں بھی اب ورلڈ کپ کا حصہ ہوں گی۔ تاہم فیفا کا مؤقف ہے کہ اس سے فٹبال کا عالمی سطح پر فروغ ہوگا اور چھوٹے ممالک کو بڑا پلیٹ فارم ملے گا۔

گروپ K: پرتگال، کانگو DR، ازبکستان اور کولمبیا کے درمیان مقابلہ

گروپ K کو اس ورلڈ کپ کا ایک دلچسپ گروپ قرار دیا جا رہا ہے، جس میں یورپ، افریقہ، ایشیا اور جنوبی امریکہ کی ٹیمیں شامل ہیں۔

پرتگال کو اس گروپ کی مضبوط ترین ٹیم سمجھا جا رہا ہے، جس کی قیادت تجربہ کار کرسٹیانو رونالڈو کر رہے ہیں۔ ٹیم میں برونو فرنینڈس اور وٹینیا جیسے کھلاڑی بھی شامل ہیں۔

دوسری جانب کولمبیا کو بھی مضبوط دعوے دار تصور کیا جا رہا ہے۔ لوئس ڈیاز اور جیمز روڈریگیز جیسے کھلاڑی ٹیم کے اہم ستون ہیں۔ افریقی ٹیم کانگو DR اور پہلی بار ورلڈ کپ میں شرکت کرنے والی ازبکستان کی ٹیم کے لیے یہ گروپ مرحلہ ایک اہم تجربہ ثابت ہو سکتا ہے۔

گروپ L: انگلینڈ کو کروشیا، گھانا اور پاناما کا چیلنج

گروپ L میں انگلینڈ کو ٹائٹل کا مضبوط دعوے دار سمجھا جا رہا ہے۔ ہیری کین کی قیادت میں ٹیم اچھی فارم میں دکھائی دے رہی ہے۔

انگلینڈ کے لیے سب سے بڑا چیلنج کروشیا ہو سکتا ہے، جس نے گزشتہ دو ورلڈ کپ میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کیا تھا اور 2018 میں فائنل تک رسائی حاصل کی تھی۔

اگرچہ کروشیا کی ٹیم کو اب عمر رسیدہ تصور کیا جا رہا ہے، لیکن لوکا موڈریچ اب بھی ٹیم کے اہم ترین کھلاڑیوں میں شمار ہوتے ہیں۔ گھانا اور پاناما بھی اس گروپ میں حیران کن نتائج دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

گروپ I: فرانس سب سے مضبوط دعوے دار

گروپ I میں فرانس کو سب سے مضبوط ٹیم قرار دیا جا رہا ہے۔ دنیا کی نمبر ایک رینکنگ والی یہ ٹیم اپنی جارحانہ انداز اور مضبوط اسکواڈ کے لیے مشہور ہے۔

سینیگال اور ناروے اس گروپ میں دوسرے مقام کے لیے اہم چیلنج پیش کر سکتے ہیں۔ ناروے کے پاس ایرلنگ ہالینڈ اور مارٹن اوڈیگارڈ جیسے نمایاں کھلاڑی موجود ہیں۔

عراق کو اس گروپ کا ڈارک ہارس قرار دیا جا رہا ہے، جو پہلی بار ناک آؤٹ مرحلے میں پہنچ کر تاریخ رقم کرنے کی کوشش کرے گا۔

گروپ J: ارجنٹینا اور آسٹریا کے درمیان مقابلہ

گروپ J میں دفاعی چیمپئن ارجنٹینا ایک بار پھر مضبوط دعوے دار کے طور پر سامنے آ رہا ہے۔ لیونل میسی کے بعد بھی ٹیم کی کارکردگی کو مستحکم تصور کیا جا رہا ہے۔

آسٹریا اور الجزائر اس گروپ میں چیلنج پیش کر سکتے ہیں، جبکہ اردن پہلی بار ورلڈ کپ کھیل رہا ہے، جس سے اس گروپ میں غیر یقینی صورتحال اور دلچسپی دونوں بڑھ گئی ہیں۔

ماہرین کی پیش گوئیاں اور تنازع

BBC کے ماہرین نے اپنی اپنی پیش گوئیاں پیش کی ہیں۔ بعض کے مطابق فرانس اور اسپین ٹائٹل کے مضبوط دعوے دار ہیں، جبکہ کئی ماہرین انگلینڈ اور پرتگال کو بھی مضبوط ٹیمیں قرار دے رہے ہیں۔

کچھ ماہرین نے 48 ٹیموں کے فارمیٹ پر تنقید بھی کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس سے ٹورنامنٹ کے معیار پر اثر پڑ سکتا ہے اور یہ تبدیلی صرف تجارتی فوائد کے لیے کی گئی ہے۔

48 ٹیموں کا اثر: عالمی فٹبال کا فروغ یا معیار کا چیلنج؟

فیفا کا یہ نیا فارمیٹ چھوٹے ممالک کے لیے ایک تاریخی موقع لے کر آیا ہے۔ ازبکستان اور اردن جیسی ٹیمیں پہلی بار ورلڈ کپ میں شرکت کر رہی ہیں، جسے ان ممالک میں فٹبال کی ترقی کے لیے ایک اہم قدم سمجھا جا رہا ہے۔

دوسری جانب ناقدین کا کہنا ہے کہ اس سے ٹورنامنٹ کا توازن متاثر ہو سکتا ہے اور ابتدائی مرحلے میں غیر متوازن مقابلوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے۔

Leave a comment