جغرافیائی و سیاسی کشیدگی اور خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کے درمیان سینسیکس 561 پوائنٹس گر گیا

مغربی ایشیا میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی و سیاسی کشیدگی، خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ، غیر ملکی ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کی فروخت اور عالمی بازاروں کے کمزور اشاروں کے باعث منگل کو بھارتی شیئر بازار میں سینسیکس اور نفٹی دونوں میں گراوٹ درج کی گئی۔

مغربی ایشیا میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی و سیاسی کشیدگی، خام تیل کی قیمتوں میں تیز اضافے اور غیر ملکی ادارہ جاتی سرمایہ کاروں (FII) کی فروخت کے دباؤ کے باعث منگل کو بھارتی شیئر بازار میں نمایاں گراوٹ درج کی گئی۔ کاروبار کے اختتام پر بی ایس ای سینسیکس 561.46 پوائنٹس (0.72 فیصد) گر کر 77,054.94 پر بند ہوا، جبکہ این ایس ای نفٹی 50 انڈیکس 158.95 پوائنٹس (0.66 فیصد) کی کمی کے ساتھ 24,052.05 پر بند ہوا۔

بازار میں وسیع پیمانے پر فروخت دیکھی گئی۔ کاروبار کے دوران 1,422 شیئرز میں اضافہ ہوا، 2,632 شیئرز میں کمی آئی، جبکہ 190 شیئرز کی قیمت میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔ تجزیہ کاروں کے مطابق عالمی اقتصادی غیر یقینی صورتحال اور سرمایہ کاروں کی محتاط حکمت عملی نے بازار کے رجحان کو متاثر کیا۔

نفٹی 50 میں HCL Technologies، Shriram Finance، HDFC Life، Tata Motors اور InterGlobe Aviation سب سے زیادہ نقصان اٹھانے والے شیئرز میں شامل رہے۔ دوسری جانب Bharti Airtel، Apollo Hospitals، Sun Pharma، TCS اور Dr. Reddy’s Laboratories گرتے ہوئے بازار کے باوجود اضافے کے ساتھ بند ہوئے۔

زیادہ تر سیکٹورل انڈیکس منفی زون میں بند ہوئے۔ Nifty Realty میں تقریباً 2 فیصد کی سب سے بڑی گراوٹ ریکارڈ کی گئی۔ اس کے علاوہ Nifty PSU Bank میں 1.8 فیصد، Nifty Auto میں 1.6 فیصد، Nifty Bank میں 1.1 فیصد، Nifty IT میں 1.0 فیصد، Nifty Private Bank میں 0.8 فیصد، Nifty Oil & Gas میں 0.6 فیصد، Nifty FMCG میں 0.6 فیصد، Nifty Media میں 0.3 فیصد اور Nifty Infra میں 0.3 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی۔ تاہم Nifty Pharma میں تقریباً 1 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ Nifty Metal بھی تقریباً 0.6 فیصد مضبوط رہا۔ مڈ کیپ اور اسمال کیپ شیئرز میں بھی کمزوری برقرار رہی۔ Nifty Midcap 100 تقریباً 0.4 فیصد اور Nifty Smallcap 100 تقریباً 1 فیصد گر کر بند ہوئے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق مغربی ایشیا میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی و سیاسی کشیدگی بازار پر دباؤ کی اہم وجہ رہی۔ امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی نے سرمایہ کاروں کو محفوظ سرمایہ کاری کے متبادل کی جانب راغب کیا، جس کے نتیجے میں عالمی مالیاتی بازاروں میں خطرہ مول لینے کا رجحان کمزور ہوا۔

جغرافیائی و سیاسی کشیدگی کا اثر توانائی کے بازار پر بھی واضح رہا۔ بین الاقوامی بازار میں برینٹ خام تیل کی قیمت بڑھ کر تقریباً 84.60 امریکی ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جسے حالیہ ہفتوں کی بلند ترین سطح قرار دیا جا رہا ہے۔ بھارت اپنی تیل کی ضروریات کا بڑا حصہ درآمد کرتا ہے، اس لیے خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ مہنگائی، کرنٹ اکاؤنٹ خسارے اور کارپوریٹ لاگت کو متاثر کر سکتا ہے، جس سے شیئر بازار پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔

عالمی بازاروں سے بھی کمزور اشارے موصول ہوئے۔ جنوبی کوریا، جاپان، چین اور ہانگ کانگ کے اہم شیئر انڈیکس کمزور رہے۔ امریکی شیئر بازاروں میں بھی دباؤ برقرار رہا، جبکہ وال اسٹریٹ فیوچرز نے کمزور آغاز کے اشارے دیے۔ اس کا اثر بھارتی سرمایہ کاروں کے رجحان پر بھی پڑا۔

غیر ملکی ادارہ جاتی سرمایہ کاروں نے مسلسل فروخت جاری رکھی۔ حالیہ تجارتی سیشن میں FIIs نے ہزاروں کروڑ روپے مالیت کے شیئرز فروخت کیے، جس سے بازار پر اضافی دباؤ پیدا ہوا۔ ماہرین کے مطابق جب غیر ملکی سرمایہ کار بڑے پیمانے پر سرمایہ نکالتے ہیں تو اس کا اثر اہم انڈیکسز کے ساتھ مجموعی بازار کے رجحان پر بھی پڑتا ہے۔

بازار میں اتار چڑھاؤ کی پیمائش کرنے والا India VIX تقریباً 3 فیصد بڑھ کر 14 کے قریب پہنچ گیا۔ VIX میں اضافہ عام طور پر سرمایہ کاروں کی بڑھتی ہوئی تشویش اور آئندہ دنوں میں بازار میں زیادہ اتار چڑھاؤ کے امکان کی نشاندہی کرتا ہے۔ ایسی صورتحال میں سرمایہ کار زیادہ خطرے والی سرمایہ کاری سے گریز کرتے ہوئے محتاط حکمت عملی اختیار کرتے ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق آئندہ تجارتی سیشنز میں بازار کی سمت بڑی حد تک عالمی پیش رفت، خام تیل کی قیمتوں، غیر ملکی سرمایہ کاروں کے رجحان اور بڑی کمپنیوں کے سہ ماہی نتائج پر منحصر رہے گی۔

Leave a comment