تعلیمی اصلاحات اور مبینہ امتحانی بے ضابطگیوں کے معاملے پر سونم وانگچک جنتر منتر میں غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال پر

لداخ کے تعلیمی اصلاح کار اور اختراعی ماہر سونم وانگچک تعلیمی نظام میں جوابدہی، مبینہ امتحانی بے ضابطگیوں اور تعلیمی اصلاحات سے متعلق مطالبات کے سلسلے میں دہلی کے جنتر منتر میں غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال جاری رکھے ہوئے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق ان کی

لداخ کے انجینئر، تعلیمی اصلاح کار اور اختراعی ماہر سونم وانگچک ایک بار پھر خبروں میں ہیں۔ فلم ’3 ایڈیٹس‘ کے معروف کردار فنسکھ وانگڈو کے لیے حقیقی تحریک سمجھے جانے والے وانگچک اس وقت تعلیمی نظام میں اصلاحات اور مبینہ امتحانی بے ضابطگیوں کے معاملے پر دہلی کے جنتر منتر میں غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال پر بیٹھے ہوئے ہیں۔

لداخ سے تعلق رکھنے والے وانگچک کئی برسوں سے تعلیمی اصلاحات اور اختراع کے شعبے میں کام کر رہے ہیں۔ وہ ایسے تعلیمی نظام کے حامی ہیں جس میں رٹنے کے بجائے عملی علم، تخلیقی سوچ اور مقامی ضروریات کو ترجیح دی جائے۔

سونم وانگچک نے 1988 میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر اسٹوڈنٹس ایجوکیشنل اینڈ کلچرل موومنٹ آف لداخ (SECMOL) کی بنیاد رکھی تھی۔ اس اقدام کا مقصد ان طلبہ کو بہتر تعلیم فراہم کرنا تھا جو روایتی تعلیمی نظام میں پیچھے رہ جاتے تھے۔

انہوں نے لداخ کے دور دراز علاقوں میں تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے متعدد تجربات کیے۔ ان کا ماننا ہے کہ ہر طالب علم میں صلاحیت موجود ہوتی ہے اور تعلیمی نظام کا مقصد اسی صلاحیت کو فروغ دینا ہونا چاہیے۔

تعلیم کے علاوہ سونم وانگچک ماحولیاتی تحفظ کے شعبے میں بھی اپنی اختراعات کے لیے معروف ہیں۔ انہوں نے ’آئس اسٹوپا‘ ٹیکنالوجی تیار کی، جس کے ذریعے سردیوں میں پانی کو مصنوعی برفانی ڈھانچے کی صورت میں محفوظ کیا جاتا ہے تاکہ گرمیوں میں آبپاشی کے لیے استعمال کیا جا سکے۔

ان کی اس اختراع کو بین الاقوامی سطح پر بھی سراہا گیا ہے اور انہیں متعدد قومی اور عالمی اعزازات سے نوازا جا چکا ہے۔

ان دنوں وانگچک دہلی کے جنتر منتر میں جاری اپنی غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال کے باعث ایک بار پھر توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ وہ تعلیمی نظام میں جوابدہی، مبینہ امتحانی بے ضابطگیوں اور تعلیمی اصلاحات سے متعلق مطالبات اٹھاتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے کی حمایت کر رہے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق ان کی بھوک ہڑتال 17ویں دن میں داخل ہو چکی ہے اور ان کی صحت میں خرابی کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔

وانگچک کا کہنا ہے کہ ملک کے مستقبل کے لیے بہتر اور شفاف تعلیمی نظام ناگزیر ہے۔ اسی مقصد کے تحت وہ طویل عرصے سے تعلیمی اصلاحات اور طلبہ کے مفادات سے متعلق مسائل اٹھاتے آ رہے ہیں۔

Leave a comment