گوگل میپس نے 21 برسوں میں بحران زدہ اسٹارٹ اپ سے عالمی نیویگیشن پلیٹ فارم تک کا سفر طے کیا

گوگل میپس نے 21 برسوں میں بحران زدہ اسٹارٹ اپ سے عالمی نیویگیشن پلیٹ فارم تک کا سفر طے کیا

گوگل میپس نے 21 برسوں میں ایک بحران زدہ اسٹارٹ اپ سے دنیا کے سب سے بڑے نیویگیشن پلیٹ فارم تک کا سفر طے کیا ہے۔ انٹرایکٹو میپ ٹیکنالوجی، مسلسل اپ گریڈز اور مضبوط ریونیو ماڈل کے باعث یہ پلیٹ فارم آج الفابیٹ کے لیے ہزاروں کروڑ روپے کی آمدنی کا ایک اہم ذریعہ بن چکا ہے۔

دنیا کا مقبول ترین نیویگیشن پلیٹ فارم گوگل میپس آج 21 سال مکمل کر چکا ہے۔ اس کی بنیاد آسٹریلیا کے Where2 نامی اسٹارٹ اپ سے پڑی، جسے لارس اور جینس راسموسن بھائیوں نے قائم کیا تھا۔ فنڈنگ بحران کے دوران گوگل نے اس اسٹارٹ اپ کو حاصل کیا اور 2005 میں اسے براؤزر بیسڈ میپ کے طور پر لانچ کیا۔ انٹرایکٹو میپس، سیٹلائٹ امیجری اور بعد ازاں موبائل، جی پی ایس اور اے آئی فیچرز کے اضافے نے اسے عالمی سطح پر روزمرہ کی ضرورت بنا دیا

Where2 کے ذریعے گوگل میپس کی ابتدائی بنیاد رکھی گئی، اس دور میں MapQuest جیسے جامد نقشے عام تھے، تاہم Where2 نے انٹرایکٹو اور ڈریگ کیے جانے والے میپس کا تصور پیش کیا۔ ابتدائی پروڈکٹ Expedition ایک ڈیسک ٹاپ ایپلی کیشن تھی جسے ڈاؤن لوڈ کرنا پڑتا تھا۔

فنڈنگ رکنے کے بعد یہ اسٹارٹ اپ بحران کا شکار ہو گیا۔ اسی دوران گوگل کے شریک بانی لیری پیج کی نظر اس ٹیکنالوجی پر پڑی۔ گوگل نے Where2 کو خرید کر اسے براؤزر بیسڈ پلیٹ فارم میں تبدیل کیا، جو بعد میں گوگل میپس کی بنیاد بنا۔

2005 میں باضابطہ لانچ سے قبل گوگل میپس کے لیک ہونے نے صارفین کو پہلی مرتبہ ہموار اور ڈریگ کیے جانے والے ڈیجیٹل میپس سے متعارف کرایا۔ بعد ازاں اس میں سیٹلائٹ امیجری، لوکیشن لیئرز اور ڈیولپر اے پی آئی جیسے فیچرز شامل کیے گئے۔

موبائل ایپ، ریئل ٹائم ٹریفک، جی پی ایس نیویگیشن اور اے آئی پر مبنی روٹ آپٹمائزیشن نے گوگل میپس کو روزمرہ استعمال کا لازمی ٹول بنا دیا۔ 2006 تک یہ دنیا کا سب سے بڑا میپ فراہم کنندہ بن چکا تھا اور آج بھی ٹیکنالوجی اور ڈیٹا کے وسیع پیمانے کے باعث اپنی موجودگی برقرار رکھے ہوئے ہے۔

گوگل میپس اب محض نیویگیشن ایپ نہیں بلکہ ایک مستحکم ریونیو پلیٹ فارم بن چکا ہے۔ رپورٹس کے مطابق 2019 میں اس کی آمدنی تقریباً 3 ارب ڈالر تھی، جو 2023 تک بڑھ کر 11 ارب ڈالر، یعنی تقریباً ایک لاکھ کروڑ روپے سے تجاوز کر گئی۔

آمدنی کا بڑا حصہ اشتہارات سے حاصل ہوتا ہے۔ میپس پر دکھائے جانے والے اشتہارات، پروموٹڈ پنز اور اسپانسرڈ رزلٹس کے لیے کمپنیاں ادائیگی کرتی ہیں۔ اس کے علاوہ گوگل میپس اے پی آئی اور لوکیشن سروسز کے استعمال کے لیے ڈیولپرز اور کاروباری اداروں سے فیس وصول کی جاتی ہے، جس سے یہ پلیٹ فارم مسلسل مالی طور پر مضبوط ہو رہا ہے۔

Leave a comment