دھن تیرس پر بھارتی شیئر بازار میں تیزی سینسیکس 1718 پوائنٹس بڑھا نفٹی 25030 سے تجاوز کرگیا

دھن تیرس کے موقع پر بھارتی شیئر بازار میں سینسیکس 1,718.01 پوائنٹس اور نفٹی 493.75 پوائنٹس بڑھ کر بند ہوئے۔ بینکنگ شیئرز میں اضافہ ہوا جبکہ مڈ کیپ اور اسمال کیپ انڈیکس میں گراوٹ درج کی گئی۔

دھن تیرس کے موقع پر جمعہ کے روز بھارتی شیئر بازار میں نمایاں تیزی ریکارڈ کی گئی۔ بمبئی اسٹاک ایکسچینج (BSE) کا سینسیکس 1,718.01 پوائنٹس یعنی 2.17 فیصد اضافے کے ساتھ 81,028.02 پوائنٹس پر بند ہوا۔ اسی طرح نیشنل اسٹاک ایکسچینج (NSE) کا نفٹی 50 انڈیکس 493.75 پوائنٹس یعنی 2.01 فیصد بڑھ کر 25,030.35 پوائنٹس تک پہنچ گیا۔ دونوں اہم انڈیکس مسلسل ساتویں کاروباری سیشن میں بھی اضافے کے ساتھ بند ہوئے۔ بینکنگ شعبے کی بڑی کمپنیوں کے شیئرز میں خریداری نے بازار کو سہارا دیا، تاہم مڈ کیپ اور اسمال کیپ انڈیکس میں گراوٹ درج کی گئی۔

سینسیکس اور نفٹی مسلسل ساتویں دن اضافے کے ساتھ بند

جمعہ، 6 نومبر 2026 کو بھارتی شیئر بازار نے ابتدائی اتار چڑھاؤ کے بعد نمایاں تیزی حاصل کی۔ کاروبار کے آغاز میں بازار تقریباً مستحکم رہا، تاہم دوپہر کے بعد بڑی کمپنیوں کے شیئرز میں خریداری بڑھنے سے اہم انڈیکس میں تیزی آگئی۔

بمبئی اسٹاک ایکسچینج (BSE) کا اہم انڈیکس سینسیکس 1,718.01 پوائنٹس یعنی 2.17 فیصد بڑھ کر 81,028.02 پوائنٹس پر بند ہوا۔ دوسری جانب نیشنل اسٹاک ایکسچینج (NSE) کا نفٹی 50 انڈیکس 493.75 پوائنٹس یعنی 2.01 فیصد اضافے کے ساتھ 25,030.35 پوائنٹس پر پہنچ گیا۔

اس سے قبل جمعرات کو بھی سینسیکس میں 2,008.61 پوائنٹس کا اضافہ درج کیا گیا تھا اور یہ 79,310.01 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔ نفٹی بھی اس روز 576 پوائنٹس بڑھ کر 24,536.60 پوائنٹس تک پہنچ گیا تھا۔

جمعہ کی صبح غیر ملکی بازاروں میں گراوٹ کے باعث بھارتی بازار پر بھی دباؤ پڑنے کا امکان تھا۔ تاہم دوپہر کے بعد منتخب بڑی کمپنیوں کے شیئرز میں خریداری بڑھنے سے اہم انڈیکس میں تیزی آگئی۔ اس کے باوجود تمام شیئرز میں یکساں اضافہ دیکھنے میں نہیں آیا۔

آئی سی آئی سی آئی بینک اور مہندرا کے شیئرز میں اضافہ

جمعہ کو بازار کی تیزی میں بینکنگ اور آٹوموبائل شعبوں کی بعض بڑی کمپنیوں کے شیئرز نے اہم کردار ادا کیا۔ نفٹی میں زیادہ اضافہ درج کرنے والے نمایاں شیئرز میں ICICI Bank، Mahindra & Mahindra، HDFC Bank، Titan Company اور Axis Bank شامل رہے۔

