پرسار بھارتی نے D2M براڈکاسٹنگ سسٹم کی تجویز وزارت کو پیش کر دی، 19 سے زائد شہروں میں ٹرائلز جاری

پرسار بھارتی نے D2M براڈکاسٹنگ سسٹم سے متعلق تجویز وزارتِ اطلاعات و نشریات کو پیش کر دی ہے۔ 19 سے زائد شہروں میں جاری آزمائشی مراحل کی کامیابی کی صورت میں یہ ٹیکنالوجی انٹرنیٹ یا موبائل ڈیٹا کے بغیر موبائل ڈیوائسز تک لائیو ٹی وی اور ڈیجیٹل

پرسار بھارتی نے D2M (ڈائریکٹ ٹو موبائل) براڈکاسٹنگ سسٹم سے متعلق تفصیلی تجویز وزارتِ اطلاعات و نشریات کو پیش کر دی ہے۔ اس ٹیکنالوجی کے آزمائشی مراحل ملک کے 19 سے زائد شہروں میں جاری ہیں۔ اگر یہ نظام کامیابی سے نافذ ہو جاتا ہے تو موبائل ڈیٹا یا انٹرنیٹ کنکشن کے بغیر ہی موبائل فونز پر لائیو ٹی وی، تعلیمی مواد اور دیگر ڈیجیٹل مواد فراہم کیا جا سکے گا۔

D2M ٹیکنالوجی کے نفاذ کی سمت میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ پرسار بھارتی کے مطابق ابتدائی آزمائشی نتائج حوصلہ افزا رہے ہیں۔ اس ٹیکنالوجی کا بنیادی مقصد انٹرنیٹ یا موبائل ڈیٹا کے بغیر ویڈیو، لائیو ٹی وی اور دیگر ڈیجیٹل مواد کو براہِ راست موبائل ڈیوائسز تک پہنچانا ہے۔ اس سے دور دراز علاقوں میں ڈیجیٹل رسائی بڑھانے اور موبائل نیٹ ورکس پر بڑھتے ہوئے دباؤ کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

D2M ٹیکنالوجی کے ٹرائلز پرسار بھارتی، آئی آئی ٹی کانپور اور سانکھیا لیبز کے اشتراک سے کیے جا رہے ہیں۔ اس منصوبے کے تحت ملک کے 19 سے زائد شہروں میں تکنیکی آزمائش جاری ہے۔ ابتدائی ٹیسٹوں میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ موبائل ڈیوائسز تک براہِ راست ویڈیو اور دیگر مواد کی ترسیل ممکن ہے۔ خاص طور پر ان علاقوں میں یہ ٹیکنالوجی مفید ثابت ہو سکتی ہے جہاں انٹرنیٹ سروسز محدود ہیں یا موبائل ڈیٹا کی لاگت عوام کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔ حکومت اور متعلقہ ادارے اسے ڈیجیٹل شمولیت کی جانب ایک اہم قدم قرار دے رہے ہیں۔

ماہرین کے مطابق D2M ٹیکنالوجی کا سب سے بڑا فائدہ بڑے لائیو ایونٹس کے دوران سامنے آ سکتا ہے۔ کرکٹ میچز، قومی تقریبات، انتخابی نتائج یا دیگر اہم پروگراموں کے دوران لاکھوں افراد بیک وقت ویڈیو اسٹریمنگ استعمال کرتے ہیں، جس سے نیٹ ورک پر دباؤ بڑھ جاتا ہے۔ D2M سسٹم کے ذریعے مواد کی براہِ راست ترسیل کی صورت میں صارفین کو موبائل ڈیٹا پر انحصار نہیں کرنا پڑے گا۔

D2M خدمات کے لیے 470–582 MHz اسپیکٹرم بینڈ کے استعمال پر ٹیلی کام کمپنیوں نے تشویش ظاہر کی ہے۔ جیو، ایئرٹیل اور ان سے وابستہ صنعتی تنظیموں کا کہنا ہے کہ مستقبل میں 5G اور 6G نیٹ ورکس کی توسیع کے لیے اس اسپیکٹرم کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔

فی الحال D2M ٹیکنالوجی تمام موبائل فونز پر دستیاب نہیں ہوگی۔ اس سہولت سے صرف وہی ڈیوائسز فائدہ اٹھا سکیں گی جو D2M ریسیپشن کو سپورٹ کرتی ہوں۔ لاوا سمیت کئی کمپنیاں ایسے آلات تیار کرنے پر کام کر رہی ہیں۔

Leave a comment