جرمنی کے باویریا میں ہٹلر دور کی ’ایگلز نیسٹ‘ عمارت میں شدید آگ، 33 سالہ شخص زیر حراست

جرمنی کی ریاست باویریا میں نازی دور حکومت کی تاریخی ’ایگلز نیسٹ‘ عمارت میں شدید آگ لگ گئی۔ آگ بجھانے کے لیے تقریباً 200 فائر فائٹرز تعینات کیے گئے، جبکہ پولیس نے 33 سالہ جرمن شہری کو حراست میں لے کر آگ لگنے کی وجوہات کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

جرمنی کی ریاست باویریا میں نازی دور حکومت کے تاریخی ’ایگلز نیسٹ‘ عمارت میں شدید آگ لگ گئی۔ آگ پر قابو پانے کے لیے ہفتے کے روز تقریباً 200 فائر فائٹرز کو تعینات کیا گیا۔ پولیس نے جائے وقوعہ کے آس پاس سے 33 سالہ جرمن شہری کو حراست میں لیا ہے۔ واقعے میں کسی کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ہے۔

باویریا کے الپس پہاڑی علاقے میں سطح سمندر سے تقریباً 1,834 میٹر کی بلندی پر واقع اس عمارت میں جمعہ، 23 اکتوبر 2026 کی رات تقریباً 9 بج کر 50 منٹ پر فائر الارم بجنے کے بعد ہنگامی خدمات کو اطلاع دی گئی۔ جائے وقوعہ پر پہنچنے والے فائر فائٹرز نے دیکھا کہ عمارت مکمل طور پر آگ کی لپیٹ میں تھی۔ آگ کے شعلے اتنے بلند تھے کہ انہیں دور سے بھی دیکھا جا سکتا تھا۔ ہفتے کی صبح تک آگ پر مکمل طور پر قابو نہیں پایا جا سکا تھا۔

فائر بریگیڈ کے سربراہ مائیکل برانڈل نے بتایا کہ ہفتے کی دوپہر تک عمارت میں باقی ماندہ آگ کو بجھانے کا کام جاری تھا۔ عمارت کے منہدم ہونے کے خطرے کے باعث اہلکاروں کو اندر داخل ہونے کی اجازت نہیں دی گئی۔

حکام کے مطابق علاقے میں پہلے شدید بارش ہوئی، جس کے بعد برف باری شروع ہو گئی۔ اس کے بعد تیز ہواؤں نے امدادی اور بچاؤ کی کارروائیوں کو مزید مشکل بنا دیا۔ پہاڑی راستوں اور خراب موسم کے باعث فائر بریگیڈ کی گاڑیوں کو وہاں پہنچنے میں کافی دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔

پولیس ترجمان لیسا مائر نے بتایا کہ عمارت کے قریب پہنچنے کے لیے فائر فائٹرز کو سانس لینے کے لیے خصوصی حفاظتی آلات پہننے پڑے۔ ان مشکل حالات کے باوجود کارروائی جاری رکھی گئی۔ فائر بریگیڈ حکام نے بتایا کہ آگ لگنے کے وقت عمارت میں کوئی شخص موجود نہیں تھا۔

آگ کی اطلاع ملنے کے بعد جائے وقوعہ کی طرف جانے والے پولیس اور فائر بریگیڈ اہلکاروں نے راستے میں ایک سرخ موٹر سائیکل سوار کو دیکھا۔ حکام کے مطابق موٹر سائیکل پر نمبر پلیٹ نہیں تھی۔ پولیس نے موٹر سائیکل کو روک کر سوار کو حراست میں لے لیا۔ اس کی شناخت 33 سالہ جرمن شہری کے طور پر ہوئی ہے۔ حکام نے بتایا کہ اس شخص کا اس علاقے سے تعلق ہے، تاہم وہ یہاں مستقل طور پر نہیں رہتا۔

تحقیقات میں سیاسی مقصد کے امکان کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔ استغاثہ کے مطابق مشتبہ شخص کی ذہنی صحت سے متعلق حالات کی بھی جانچ کی جا رہی ہے۔ تاہم کسی ذہنی بیماری کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔ آگ لگنے کی اصل وجہ اور حراست میں لیے گئے شخص کا کردار ابھی ثابت نہیں ہوا ہے۔

باویریا کے وزیر داخلہ یوآخیم ہرمن نے شبہ ظاہر کیا ہے کہ عمارت میں جان بوجھ کر آگ لگائی گئی ہو سکتی ہے۔ پولیس جائے وقوعہ سے ملنے والے شواہد کی بنیاد پر معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے۔ حکام کے مطابق عمارت کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ تاہم اس کی حقیقی حالت کا جائزہ اسی وقت ممکن ہو سکے گا جب تحقیقاتی اور سکیورٹی ٹیمیں محفوظ طریقے سے عمارت کے اندر داخل ہو سکیں گی۔

فی الحال عمارت میں عام لوگوں کے داخلے پر پابندی عائد ہے۔ عدالت میں جرم ثابت ہونے سے پہلے حراست میں لیے گئے شخص کو آگ لگانے کا ذمہ دار قرار نہیں دیا جا سکتا۔

’ایگلز نیسٹ‘ عمارت کا سرکاری نام کیلسٹائن ہاؤس (Kehlsteinhaus) ہے۔ اسے 1937 سے 1938 کے درمیان نازی حکومت کے دور میں تعمیر کیا گیا تھا۔ یہ عمارت ایڈولف ہٹلر اور نازی حکام کے لیے مہمان خانے کے طور پر تیار کی گئی تھی۔ پتھر اور گرینائٹ سے بنی اس عمارت کو غیر ملکی نمائندوں کو متاثر کرنے اور نازی اقتدار کی شبیہ پیش کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ تاہم ہٹلر خود یہاں بہت کم آتا تھا۔ اس کی ایک دوسری رہائش گاہ بیرگہوف قریب ہی واقع تھی۔

دوسری عالمی جنگ کے دوران یہ عمارت محفوظ رہی۔ 1952 کے بعد سے یہاں ریستوران اور نازی تاریخ سے متعلق نمائش چلائی جا رہی تھی۔ باویریا کے حکام کے مطابق ہر سال تقریباً 3.5 لاکھ سیاح یہاں آتے تھے۔

باویریا کے وزیر داخلہ ہرمن نے کہا ہے کہ آگ سے متاثرہ عمارت کو اسی طرح تباہ ہونے کے لیے نہیں چھوڑا جائے گا۔ ان کے مطابق یہ مقام جرمنی کی تاریخ کے اس دور سے وابستہ ہے جسے یاد رکھنا ضروری ہے۔ نازی حکومت کے دوران یہودیوں سمیت لاکھوں افراد کو منظم ظلم و ستم اور اجتماعی قتل کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

’ایگلز نیسٹ‘ جیسے تاریخی مقامات کا تحفظ اس تاریخ کو سمجھنے اور آنے والی نسلوں کو اس سے متعارف کرانے کے لیے اہم سمجھا جاتا ہے۔ فی الحال آگ لگنے کی وجوہات کی تحقیقات جاری ہیں۔ انتظامیہ کو عمارت کی حفاظت، مرمت اور مستقبل میں اسے سیاحوں کے لیے دوبارہ کھولنے کے بارے میں فیصلہ کرنا ہوگا۔

Leave a comment