آئی سی آئی سی آئی بینک کے شیئرز میں تقریباً 4.75 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ مہندرا اینڈ مہندرا اور ٹائٹن کمپنی کے شیئرز بھی اضافے کے ساتھ بند ہوئے۔ اس کے علاوہ ایچ ڈی ایف سی بینک اور ایکسس بینک کے شیئرز میں خریداری نے بھی بازار کو سہارا دیا۔

سینسیکس اور نفٹی میں ان بڑی کمپنیوں کا نمایاں وزن ہے، اس لیے ان کے شیئرز کی قیمتوں میں اضافے کا اثر اہم انڈیکس پر بھی پڑا۔

دوسری جانب Eicher Motors، Power Grid Corporation، Bharat Electronics، Adani Enterprises اور Tata Motors Passenger Vehicles کے شیئرز میں گراوٹ درج کی گئی۔ ان شیئرز میں فروخت کے دباؤ کے باوجود بینکنگ اور دیگر بڑی کمپنیوں کے شیئرز میں خریداری کے باعث دونوں اہم انڈیکس اضافے کے ساتھ بند ہوئے۔

بینکنگ اور فارما شعبوں میں تیزی، مڈ کیپ اور اسمال کیپ میں گراوٹ

شعبہ وار کارکردگی کے مطابق جمعہ کو بینکنگ، پرائیویٹ بینک، فارما اور کنزیومر ڈیوریبلز شعبوں کے انڈیکس میں تقریباً 1 سے 3 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

اس کے برعکس انرجی، میڈیا اور ریئلٹی شعبوں کے انڈیکس میں تقریباً ایک فیصد کی گراوٹ دیکھی گئی۔

بڑی کمپنیوں کے مقابلے میں چھوٹی اور درمیانی درجے کی کمپنیوں کے شیئرز میں فروخت کا دباؤ زیادہ رہا۔ نفٹی مڈ کیپ انڈیکس 0.2 فیصد اور اسمال کیپ انڈیکس 0.8 فیصد کی گراوٹ کے ساتھ بند ہوئے۔ ان دونوں انڈیکس میں گزشتہ چار کاروباری سیشن سے جاری تیزی کا سلسلہ جمعہ کو رک گیا۔

مجموعی بازار میں بھی اضافے والے شیئرز کے مقابلے میں گراوٹ والے شیئرز کی تعداد زیادہ رہی۔ تقریباً 1,681 شیئرز اضافے کے ساتھ بند ہوئے، جبکہ 2,400 شیئرز میں گراوٹ درج کی گئی۔ اس کے علاوہ 148 شیئرز کی قیمتوں میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔

امریکی ڈالر کے مقابلے بھارتی روپیہ 56 پیسے مضبوط

جمعہ کو شیئر بازار کے ساتھ غیر ملکی زرِ مبادلہ کی مارکیٹ میں بھی بھارتی روپے کی قدر میں اضافہ ہوا۔ امریکی ڈالر کے مقابلے روپیہ 56 پیسے مضبوط ہوکر 93.91 روپے فی ڈالر کی سطح پر بند ہوا۔ جمعرات کو یہ شرح 94.47 روپے فی ڈالر تھی۔

روپے کی مضبوطی کے اہم اسباب میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کی جانب سے بھارتی بازار میں دوبارہ خریداری شروع کرنا شامل سمجھا جا رہا ہے۔

غیر ملکی ادارہ جاتی سرمایہ کاروں نے جمعرات کو بھارتی شیئر بازار میں تقریباً 15,000 کروڑ روپے کی خالص خریداری کی تھی۔ گزشتہ چند برسوں کے دوران ایک دن میں ہونے والی بڑی خریداریوں میں اسے بھی شمار کیا گیا ہے۔

بھارت اپنی خام تیل کی ضرورت کا بڑا حصہ درآمد کرتا ہے۔ ایسے میں بین الاقوامی بازار میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی سے ملک کے درآمدی اخراجات اور بھارتی روپے پر پڑنے والے دباؤ میں کمی آسکتی ہے۔

Leave a comment