امریکی وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کی شکست پر ایران کا ردعمل، ٹرمپ انتظامیہ کو خبردار کر دیا
ایران نے امریکی وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کی شکست پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی عوام نے جنگ کے خلاف اپنا مؤقف واضح کر دیا ہے۔ ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں اہم کردار ادا کرنے والے محمد باقر قالیباف نے بدھ، 4 نومبر 2026 کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک بیان جاری کیا۔
قالیباف نے کہا کہ امریکی عوام نے جنگ کو مسترد کر دیا ہے، چاہے اس کی وجہ ان کا ضمیر ہو یا زندگی گزارنے کے بڑھتے ہوئے اخراجات۔ انہوں نے کہا کہ ایران اس پیغام کی حمایت کرتا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے ٹرمپ انتظامیہ کو خبردار کیا کہ اگر امریکی حکومت نے اپنے شہریوں کی خواہشات کو نظرانداز کرتے ہوئے بیرونی طاقتوں کے مفادات کے لیے فیصلے کیے تو اس کے سنگین نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔
امریکی وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کو نقصان
امریکہ میں 3 نومبر کو وسط مدتی انتخابات منعقد ہوئے، جن میں ڈیموکریٹک پارٹی نے ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ، دونوں میں اکثریت حاصل کی۔ ان انتخابات میں کانگریس کی نشستوں کے علاوہ کئی ریاستوں میں گورنروں اور دیگر عہدوں کے لیے بھی ووٹنگ ہوئی۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ خود ان انتخابات میں امیدوار نہیں تھے۔
ٹرمپ نے فاکس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے ساتھ جنگ ریپبلکن پارٹی کی انتخابی شکست کی ایک وجہ ہو سکتی ہے۔ تاہم، انہوں نے اپنی فوجی پالیسی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ امریکی عوام اس کی اہمیت کو سمجھتے ہیں۔ ان کے مطابق پٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے لوگوں کو متاثر کیا، لیکن ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا ضروری تھا۔
ایران جنگ اور آبنائے ہرمز میں کشیدگی
امریکہ اور اسرائیل نے فروری 2026 میں ایران کے خلاف فوجی کارروائی شروع کی تھی، جس کے بعد تنازع مزید شدت اختیار کر گیا۔ اس کشیدگی کے نتیجے میں آبنائے ہرمز میں جہاز رانی متاثر ہوئی، جس سے خام تیل کی فراہمی اور کئی ممالک میں ایندھن کی قیمتوں پر اثر پڑا۔
مارچ میں رائٹرز-اِپسوس کے ایک سروے میں تقریباً 66 فیصد امریکی شہریوں نے کہا تھا کہ حکومت کو ایران جنگ میں امریکی شمولیت جلد ختم کرنے کی کوشش کرنی چاہیے، چاہے تمام فوجی مقاصد حاصل نہ ہوئے ہوں۔
تاہم، ایسوسی ایٹڈ پریس کے ووٹر سروے کے مطابق معیشت، مہنگائی، جمہوریت اور حکومتی بدعنوانی بھی ووٹروں کے لیے اہم مسائل تھے۔ اس لیے ریپبلکن پارٹی کی انتخابی شکست کو صرف ایران جنگ سے جوڑنا درست نہیں ہوگا۔
ٹیکساس میں ڈیموکریٹک امیدوار کی کامیابی
ٹیکساس میں ڈیموکریٹک امیدوار جینا ہینوجوسا نے ریپبلکن گورنر گریگ ایبٹ کو شکست دے دی۔ اس کامیابی کے ساتھ وہ 1990 میں این رچرڈز کے بعد ٹیکساس میں گورنر کا انتخاب جیتنے والی پہلی ڈیموکریٹ بن گئی ہیں۔ جینا ہینوجوسا ٹیکساس کی پہلی لاطینی نژاد گورنر بھی ہوں گی۔ ان کی مدتِ گورنری جنوری 2027 میں شروع ہوگی۔
امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات جاری
امریکہ اور ایران کے درمیان امن کی کوششوں میں قطر اور پاکستان ثالثی کر رہے ہیں۔ ایران نے 2 نومبر کو کہا تھا کہ ثالثوں کے ذریعے امریکہ کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، تاہم ابھی تک کوئی حتمی معاہدہ نہیں ہوا ہے۔
ایران نے آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر دوبارہ کھولنے کو امریکی بحری ناکہ بندی کے خاتمے سے جوڑا ہے۔ دوسری جانب امریکہ کی جانب سے جاری بیانات میں فوجی کارروائی اور مذاکرات، دونوں امکانات کا ذکر کیا گیا ہے۔







