میواڑ یونیورسٹی میں نئے داخلوں پر پابندی، جعلی ڈگریوں اور بے ضابطگیوں کی تحقیقات جاری

چتوڑ گڑھ کی میواڑ یونیورسٹی میں جعلی ڈگریوں کی تقسیم اور انتظامی بے ضابطگیوں سے متعلق تحقیقات جاری ہیں، جس کے پیش نظر راجستھان حکومت نے نئے داخلوں پر عارضی پابندی عائد کر دی ہے۔ محکمۂ اعلیٰ تعلیم نے شوکاز نوٹس جاری کیا ہے جبکہ یونیورسٹی انت

راجستھان حکومت نے چتوڑ گڑھ میں واقع میواڑ یونیورسٹی میں نئے داخلوں پر عارضی پابندی عائد کر دی ہے۔ جعلی ڈگریوں کی تقسیم اور انتظامی بے ضابطگیوں سے متعلق جاری تحقیقات کے دوران کیے گئے اس فیصلے نے ہزاروں طلبہ اور والدین میں غیر یقینی صورتحال پیدا کر دی ہے۔

میواڑ یونیورسٹی میں نئے داخلوں پر پابندی کے راجستھان حکومت کے فیصلے نے طلبہ اور والدین کی تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔ یونیورسٹی کے خلاف جعلی ڈگریوں کے اجرا اور دیگر انتظامی بے ضابطگیوں کے الزامات کی تحقیقات جاری ہیں۔ تحقیقاتی رپورٹ کی بنیاد پر محکمۂ اعلیٰ تعلیم نے کارروائی کا آغاز کر دیا ہے اور حتمی فیصلہ ہونے تک نئے داخلوں پر پابندی نافذ کر دی گئی ہے۔

تحقیقاتی رپورٹ کے بعد حکومتی اقدام

چتوڑ گڑھ ضلع کے گنگرار علاقے میں واقع میواڑ یونیورسٹی ایک بار پھر تنازعات کے مرکز میں آ گئی ہے۔ راجستھان حکومت نے یونیورسٹی میں نئے داخلوں کو روکنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ اقدام یونیورسٹی کے خلاف طویل عرصے سے موصول ہونے والی شکایات اور تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ کے بعد اٹھایا گیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے اور تمام حقائق کا جائزہ لینے تک نئے طلبہ کو داخلہ دینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

ادے پور ڈویژنل کمشنر کی سربراہی میں قائم خصوصی تحقیقاتی کمیٹی نے حال ہی میں اپنی رپورٹ ریاستی حکومت کو پیش کی تھی۔ رپورٹ میں سامنے آنے والی مبینہ بے ضابطگیوں کی بنیاد پر محکمۂ اعلیٰ تعلیم نے یونیورسٹی کو شوکاز نوٹس جاری کیا ہے۔ یونیورسٹی انتظامیہ اپنا جواب حکومت کو جمع کرا چکی ہے، جس کا فی الحال جائزہ لیا جا رہا ہے۔

جعلی ڈگریوں اور منظوری کے تنازع نے مشکلات بڑھائیں

میواڑ یونیورسٹی پر اس سے قبل بھی جعلی ڈگریاں جاری کرنے کے الزامات لگ چکے ہیں۔ اسی معاملے میں تحقیقاتی ادارے سرگرم ہیں اور بعض سابق عہدیداروں اور ملازمین کے خلاف کارروائی بھی کی جا چکی ہے۔ تحقیقات کا دائرہ وسیع ہونے کے ساتھ یونیورسٹی کے طرزِ عمل پر مزید سوالات اٹھ رہے ہیں۔

اس کے علاوہ رواں سال بی ایس سی نرسنگ کورس کے حوالے سے بھی تنازع سامنے آیا تھا۔ طلبہ کا الزام تھا کہ جس کورس میں انہیں داخلہ دیا گیا، اسے متعلقہ ریگولیٹری اداروں سے مطلوبہ منظوری حاصل نہیں تھی۔ اس مسئلے پر طلبہ نے احتجاج کیا تھا اور معاملہ پولیس تک پہنچ گیا تھا۔ اس پیش رفت نے یونیورسٹی کے انتظامی نظام پر مزید سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

طلبہ اور والدین میں تشویش

یونیورسٹی میں 10 ہزار سے زائد طلبہ زیرِ تعلیم ہیں۔ نئے داخلوں پر پابندی کے بعد مستقبل میں داخلہ لینے کی تیاری کرنے والے طلبہ اور ان کے خاندانوں میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔ متعدد طلبہ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد داخلہ عمل کب دوبارہ شروع ہوگا اور موجودہ طلبہ کی تعلیم پر اس کے کیا اثرات مرتب ہوں گے۔

تاہم حکومت نے واضح کیا ہے کہ فی الحال یہ اقدام صرف نئے داخلوں تک محدود ہے اور تحقیقات مکمل ہونے کے بعد آئندہ کارروائی کا فیصلہ کیا جائے گا۔

ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کی تیاری

یونیورسٹی انتظامیہ نے حکومت کے فیصلے پر اعتراض ظاہر کیا ہے۔ یونیورسٹی کے چیئرمین نے کہا ہے کہ ادارے کے خلاف ابھی تک کوئی حتمی نتیجہ سامنے نہیں آیا اور تحقیقاتی عمل جاری ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر کسی فرد نے ذاتی سطح پر کوئی غلط کام کیا ہے تو اس کی ذمہ داری پوری یونیورسٹی پر عائد نہیں کی جا سکتی۔

انتظامیہ نے اشارہ دیا ہے کہ نئے داخلوں پر عائد پابندی کو عدالت میں چیلنج کیا جا سکتا ہے۔ ایسے میں اب تمام نظریں حکومت کے آئندہ اقدامات اور ممکنہ عدالتی کارروائی پر مرکوز ہیں۔ آنے والے دنوں میں یہ معاملہ طلبہ، والدین اور اعلیٰ تعلیم کے شعبے کے لیے اہمیت کا حامل رہ سکتا ہے۔

Leave a comment