یکم جون سے نیٹ میٹرنگ اور اوپن ایکسیس شمسی منصوبوں میں مقامی سولر سیلز کا استعمال لازمی

بھارت نے یکم جون سے نیا شمسی ضابطہ نافذ کیا ہے جس کے تحت نیٹ میٹرنگ، اوپن ایکسیس اور بعض شمسی منصوبوں میں صرف بھارت میں تیار کردہ سولر سیلز استعمال کیے جائیں گے۔ اس اقدام کا مقصد مقامی مینوفیکچرنگ کو فروغ دینا اور درآمدات پر انحصار کم کرنا ہے۔

بھارت میں یکم جون سے شمسی توانائی کے شعبے کے لیے نیا ضابطہ نافذ کر دیا گیا ہے، جس کے تحت نیٹ میٹرنگ اور اوپن ایکسیس منصوبوں میں استعمال ہونے والے سولر ماڈیولز کے اندر صرف بھارت میں تیار کردہ سولر سیلز ہی استعمال کیے جا سکیں گے۔ اس فیصلے کا مقصد مقامی پیداوار کو مضبوط بنانا اور درآمدات پر انحصار کم کرنا ہے، تاہم ابتدائی مرحلے میں اس سے لاگت اور سپلائی سے متعلق چیلنجز بڑھنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

یکم جون سے نافذ ہونے والی اس تبدیلی کا براہِ راست اثر روف ٹاپ سولر منصوبوں، اوپن ایکسیس منصوبوں اور پی ایم سوریہ گھر اسکیم کے تحت نصب کیے جانے والے نظاموں پر پڑ سکتا ہے۔ نئے ضابطے کے مطابق ان زمروں میں استعمال ہونے والے سولر ماڈیولز کے اندر نصب سولر سیلز بھی اب صرف بھارت میں تیار شدہ اور حکومت سے منظور شدہ کمپنیوں سے حاصل کیے جائیں گے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد مقامی شمسی مینوفیکچرنگ کو فروغ دینا اور درآمدی مصنوعات پر انحصار کم کرنا ہے۔

مقامی شمسی صنعت کو مضبوط بنانے پر توجہ

بھارت نے گزشتہ چند برسوں کے دوران شمسی توانائی کی پیداوار کو فروغ دینے کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں۔ ملک کی سولر ماڈیول مینوفیکچرنگ صلاحیت میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے، لیکن سولر سیل کی پیداوار اب بھی طلب کے مقابلے میں کم ہے۔ موجودہ وقت میں ملک کی سالانہ سولر سیل مینوفیکچرنگ صلاحیت تقریباً 25 سے 30 گیگاواٹ بتائی جاتی ہے، جبکہ مجموعی طلب اس سے کہیں زیادہ ہے۔

اسی فرق کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت چاہتی ہے کہ مقامی کمپنیاں سولر سیل مینوفیکچرنگ میں مزید سرمایہ کاری کریں۔ نئے ضابطے کے نتیجے میں بھارتی سولر سیل مینوفیکچررز کی مصنوعات کی طلب بڑھنے کی توقع کی جا رہی ہے، جس سے مستقبل میں ملکی پیداواری صلاحیت مضبوط ہو سکتی ہے اور غیر ملکی سپلائی چینز پر انحصار کم ہو سکتا ہے۔

صارفین کے لیے لاگت میں اضافے کا امکان

اس تبدیلی کا سب سے نمایاں اثر لاگت پر پڑ سکتا ہے۔ صنعت سے وابستہ ماہرین کے مطابق بھارتی سولر سیلز کی قیمت فی الحال درآمد شدہ سیلز کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ اس کے نتیجے میں روف ٹاپ سولر سسٹمز کی مجموعی لاگت میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

اندازوں کے مطابق سولر تنصیبات کی قیمت تقریباً 3,000 روپے فی کلوواٹ تک بڑھ سکتی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ اگر کوئی صارف 5 کلوواٹ کا روف ٹاپ سولر سسٹم نصب کرتا ہے تو اسے تقریباً 15,000 روپے اضافی خرچ کرنا پڑ سکتے ہیں۔ تاہم پی ایم سوریہ گھر اسکیم کے تحت فراہم کی جانے والی سبسڈی جاری رہے گی، جس سے صارفین کو کچھ حد تک ریلیف مل سکتا ہے۔

سپلائی چین اور چھوٹے مینوفیکچررز کو درپیش چیلنجز

نئے ضابطے کے حوالے سے صنعت کے بعض حلقوں نے تشویش کا اظہار بھی کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مقامی سولر سیل پیداوار ابھی تک موجودہ طلب کے مطابق نہیں ہے۔ اگر آنے والے مہینوں میں سولر منصوبوں کی تعداد تیزی سے بڑھتی ہے تو سیلز کی دستیابی پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔

سب سے زیادہ اثر چھوٹے اور درمیانے درجے کے ماڈیول مینوفیکچررز پر پڑنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ یہ کمپنیاں خود سولر سیلز تیار نہیں کرتیں بلکہ بڑے مینوفیکچررز سے سیلز خرید کر ماڈیولز تیار کرتی ہیں۔ محدود سپلائی اور بڑھتی ہوئی طلب کے باعث انہیں زیادہ قیمت ادا کرنا پڑ سکتی ہے، جس سے ان کی مسابقتی پوزیشن کمزور ہو سکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق مختصر مدت میں یہ تبدیلی لاگت اور سپلائی سے متعلق مسائل پیدا کر سکتی ہے، لیکن طویل مدت میں اس سے بھارت کا شمسی مینوفیکچرنگ ماحولیاتی نظام مضبوط ہونے کی توقع ہے۔ اگر مقامی پیداواری صلاحیت تیزی سے بڑھتی ہے تو ملک توانائی کے تحفظ کے ساتھ ساتھ عالمی شمسی منڈی میں بھی اپنی پوزیشن کو مزید مضبوط بنا سکتا ہے۔ فی الحال صنعت اور صارفین دونوں اس نئی پالیسی کے اثرات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔

Leave a comment