بدھ، 28 اکتوبر 2026 کو بھارتی شیئر بازار میں دن بھر اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا۔ صبح بڑی گراوٹ کے ساتھ کھلنے والے سینسیکس اور نفٹی نے کاروبار کے دوران کچھ نقصانات کی تلافی کی، لیکن بازار بند ہونے تک دونوں انڈیکس سرخ نشان میں ہی رہے۔ آئی ٹی کمپنیوں اور ریلائنس انڈسٹریز کے شیئرز میں فروخت کے دباؤ نے بازار کو متاثر کیا۔ دوسری جانب، ایل اینڈ ٹی، ٹرینٹ اور منتخب بینکنگ شیئرز میں خریداری نے گراوٹ کو کسی حد تک محدود رکھا۔
سینسیکس 352 پوائنٹس ٹوٹا، نفٹی 22,700 سے نیچے بند
بدھ کو بی ایس ای سینسیکس 352.64 پوائنٹس یعنی 0.48 فیصد گر کر 73,246.03 پر بند ہوا۔ وہیں، این ایس ای نفٹی 50 میں 50.90 پوائنٹس یا 0.22 فیصد کی کمزوری درج کی گئی اور یہ 22,698.85 پر بند ہوا۔ اس سے قبل منگل کو بھی دونوں اہم انڈیکس معمولی گراوٹ کے ساتھ بند ہوئے تھے۔ مسلسل دوسرے دن کمزوری برقرار رہنے کے باعث بازار میں سرمایہ کاروں کا رجحان محتاط رہا۔
تاہم، بدھ کی گراوٹ بنیادی طور پر چند بڑی کمپنیوں تک محدود رہی۔ نفٹی کی 50 کمپنیوں میں سے 26 کے شیئرز اضافے کے ساتھ بند ہوئے، جبکہ 24 کمپنیوں میں گراوٹ رہی۔ اس کے مقابلے میں سینسیکس کی 30 کمپنیوں میں صرف نو شیئرز میں تیزی درج کی گئی۔ باقی 21 کمپنیاں نقصان کے ساتھ بند ہوئیں۔
ریلائنس اور انفوسس نے بازار پر دباؤ ڈالا
آج کی تجارت میں ریلائنس انڈسٹریز سینسیکس کا سب سے زیادہ گرنے والا شیئر رہا۔ کمپنی کا اسٹاک 3.46 فیصد ٹوٹ کر بند ہوا۔ آئی ٹی کمپنیوں میں بھی بھاری فروخت دیکھنے میں آئی۔ انفوسس کے شیئرز 3.34 فیصد اور ٹیک مہندرا کے شیئرز 1.83 فیصد گر گئے۔ ٹاٹا کنسلٹنسی سروسز (TCS) میں 1.68 فیصد کی کمزوری درج ہوئی۔
ایچ سی ایل ٹیک کے شیئرز بھی 1.13 فیصد ٹوٹے۔ آئی ٹی سیکٹر میں اس فروخت کا اثر نفٹی آئی ٹی انڈیکس پر پڑا، جو تقریباً دو فیصد نیچے بند ہوا۔ بازار میں کمزوری کے پیچھے بین الاقوامی حالات اور امریکی فیڈرل ریزرو کے شرح سود سے متعلق فیصلے کو لے کر موجود غیر یقینی صورتحال کو بھی اہم سمجھا جا رہا ہے۔
ایل اینڈ ٹی اور ٹرینٹ کے شیئرز میں تیزی
بازار میں گراوٹ کے باوجود کچھ بڑی کمپنیوں کے شیئرز اضافے کے ساتھ بند ہوئے۔ لارسن اینڈ ٹوبرو (L&T) کا شیئر 3.68 فیصد کی تیزی کے ساتھ سینسیکس کا سب سے زیادہ بڑھنے والا اسٹاک رہا۔ کمپنی نے حال ہی میں ستمبر سہ ماہی کے نتائج جاری کیے ہیں۔ ایل اینڈ ٹی کا منافع تقریباً 33 فیصد بڑھ کر 5,202 کروڑ روپے تک پہنچ گیا ہے۔ ان نتائج کے بعد شیئر میں سرمایہ کاروں کی دلچسپی بڑھی۔
ٹرینٹ کے شیئر میں بھی 2.79 فیصد کی تیزی درج کی گئی۔ اس کے علاوہ اسٹیٹ بینک آف انڈیا 1.23 فیصد اور ایکسس بینک 1.14 فیصد کی تیزی کے ساتھ بند ہوئے۔ انڈیگو کی بنیادی کمپنی انٹرگلوب ایوی ایشن کے شیئرز 1.13 فیصد چڑھے۔ ایچ ڈی ایف سی بینک میں 0.87 فیصد اور ماروتی سوزوکی میں 0.83 فیصد کی تیزی رہی۔ بجاج فائنانس اور مہندرا اینڈ مہندرا کے شیئرز بھی معمولی اضافے کے ساتھ بند ہوئے۔
بینکنگ سے میٹل سیکٹر تک کئی کمپنیوں کے شیئرز میں گراوٹ
بدھ کو کئی دیگر بڑی کمپنیوں کے شیئرز بھی دباؤ میں رہے۔ بھارتی ایئرٹیل میں 1.42 فیصد اور ٹاٹا اسٹیل میں 1.37 فیصد کی گراوٹ درج کی گئی۔ بجاج فن سرو 1.25 فیصد، ایٹرنل 1.21 فیصد اور بھارت الیکٹرانکس لمیٹڈ (BEL) 1.20 فیصد نیچے بند ہوئے۔ بینکنگ سیکٹر میں آئی سی آئی سی آئی بینک کا شیئر 1.02 فیصد اور کوٹک مہندرا بینک 0.64 فیصد گرا۔ تاہم، ایس بی آئی، ایکسس بینک اور ایچ ڈی ایف سی بینک میں تیزی نے بینکنگ شیئرز کو کچھ سہارا دیا۔
ٹائٹن، ہندوستان یونی لیور، آئی ٹی سی، الٹرا ٹیک سیمنٹ اور این ٹی پی سی کے شیئرز بھی سرخ نشان میں رہے۔ اڈانی پورٹس، ایشین پینٹس، پاور گرڈ اور سن فارما میں معمولی گراوٹ درج کی گئی۔
خام تیل کی قیمتوں اور فیڈرل ریزرو کے فیصلے پر بازار کی نظر
بدھ کو شیئر بازار پر خام تیل کی بلند قیمتوں کا بھی اثر نظر آیا۔ بین الاقوامی بازار میں برینٹ کروڈ کی قیمت تقریباً 115 ڈالر فی بیرل کے آس پاس برقرار رہی۔ بھارت اپنی تیل کی ضروریات کا بڑا حصہ بیرون ملک سے خریدتا ہے۔ اس لیے خام تیل مہنگا ہونے پر درآمدی اخراجات اور مہنگائی بڑھنے کا خدشہ رہتا ہے۔
اس کے علاوہ امریکی فیڈرل ریزرو کے آئندہ فیصلے کو لے کر بھی سرمایہ کار محتاط رہے۔ شرح سود سے متعلق اشارے غیر ملکی سرمایہ کاروں کے رجحان کو متاثر کر سکتے ہیں۔ دوسری جانب، جیو پلیٹ فارمز کی شیئر بازار میں لسٹنگ بھی بدھ کو زیر بحث رہی۔ کمپنی کے شیئرز تقریباً 21.4 فیصد پریمیم پر لسٹ ہوئے، لیکن اس کے باوجود اہم انڈیکسز کی گراوٹ نہیں رک سکی۔








