مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات اب جنوبی ایشیائی معیشتوں پر واضح طور پر ظاہر ہونے لگے ہیں۔ بھارت میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جبکہ پاکستان نے ایندھن کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کیا ہے۔
ایران نے جنگ کے خاتمے کی کوششوں کے تحت اپنے انتہائی افزودہ یورینیم کو ہٹانے پر آمادگی ظاہر کی ہے، جس کے بعد امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدے کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔ امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ معاہدے اور دوبارہ فوجی کارروائی دونوں کے امکانات “50-50” ہیں۔
بھارت میں پیٹرول کی قیمت میں فی لیٹر ₹0.87 اور ڈیزل کی قیمت میں ₹0.91 کا اضافہ ہوا ہے۔ قومی دارالحکومت نئی دہلی میں پیٹرول کی قیمت ₹99.51 فی لیٹر جبکہ ڈیزل ₹92.49 فی لیٹر تک پہنچ گیا ہے۔
دوسری جانب پاکستانی حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں 6 پاکستانی روپے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 6.80 روپے کمی کا اعلان کیا ہے۔
ماہرین کے مطابق عالمی تیل مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ، آبنائے ہرمز کے حوالے سے خدشات اور سپلائی چین پر دباؤ کے باعث آنے والے دنوں میں ایندھن کی قیمتوں میں مزید تبدیلیاں دیکھنے کو مل سکتی ہیں۔
بھارت میں مسلسل دوسری بار ایندھن کی قیمتوں میں اضافے نے عوام اور ٹرانسپورٹ سیکٹر پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔ آئل کمپنیوں کی جانب سے جاری کردہ نئی قیمتوں کے مطابق دہلی میں پیٹرول ₹99.51 فی لیٹر اور ڈیزل ₹92.49 فی لیٹر فروخت ہو رہا ہے۔
ممبئی، کولکاتا اور چنئی سمیت دیگر بڑے شہروں میں بھی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ٹرانسپورٹ کمپنیوں کا کہنا ہے کہ ڈیزل مہنگا ہونے سے مال برداری کے اخراجات بڑھیں گے، جس کا اثر خوراک، زرعی اجناس اور روزمرہ استعمال کی اشیا کی قیمتوں پر پڑ سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق بھارت اپنی توانائی کی ضروریات کا بڑا حصہ درآمدی خام تیل کے ذریعے پورا کرتا ہے، اس لیے عالمی منڈی میں تیل مہنگا ہونے کا براہِ راست اثر مقامی ایندھن کی قیمتوں پر پڑتا ہے۔
ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان حالیہ کشیدگی نے عالمی تیل مارکیٹ کو متاثر کیا ہے۔ آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین تیل ترسیلی راستوں میں شمار ہوتی ہے اور وہاں کسی بھی قسم کی غیر یقینی صورتحال سپلائی پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔
مارکیٹ تجزیہ کاروں کے مطابق اگر خطے میں فوجی کشیدگی میں اضافہ ہوتا ہے یا تیل کی سپلائی متاثر ہوتی ہے تو خام تیل کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں، جس کا براہِ راست اثر بھارت جیسے درآمدی معیشتوں پر پڑے گا۔
بھارتی حکومت اس وقت مارکیٹ کی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے، تاہم مسلسل بڑھتی ہوئی ایندھن کی قیمتوں کے باعث مہنگائی پر اضافی دباؤ کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔
پاکستانی حکومت کا کہنا ہے کہ عالمی مارکیٹ میں کچھ استحکام اور زرِ مبادلہ کی شرح میں بہتری کے باعث ایندھن کی قیمتوں میں کمی ممکن ہوئی ہے۔ تاہم پاکستان اب بھی اقتصادی چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے اور توانائی کی درآمدات پر انحصار برقرار ہے۔
