منگل کو عالمی اور مقامی منڈیوں میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ بین الاقوامی سطح پر قیمتی دھاتوں کی بڑھتی ہوئی طلب، محفوظ سرمایہ کاری کے ذرائع کی جانب سرمایہ کاروں کی بڑھتی ہوئی دلچسپی اور عالمی اقتصادی غیر یقینی صورتحال کے درمیان سونے اور چاندی دونوں کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔ اس کا براہ راست اثر بھارتی منڈیوں پر بھی دیکھا گیا، جہاں ملٹی کموڈٹی ایکسچینج (MCX) پر دونوں دھاتیں بلند سطح پر کاروبار کرتی نظر آئیں۔
قیمتی دھاتوں میں یہ اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سرمایہ کار عالمی شرح سود، مہنگائی کے رجحانات، جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور بڑے مرکزی بینکوں کی پالیسیوں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ مارکیٹ ماہرین کے مطابق ان عوامل نے سونے اور چاندی کو دوبارہ سرمایہ کاروں کے لیے پرکشش متبادل بنا دیا ہے۔
بین الاقوامی منڈی میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں اضافہ
بین الاقوامی کموڈٹی مارکیٹ کامیکس (COMEX) میں سونے اور چاندی دونوں کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ عالمی سطح پر سرمایہ کاروں کے محفوظ اثاثوں کی جانب رجوع کرنے سے سونے کی طلب میں اضافہ ہوا ہے۔ اقتصادی غیر یقینی صورتحال اور مالیاتی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ کے دوران سونے کو روایتی طور پر محفوظ سرمایہ کاری سمجھا جاتا ہے۔
کامیکس میں سونے کی قیمت تقریباً 0.61 فیصد بڑھ کر 4,115.40 ڈالر فی اونس تک پہنچ گئی۔ دوسری جانب چاندی تقریباً 1.78 فیصد اضافے کے ساتھ 58.885 ڈالر فی اونس کی سطح پر کاروبار کرتی نظر آئی۔
بھارتی فیوچرز مارکیٹ میں بھی قیمتوں میں اضافہ
بین الاقوامی منڈیوں میں قیمتوں میں اضافے کا اثر بھارتی فیوچرز مارکیٹ پر بھی واضح طور پر دیکھا گیا۔ ملٹی کموڈٹی ایکسچینج (MCX) پر سونے اور چاندی دونوں کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
سونا تقریباً 700 روپے کے اضافے کے ساتھ 1.43 لاکھ روپے فی 10 گرام کے قریب کاروبار کرتا نظر آیا۔ چاندی میں اس سے زیادہ اضافہ دیکھا گیا اور اس کی قیمت 2.19 لاکھ روپے فی کلوگرام کی سطح کے قریب پہنچ گئی۔ مقامی منڈی میں یہ اضافہ ظاہر کرتا ہے کہ عالمی اشاروں کے ساتھ بھارتی سرمایہ کاروں کی طلب بھی بلند سطح پر برقرار ہے۔
محفوظ سرمایہ کاری کے ذرائع میں سرمایہ کاروں کی دلچسپی بڑھی
مالیاتی ماہرین کے مطابق سونے اور چاندی کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کی ایک بڑی وجہ سرمایہ کاروں کی خطرے سے بچنے کی حکمت عملی ہے۔ جب شیئر بازاروں میں غیر یقینی صورتحال بڑھتی ہے یا عالمی معیشت سے متعلق خدشات گہرے ہوتے ہیں تو سرمایہ کار سونے اور چاندی جیسے محفوظ اثاثوں کی جانب رجوع کرتے ہیں۔
اس کے علاوہ ڈالر کی نقل و حرکت، امریکی فیڈرل ریزرو کی شرح سود کی پالیسی، عالمی مہنگائی کے اعداد و شمار اور بین الاقوامی سیاسی پیش رفت بھی قیمتی دھاتوں کی قیمتوں کو متاثر کرتی ہیں۔ اگر آنے والے دنوں میں عالمی اقتصادی غیر یقینی صورتحال برقرار رہتی ہے تو سونے اور چاندی کی قیمتوں میں مزید اتار چڑھاؤ دیکھا جا سکتا ہے۔
پیر، 3 اگست کو دن بھر قیمتوں میں اضافے کے بعد رات کے وقت سونے اور چاندی کی قیمتوں میں اچانک کمی ریکارڈ کی گئی تھی، جس کے باعث مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کی صورتحال برقرار رہی۔









