مرکزی حکومت نے انشورنس سیکٹر میں 100% براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (FDI) کو آٹومیٹک روٹ کے تحت اجازت دے دی ہے، جس کے بعد غیر ملکی کمپنیاں اب بھارتی انشورنس کمپنیوں میں مکمل حصص حاصل کر سکیں گی۔ تاہم، لائف انشورنس کارپوریشن آف انڈیا (LIC) کے لیے FDI کی حد 20% ہی برقرار رکھی گئی ہے۔
حکومت کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق، آٹومیٹک روٹ کے تحت سرمایہ کاری کرنے کے لیے غیر ملکی سرمایہ کاروں کو اب حکومت یا ریزرو بینک آف انڈیا سے پیشگی منظوری لینے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ ایسی سرمایہ کاری حاصل کرنے والی کمپنیوں کو انشورنس ریگولیٹری اینڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی آف انڈیا (IRDAI) سے ضروری لائسنس اور منظوری حاصل کرنا ہوگی اور انشورنس ایکٹ، 1938 کی دفعات پر عمل کرنا ہوگا۔
بھارتی کنٹرول اور نگرانی کو یقینی بنانے کے لیے کچھ شرائط بھی نافذ کی گئی ہیں۔ نئے قواعد کے مطابق، متعلقہ انشورنس کمپنی میں چیئرمین، منیجنگ ڈائریکٹر (MD) یا چیف ایگزیکٹو آفیسر (CEO) میں سے کم از کم ایک فرد کا بھارتی شہری ہونا لازمی ہوگا۔ اس شرط کا مقصد ریگولیٹری توازن اور قومی نگرانی کو برقرار رکھنا ہے۔
لائف انشورنس کارپوریشن آف انڈیا (LIC) کو اس ترمیم شدہ FDI فریم ورک سے الگ رکھا گیا ہے۔ LIC میں سرمایہ کاری لائف انشورنس کارپوریشن آف انڈیا ایکٹ، 1956 اور انشورنس ایکٹ، 1938 کے تحت ہی جاری رہے گی، اور غیر ملکی سرمایہ کاری کی حد 20% پر برقرار رہے گی۔
اس پالیسی تبدیلی کا اطلاق انشورنس انٹرمیڈیئریز پر بھی ہوگا، جنہیں اب 100% غیر ملکی سرمایہ کاری کی اجازت دی گئی ہے۔ ان میں انشورنس بروکرز، ری انشورنس بروکرز، انشورنس کنسلٹنٹس، کارپوریٹ ایجنٹس اور تھرڈ پارٹی ایڈمنسٹریٹرز شامل ہیں۔ اس کے علاوہ سروئیرز، لاس اسیسّرز، منیجنگ جنرل ایجنٹس اور انشورنس ریپوزٹریز بھی اس پالیسی کے دائرے میں آئیں گے۔
اس پالیسی تبدیلی کی بنیاد دسمبر 2025 میں رکھی گئی تھی، جب پارلیمنٹ نے ‘سب کا بیمہ، سب کی رکھشا (انشورنس قوانین ترمیمی بل) 2025’ کی منظوری دی تھی۔ اس قانون کے تحت انشورنس ایکٹ، 1938، لائف انشورنس کارپوریشن آف انڈیا ایکٹ، 1956 اور انشورنس ریگولیٹری اینڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی آف انڈیا ایکٹ، 1999 میں ترامیم کی گئی تھیں۔
اس کے علاوہ، بھارت کے ساتھ زمینی سرحدیں رکھنے والے ممالک سے آنے والی سرمایہ کاری کے قواعد میں بھی نرمی دی گئی ہے۔ کابینہ نے ‘پریس نوٹ 3’ فریم ورک میں ترمیم کرتے ہوئے 10% تک کی نان کنٹرولنگ حصص والی سرمایہ کاری کو آٹومیٹک روٹ کے تحت اجازت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ پہلے ایسے ممالک سے آنے والی ہر سرمایہ کاری کے لیے حکومتی پیشگی منظوری ضروری تھی۔
‘پریس نوٹ 3’ 2020 میں متعارف کرایا گیا ایک ریگولیٹری فریم ورک ہے، جس کا مقصد بھارت کے ساتھ زمینی سرحدیں رکھنے والے ممالک سے آنے والی سرمایہ کاری کی نگرانی کرنا تھا، خاص طور پر قومی سلامتی اور حساس شعبوں میں غیر ملکی کنٹرول کو روکنے کے لیے۔









