مغربی ایشیا میں جاری ایران–امریکہ کشیدگی کے درمیان بھارتی روپیہ مسلسل دباؤ کا شکار ہے۔ امریکی ڈالر کے مقابلے میں روپے کی کمزوری نے پالیسی سازوں کی تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔ عالمی منڈیوں میں عدم استحکام، جغرافیائی سیاسی تناؤ اور عالمی غیر یقینی صورتحال کے باعث بھارت کی اقتصادی حالت پر اضافی دباؤ بڑھ گیا ہے۔
بھارتی ریزرو بینک (RBI) نے اشارہ دیا ہے کہ کرنسی مارکیٹ میں استحکام لانے کے لیے وہ 2013 کی عالمی اقتصادی بے یقینی کے دوران اپنائی گئی حکمت عملیوں کو دوبارہ نافذ کرنے پر غور کر سکتا ہے۔
ماہرین اقتصادیات کے مطابق روپے کی کمزوری کے پیچھے کئی عالمی اور گھریلو عوامل کارفرما ہیں۔ بین الاقوامی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ، غیر ملکی سرمایہ کاروں کی محتاط حکمت عملی اور ابھرتی ہوئی معیشتوں سے سرمایہ کے انخلا کو اہم وجوہات قرار دیا جا رہا ہے۔ درآمدات پر انحصار کرنے والے بھارت کے لیے ڈالر کی مضبوطی براہ راست روپے پر دباؤ میں اضافہ کر رہی ہے۔
عالمی غیر یقینی صورتحال کے باعث سرمایہ کار محفوظ اثاثوں کی طرف منتقل ہو رہے ہیں، جس سے ابھرتی ہوئی معیشتوں کی کرنسیوں پر مزید دباؤ بڑھ رہا ہے۔
ذرائع اور موجودہ اقتصادی اشاروں کے مطابق RBI روپے کو مستحکم کرنے کے لیے 2013 کے ’ٹیپر ٹینٹرم‘ بحران کے دوران اختیار کیے گئے اقدامات کو دوبارہ نافذ کرنے پر غور کر رہا ہے۔ اس وقت امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے لیکویڈیٹی کم کرنے کے اشارے کے بعد عالمی منڈیوں سے بڑے پیمانے پر سرمایہ نکلنا شروع ہو گیا تھا، جس کے نتیجے میں بھارتی کرنسی شدید دباؤ کا شکار ہو گئی تھی۔
’ٹیپر ٹینٹرم‘ اس صورتحال کو کہا جاتا ہے جب امریکی مرکزی بینک فیڈرل ریزرو مارکیٹ سے اضافی لیکویڈیٹی واپس لینا شروع کرتا ہے۔ اس کے نتیجے میں عالمی سرمایہ کار خطرناک منڈیوں سے سرمایہ نکال کر امریکہ جیسے محفوظ بازاروں میں سرمایہ کاری کرنے لگتے ہیں۔ اس کا اثر ابھرتی ہوئی معیشتوں پر پڑتا ہے، جہاں مقامی کرنسی کمزور ہو جاتی ہے، شیئر بازار میں گراوٹ آتی ہے، ڈالر کی طلب بڑھ جاتی ہے اور غیر ملکی سرمایہ کاری کم ہو جاتی ہے۔ بھارت نے 2013 میں اسی نوعیت کی صورتحال کا سامنا کیا تھا۔
2013 کے بحران کے دوران RBI نے مارکیٹ میں ڈالر فروخت کر کے روپے کو سہارا دیا تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ قلیل مدتی شرح سود میں سختی، غیر ملکی سرمایہ کے بہاؤ کو بڑھانے کے لیے خصوصی اسکیمیں اور لیکویڈیٹی مینجمنٹ کے سخت اقدامات نافذ کیے گئے تھے۔ ان اقدامات کا مقصد زرمبادلہ مارکیٹ میں توازن برقرار رکھنا اور روپے کی تیز گراوٹ کو روکنا تھا۔