اقتصادی ماہرین کے مطابق پاکستان میں ایندھن کی قیمتوں میں کمی کا مقصد گھریلو مہنگائی کو کنٹرول کرنا اور عوام کو ریلیف فراہم کرنا بھی ہے۔
بھارت میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات صرف گاڑی چلانے والوں تک محدود نہیں ہیں۔ پیٹرول اور ڈیزل مہنگا ہونے سے ٹرانسپورٹیشن لاگت میں اضافہ ہوتا ہے، جس کے نتیجے میں خوراک، تعمیراتی سامان اور دیگر ضروری اشیا کی قیمتیں بھی متاثر ہوتی ہیں۔
خصوصی طور پر ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ زرعی شعبے کے لیے تشویش کا باعث سمجھا جا رہا ہے، کیونکہ ٹریکٹر، آبپاشی پمپ اور مال برداری میں ڈیزل کا وسیع استعمال ہوتا ہے۔
ماہرینِ معاشیات کے مطابق اگر عالمی خام تیل کی قیمتیں طویل عرصے تک بلند سطح پر برقرار رہتی ہیں تو بھارت کی ریٹیل مہنگائی کی شرح پر اضافی دباؤ پڑ سکتا ہے۔
بڑھتی ہوئی ایندھن لاگت کے درمیان بھارتی مرکزی حکومت نے ملک بھر میں 100 نئے انڈسٹریل پارکس تیار کرنے کے منصوبے کا اعلان کیا ہے۔
حکومت کے مطابق اس منصوبے کا مقصد مینوفیکچرنگ سیکٹر کو مضبوط کرنا، سرمایہ کاری کو راغب کرنا اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔ ان انڈسٹریل پارکس کو لاجسٹکس، ایکسپورٹ انفراسٹرکچر اور جدید صنعتی سہولیات سے منسلک کیا جائے گا۔
صنعتی ماہرین کے مطابق اگر اس منصوبے کو مؤثر انداز میں نافذ کیا جاتا ہے تو اس سے بھارت کی مینوفیکچرنگ صلاحیت میں اضافہ ہو سکتا ہے اور عالمی سپلائی چین میں ملک کا کردار مضبوط ہو سکتا ہے۔
تاہم صنعتی شعبے کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ بڑھتی ہوئی توانائی لاگت پیداواری اخراجات کو بھی متاثر کر سکتی ہے، اس لیے صنعتی ترقی اور مہنگائی کنٹرول کے درمیان توازن برقرار رکھنا ضروری ہوگا۔
عالمی سرمایہ کار اور توانائی کمپنیاں اس وقت مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، خصوصاً آبنائے ہرمز پر جہاں سے دنیا کے بڑے حصے کا تیل گزرتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کم ہوتی ہے تو تیل مارکیٹ میں استحکام واپس آ سکتا ہے۔ تاہم اگر جغرافیائی سیاسی صورتحال مزید خراب ہوتی ہے تو خام تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
اس کے اثرات ایشیا، یورپ اور امریکہ سمیت دنیا کی بڑی معیشتوں پر پڑ سکتے ہیں۔
بھارت میں ایندھن کی نئی قیمتوں نے نجی گاڑی مالکان، ٹیکسی آپریٹرز، ٹرک کمپنیوں اور بس سروسز کے آپریشنل اخراجات میں اضافہ کر دیا ہے۔
بھارت کی کئی ریاستوں میں پہلے ہی زیادہ ٹیکسوں کے باعث ایندھن مہنگا ہے، جس کے بعد عوام حکومت سے ٹیکس ریلیف یا دیگر اقدامات کی توقع کر رہے ہیں۔
پاکستان میں قیمتوں میں کمی سے عوام کو عارضی ریلیف ملا ہے، تاہم اقتصادی عدم استحکام اور مہنگائی اب بھی ملک کے بڑے چیلنجز میں شامل ہیں۔
توانائی ماہرین کے مطابق آنے والے چند ہفتے عالمی تیل مارکیٹ کے لیے انتہائی اہم ہوں گے۔ اگر مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کم ہوتی ہے اور تیل کی سپلائی معمول کے مطابق رہتی ہے تو قیمتوں میں استحکام آ سکتا ہے۔
تاہم اگر جغرافیائی سیاسی بحران مزید گہرا ہوتا ہے تو بھارت سمیت کئی ممالک میں ایندھن اور مہنگائی کا دباؤ مزید بڑھ سکتا ہے۔ عالمی مارکیٹیں اس وقت تیل سپلائی، امریکہ-ایران تعلقات اور عالمی سپلائی چین کی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔








