راجیہ سبھا میں MSME ڈیولپمنٹ ترمیمی بل 2026 منظور، ٹرن اوور کی حد 500 کروڑ روپے تک بڑھانے کی تجویز

راجیہ سبھا نے MSME ڈیولپمنٹ ترمیمی بل، 2026 کو صوتی ووٹ سے منظور کر لیا۔ بل میں MSME ٹرن اوور کی حد 500 کروڑ روپے تک بڑھانے، ڈیجیٹل رجسٹریشن کو آسان بنانے اور ادائیگی و تنازعات کے حل کے نظام میں تبدیلی کی شقیں شامل ہیں۔

راجیہ سبھا نے پیر کو مائیکرو، اسمال اور میڈیم انٹرپرائزز (MSME) کو فروغ دینے سے متعلق مائیکرو، اسمال اور میڈیم انٹرپرائزز ڈیولپمنٹ (ترمیمی) بل، 2026 کو صوتی ووٹ سے منظور کر لیا۔ بل کا مقصد ملک کے چھوٹے اور درمیانے کاروباری اداروں کو بہتر سہولیات فراہم کرنا، ادائیگی سے متعلق مسائل کو کم کرنا اور کاروبار کرنے کے عمل کو آسان بنانا ہے۔

یہ بل 2006 کے MSME ڈیولپمنٹ ایکٹ میں ترمیم کی تجویز پیش کرتا ہے۔ حکومت کے مطابق بدلتے کاروباری ماحول، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے بڑھتے استعمال اور نئی اقتصادی ضروریات کے پیش نظر موجودہ قانون میں اصلاحات ضروری ہو گئی تھیں۔

MSME رجسٹریشن کے عمل کو آسان بنانے کی تجویز

MSME ترمیمی بل، 2026 میں MSME یونٹس کے لیے رجسٹریشن کے عمل کو مزید آسان بنانے کی شق شامل کی گئی ہے۔ اس کے تحت مائیکرو، اسمال اور میڈیم انٹرپرائزز کے لیے ایک ڈیجیٹل پلیٹ فارم فراہم کیا جائے گا، جہاں کاروباری افراد رضاکارانہ اور مفت رجسٹریشن کر سکیں گے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل رجسٹریشن کے نظام سے چھوٹے کاروباری اداروں کو سرکاری اسکیموں کے فوائد حاصل کرنے میں آسانی ہوگی اور MSME شعبے میں رسمی شمولیت بڑھے گی۔

اس تبدیلی سے ان چھوٹے کاروباری اداروں کو بھی فائدہ ملنے کی توقع ہے جو پیچیدہ طریقہ کار کی وجہ سے اب تک سرکاری معاونت اور مالی سہولیات سے مکمل طور پر منسلک نہیں ہو سکے تھے۔

MSME ٹرن اوور کی حد 500 کروڑ روپے تک بڑھانے کی تجویز

MSME ترمیمی بل، 2026 میں اہم تبدیلیوں میں سے ایک کاروباری اداروں کی تعریف سے متعلق ہے۔ بل کے تحت MSME کے ٹرن اوور کی حد بڑھا کر 500 کروڑ روپے تک کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

اس تبدیلی سے زیادہ تعداد میں کاروبار MSME زمرے کے تحت آ سکیں گے اور انہیں حکومت کی مختلف اسکیموں، قرض کی سہولیات اور دیگر معاونتی پروگراموں کا فائدہ مل سکے گا۔ حکومت کے مطابق موجودہ اقتصادی حالات اور کاروباروں کی توسیع کو دیکھتے ہوئے MSME کی پرانی تعریف میں ترمیم ضروری تھی۔

ادائیگی میں تاخیر کے مسئلے کے لیے TReDS کے استعمال کی شق

MSME شعبے کو درپیش اہم چیلنجز میں سے ایک بروقت ادائیگی نہ ملنا ہے۔ کئی چھوٹے کاروباری اداروں کو بڑی کمپنیوں اور اداروں کی جانب سے ادائیگی میں تاخیر کے باعث نقدی کے بحران کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

نئے بل میں اس مسئلے کے حل کے لیے ادائیگی کے نظام کو مضبوط بنانے کی شق شامل کی گئی ہے۔ اس کے تحت مرکزی سرکاری شعبے کے اداروں (CPSEs) کو MSME یونٹس سے خریدی گئی اشیا اور خدمات کی ادائیگی کے لیے TReDS (Trade Receivables Electronic Discounting System) پلیٹ فارم استعمال کرنا ہوگا۔

اس کے علاوہ ریاستوں کو بھی اپنے سرکاری شعبے کے اداروں کے لیے اسی نوعیت کا نظام نافذ کرنے کی شقیں متعارف کرانے کی ترغیب دی گئی ہے۔ اس اقدام سے چھوٹے کاروباری اداروں کے نقدی کے بہاؤ سے متعلق مسائل کو کم کرنے اور کاروباری لین دین کو زیادہ شفاف بنانے میں مدد ملنے کی توقع ہے۔

MSME ادائیگی تنازعات کے حل کے لیے مدت مقرر

بل میں MSME ادائیگی تنازعات کے تصفیے کے لیے واضح مدت مقرر کی گئی ہے۔ مجوزہ نظام کے مطابق مائیکرو اور اسمال انٹرپرائزز فیسلیٹیشن کونسل یا کسی ثالثی خدمات فراہم کرنے والے ادارے کے سامنے پہلی سماعت کے بعد 90 دن کے اندر ثالثی کا عمل مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

اگر ثالثی کامیاب نہیں ہوتی تو 30 دن کے اندر آربیٹریشن، یعنی ثالثی فیصلے کا عمل، شروع کرنا ہوگا۔ اس کے بعد فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے 90 دن کے اندر فیصلہ جاری کرنے کی شق شامل کی گئی ہے۔

حکومت کا دعویٰ ہے کہ اس سے طویل عرصے تک جاری رہنے والے ادائیگی کے تنازعات کو تیزی سے حل کرنے میں مدد ملے گی۔

MSME شعبے میں خواتین کی شمولیت تقریباً 39 فیصد

بل پر بحث کے دوران MSME وزیر جیتن رام مانجھی نے کہا کہ چھوٹے اور درمیانے کاروباری ادارے بھارتی معیشت کے اہم ستون ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ شعبہ روزگار کے مواقع پیدا کرنے، جدت اور برآمدات میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ چند برسوں میں MSME شعبے کو ملنے والے قرضوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ حکومت کا مقصد اس شعبے کو درپیش موجودہ چیلنجز کو دور کرنا، انتظامی طریقہ کار کو آسان بنانا اور کاروبار کے لیے بہتر ماحول تیار کرنا ہے۔

وزیر نے یہ بھی بتایا کہ MSME شعبے میں خواتین کی شمولیت بڑھ کر تقریباً 39 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ حکومت خواتین کے ساتھ ساتھ تھرڈ جینڈر کاروباری افراد کی حوصلہ افزائی کے لیے بھی کام کر رہی ہے۔

Leave a comment