نورا فتحی نے کیریئر کے آغاز میں 20 لاکھ روپے کے فراڈ اور بغیر معاوضے کے کام کرنے کا انکشاف کیا

نورا فتحی نے اپنے ابتدائی کیریئر کے تجربات بیان کرتے ہوئے بتایا کہ انہیں 20 لاکھ روپے کے فراڈ، مالی مشکلات اور متعدد منصوبوں میں بغیر معاوضے کے کام کرنے کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ انہوں نے فلمی صنعت میں اپنی جگہ بنانے کے لیے مسلسل جدوجہد جاری رکھی۔

اداکارہ اور ڈانسر نورا فتحی نے اپنے کیریئر کے ابتدائی دنوں میں درپیش مشکلات کے بارے میں انکشاف کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کام دلانے کے نام پر انہیں تقریباً 20 لاکھ روپے کے فراڈ کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ فلمی صنعت میں اپنی جگہ بنانے کے لیے کئی گانوں اور منصوبوں میں بغیر معاوضے کے کام بھی کرنا پڑا۔

بھارتی فلم انڈسٹری میں اپنی ڈانس پرفارمنس اور اسکرین موجودگی کے لیے پہچانی جانے والی نورا فتحی کا سفر متعدد چیلنجز، مالی مشکلات اور مسلسل مسترد کیے جانے کے تجربات سے بھرپور رہا ہے۔ ایک انٹرویو میں اپنے تجربات بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کیریئر کے آغاز میں انہیں تقریباً 20 لاکھ روپے کے مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

نورا فتحی 2014 میں کینیڈا سے بھارت آئیں اور بالی ووڈ میں کیریئر بنانے کا فیصلہ کیا۔ اس وقت ان کے پاس تقریباً 5 ہزار روپے تھے۔ ممبئی پہنچنے کے بعد انہیں کئی لڑکیوں کے ساتھ ایک چھوٹے اپارٹمنٹ میں رہنا پڑا۔ انہوں نے بتایا کہ فلمی صنعت کا طریقۂ کار، زبان، ثقافت اور پیشہ ورانہ ماحول ان کے لیے مکمل طور پر نیا تھا۔

نورا ایک روایتی خاندان میں پیدا ہوئیں جہاں رقص کے حوالے سے سخت پابندیاں موجود تھیں۔ بچپن سے ہی انہیں ڈانس کا شوق تھا، تاہم وہ اکثر چھپ کر مشق کیا کرتی تھیں۔ ایک موقع پر ان کی والدہ نے انہیں رقص کرتے ہوئے دیکھ لیا، جس کے بعد انہیں سخت ردِعمل کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کے باوجود انہوں نے ڈانس جاری رکھا اور مختلف ویڈیوز دیکھ کر خود ہی کئی ڈانس اسٹائلز سیکھے۔

ممبئی آنے کے بعد ان کے لیے سب سے بڑا مسئلہ ہندی زبان تھی۔ ہندی نہ جاننے کی وجہ سے انہیں متعدد آڈیشنز میں مسترد کر دیا گیا۔ کئی مرتبہ ان کے لہجے اور تلفظ کا مذاق بھی اڑایا گیا۔ اس کے باوجود انہوں نے ہمت نہیں ہاری اور مسلسل ہندی سیکھنے اور خود کو بہتر بنانے پر کام کرتی رہیں۔

ابتدائی دنوں میں ان کی مالی حالت انتہائی کمزور تھی۔ گزر بسر کے لیے انہوں نے ایک کافی شاپ میں ویٹر کے طور پر کام کیا اور لاٹری ٹکٹ بھی فروخت کیے۔ بعض اوقات انہیں ایک ہفتے میں صرف تقریباً 3 ہزار روپے ہی ملتے تھے، جس سے زندگی گزارنا مشکل ہو جاتا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ کئی دن ایسے بھی آئے جب انہیں صرف بریڈ اور انڈوں پر گزارا کرنا پڑا۔

نورا فتحی کے مطابق، کیریئر کے آغاز میں ایک ایجنسی نے انہیں کام دلانے کا وعدہ کیا تھا۔ اسی اعتماد پر انہوں نے ایک اشتہار سے حاصل ہونے والی تقریباً 20 لاکھ روپے کی رقم سرمایہ کاری کے طور پر دی۔ بعد میں ایجنسی کا رویہ تبدیل ہو گیا اور جب انہوں نے اپنی رقم واپس مانگی تو انکار کر دیا گیا۔ ان کے مطابق اس واقعے نے ان کے ابتدائی کیریئر پر گہرا اثر ڈالا۔

2015 میں نورا کو ریئلٹی شو ‘بگ باس 9’ میں حصہ لینے کا موقع ملا۔ اگرچہ وہ شو میں زیادہ عرصے تک برقرار نہ رہ سکیں، لیکن اسی پروگرام کے ذریعے انہیں بھارتی ناظرین کے درمیان شناخت حاصل ہونا شروع ہوئی۔ اس کے بعد انہیں فلموں اور ڈانس پرفارمنسز میں مسلسل مواقع ملنے لگے۔

نورا نے 2014 میں فلم ‘روار: ٹائیگرز آف دی سندربنز’ کے ذریعے بالی ووڈ میں قدم رکھا۔ اس کے بعد وہ جنوبی بھارتی فلم انڈسٹری کے متعدد منصوبوں کا حصہ بنیں۔ وہ فلم ‘باہوبلی’ کے گانے ‘منوہری’ میں بھی نظر آئیں، جس سے انہیں مزید پہچان ملی۔

2018 میں فلم ‘ستیہ میو جیتے’ کے گانے ‘دلبر’ کی ریلیز نورا فتحی کے کیریئر کا اہم موڑ ثابت ہوئی۔ اس گانے کے بعد انہیں ملک بھر میں ‘دلبر گرل’ کے نام سے پہچانا جانے لگا۔ بعد ازاں وہ بالی ووڈ کی نمایاں ڈانس پرفارمرز میں شمار کی جانے لگیں۔

نورا نے بتایا کہ کیریئر کے ابتدائی مرحلے میں انہوں نے کئی گانوں اور منصوبوں میں بغیر معاوضے کے کام کیا۔ ان کے مطابق اس وقت ان کی توجہ مالی فائدے پر نہیں بلکہ خود کو ثابت کرنے اور فلمی صنعت میں مقام حاصل کرنے پر مرکوز تھی۔

‘دلبر’ کے بعد نورا نے ‘کمریا’، ‘او ساکی ساکی’ اور ‘گرمی’ سمیت کئی مقبول ڈانس نمبرز میں پرفارم کیا، جنہوں نے ان کی مقبولیت میں مزید اضافہ کیا۔

حال ہی میں نورا ایک فلم کے گانے ‘سرکے چنر تیری سرکے’ سے متعلق تنازع کا بھی حصہ رہیں۔ گانے کی پیشکش پر اعتراضات سامنے آئے اور معاملہ قومی کمیشن برائے خواتین تک پہنچ گیا۔

سماعت کے دوران نورا نے تحریری معذرت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کا مقصد کسی کے جذبات کو ٹھیس پہنچانا نہیں تھا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ ایک فنکارہ کے طور پر اپنی سماجی ذمہ داریوں سے آگاہ ہیں۔

نورا کے مطابق، ‘دلبر’ کی کامیابی کے بعد انہیں طویل عرصے تک صرف ڈانس نمبرز تک محدود سمجھا جاتا رہا۔ تاہم وہ اداکاری کے میدان میں بھی مواقع حاصل کرنا چاہتی تھیں۔ اسی مقصد کے تحت انہوں نے آڈیشنز دینا جاری رکھا اور بتدریج اداکاری سے متعلق منصوبوں میں بھی مواقع حاصل کیے۔

کینیڈا سے ممبئی تک نورا فتحی کا سفر مالی مشکلات، فراڈ، مسترد کیے جانے اور مسلسل جدوجہد سے عبارت رہا ہے۔ ان تمام چیلنجز کے باوجود انہوں نے بھارتی تفریحی صنعت میں اپنی الگ شناخت قائم کی ہے۔

Leave a comment