بھارت کے چیف آف ڈیفنس اسٹاف (سی ڈی ایس) جنرل انیل چوہان چھ روزہ سرکاری دورے پر انڈونیشیا پہنچ گئے ہیں۔ اس دورے کو بھارت اور انڈونیشیا کے درمیان بڑھتے ہوئے دوطرفہ دفاعی تعاون کو مزید مضبوط کرنے کی سمت میں ایک اہم قدم سمجھا جا رہا ہے۔
نئی دہلی: چیف آف ڈیفنس اسٹاف (سی ڈی ایس) جنرل انیل چوہان نے بھارت اور انڈونیشیا کے درمیان دوطرفہ دفاعی تعاون کو مزید مستحکم کرنے کے مقصد سے چھ روزہ دورے کا آغاز کیا ہے۔ اس دوران وہ جکارتہ میں انڈونیشیا کے وزیر دفاع سجا فری سجا مسو الدین سے ملاقات کریں گے اور اپنے انڈونیشیائی ہم منصب جنرل اگس سوبیا نٹو کے ساتھ تفصیلی بات چیت کریں گے۔
اس دورے کا بنیادی مقصد دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری کو مضبوط بنانا اور دفاعی شعبے میں نئے تعاون کے مواقع تلاش کرنا ہے۔ واضح رہے کہ انڈونیشیا دنیا کا سب سے بڑا مسلم آبادی والا ملک ہے، اور بھارت کے ساتھ اس کے تاریخی، ثقافتی اور سمندری تعلقات طویل عرصے سے قائم ہیں۔
دورے کا مقصد
اس دورے کا بنیادی مقصد بھارت اور انڈونیشیا کے درمیان دفاعی شراکت داری کو وسیع تر اسٹریٹجک سطح پر فروغ دینا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان پہلے سے ہی سمندری سلامتی، دفاعی پیداوار، انسداد دہشت گردی کارروائیوں اور اسٹریٹجک مکالمے کے کئی معاہدے موجود ہیں۔ جنرل چوہان کے اس دورے سے ان معاہدوں کے نفاذ اور توسیع کے امکانات کو مزید تقویت ملے گی۔

جنرل انیل چوہان نے اپنے دورے کے دوران جکارتہ میں انڈونیشیا کے وزیر دفاع سجا فری سجا مسو الدین سے ملاقات کی۔ اس کے علاوہ، انہوں نے اپنے انڈونیشیائی ہم منصب جنرل اگس سوبیا نٹو کے ساتھ وسیع سطح پر بات چیت کی۔ دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ دفاعی تعلقات کو آگے بڑھانے، علاقائی استحکام برقرار رکھنے اور ہند-بحرالکاہل خطے میں مشترکہ سلامتی کے نقطہ نظر پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
سی ڈی ایس کی انڈونیشیائی فوج، بحریہ اور فضائیہ کے سربراہان سمیت سینئر فوجی حکام سے ملاقات کی بھی منصوبہ بندی ہے۔ یہ بات چیت نہ صرف اسٹریٹجک شراکت داری کو گہرا کرے گی بلکہ دونوں ممالک کی افواج کے درمیان مشترکہ مشقوں، تربیت اور تکنیکی تعاون کو بھی فروغ دے گی۔
دفاعی صنعت کے تعاون پر توجہ
جنرل چوہان اپنے دورے کے دوران بانڈونگ اور سورابایا شہروں کا بھی دورہ کریں گے، جہاں وہ اہم دفاعی صنعتی اداروں اور شپ یارڈز کا معائنہ کریں گے۔ ان دوروں کا مقصد دفاعی پیداوار اور تکنیکی شراکت داری کو مضبوط کرنا ہے۔ بھارت ‘میک اِن انڈیا’ پہل کے تحت دفاعی مینوفیکچرنگ میں خود کفیل بننے کی سمت میں کام کر رہا ہے، اور انڈونیشیا کے ساتھ یہ تعاون دونوں ممالک کی صنعتوں کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔






