ٹرمپ کی ایران کو وارننگ کے بعد سینسیکس اور نفٹی میں گراوٹ، عالمی منڈیوں کے دباؤ میں اضافہ

ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کو وارننگ کے بعد بھارتی شیئر بازار میں نمایاں گراوٹ دیکھی گئی، جس میں سینسیکس اور نفٹی کمزور کھلے۔ عالمی منڈیوں کی گراوٹ، کروڈ آئل کی قیمتوں میں اضافہ اور مشرق وسطیٰ کی کشیدگی نے بازار پر دباؤ بڑھایا جبکہ سرمایہ کاروں کی دولت میں نمایاں کمی درج کی گئی۔

ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کو دی گئی وارننگ کے بعد شیئر بازار میں نمایاں گراوٹ دیکھی گئی، جبکہ عالمی منڈیوں میں کمزوری اور کروڈ آئل کی قیمتوں میں اضافہ نے دباؤ کو مزید بڑھا دیا۔

پیر 23 مارچ 2026 کو بھارتی شیئر بازار کی شروعات نمایاں کمزوری کے ساتھ ہوئی۔ عالمی منڈیوں میں جاری گراوٹ کے درمیان امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کو سخت وارننگ نے سرمایہ کاروں کی تشویش میں اضافہ کیا، جس کا براہ راست اثر بھارتی بازار پر نظر آیا جہاں ابتدائی کاروبار میں ہی سینسیکس اور نفٹی میں نمایاں گراوٹ درج کی گئی۔

ٹرمپ نے کہا کہ اگر ایران 48 گھنٹوں کے اندر اسٹریٹ آف ہرمز کو مکمل طور پر نہیں کھولتا تو امریکہ اس کے پاور پلانٹس پر حملہ کرے گا۔ اس بیان کے بعد مشرق وسطیٰ میں کشیدگی بڑھ گئی، جس سے عالمی سرمایہ کاروں کا اعتماد متاثر ہوا اور فروخت کا دباؤ بڑھ گیا۔

پہلے تجارتی سیشن میں بی ایس ای سینسیکس 73,732 کی سطح پر کھلا۔ بازار کھلتے ہی فروخت کا دباؤ مزید بڑھ گیا اور صبح 9:26 بجے سینسیکس 1314.45 پوائنٹس یعنی 1.76 فیصد گر کر 73,218.51 پر ٹریڈ کر رہا تھا۔

این ایس ای نفٹی-50 بھی کمزور آغاز کے ساتھ 22,824 پر کھلا اور چند ہی منٹوں میں 22,700 کی اہم سطح سے نیچے آ گیا۔ صبح 9:27 بجے نفٹی 388.50 پوائنٹس یعنی 1.68 فیصد گر کر تقریباً 22,684 پر کاروبار کرتا دکھائی دیا۔

اس گراوٹ کے دوران تقریباً تمام سیکٹرز دباؤ میں رہے۔ سینسیکس کی بڑی کمپنیوں کے شیئرز میں 2 فیصد سے زائد کی کمی درج کی گئی، جن میں ٹاٹا اسٹیل، اسٹیٹ بینک آف انڈیا، ایچ ڈی ایف سی بینک، بجاج فائنانس، الٹراٹیک سیمنٹ، مہندرا اینڈ مہندرا، ٹائٹن، ٹرینٹ اور اڈانی پورٹس شامل ہیں۔ بڑی کمپنیوں کے شیئرز میں گراوٹ نے وسیع پیمانے پر فروخت کے رجحان کو ظاہر کیا۔

بازار میں اس تیز گراوٹ کا اثر سرمایہ کاروں کی دولت پر بھی پڑا۔ ابتدائی کاروبار میں ہی سرمایہ کاروں کے تقریباً 7.33 لاکھ کروڑ روپے کم ہو گئے۔ بی ایس ای میں درج کمپنیوں کا مجموعی مارکیٹ کیپ گھٹ کر 421.43 لاکھ کروڑ روپے رہ گیا، جبکہ جمعہ کو یہ 428.78 لاکھ کروڑ روپے تھا۔

بھارتی بازار پر دباؤ عالمی منڈیوں سے بھی آیا۔ پیر کو ایشیا کی زیادہ تر منڈیاں گراوٹ کے ساتھ کاروبار کر رہی تھیں۔ جاپان کا نکی 225 تقریباً 3.3 فیصد نیچے تھا جبکہ جنوبی کوریا کا کوسپی انڈیکس 4.6 فیصد تک گر گیا۔ اس سے قبل جمعہ کو امریکی بازار بھی کمزوری کے ساتھ بند ہوئے تھے، جہاں S&P 500 میں 1.51 فیصد اور ڈاؤ جونز انڈسٹریل ایوریج میں 0.96 فیصد کی کمی درج کی گئی تھی۔

مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی کے باعث کروڈ آئل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا۔ برینٹ کروڈ کا مئی فیوچر کنٹریکٹ 0.66 فیصد بڑھ کر 107.11 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا۔

اس کے برعکس گولڈ فیوچرز میں تقریباً 3.34 فیصد کی گراوٹ درج کی گئی، جس پر شرح سود اور افراط زر سے متعلق خدشات کا اثر دیکھا گیا۔

گرتے بازار کے درمیان آئی پی او مارکیٹ میں سرگرمیاں جاری رہیں۔ سینٹرل مائن پلاننگ اینڈ ڈیزائن انسٹی ٹیوٹ کا آئی پی او دوسرے دن میں داخل ہوا، جسے پہلے دن 0.07 گنا سبسکرپشن ملا۔ یہ ₹1,842.12 کروڑ کا بک بلڈ ایشو ہے جو 24 مارچ کو بند ہوگا۔

اس کے علاوہ اسپیشلٹی میڈیسنز کا آئی پی او بھی دوسرے دن میں ہے، جسے پہلے دن 0.84 گنا سبسکرپشن ملا اور کمپنی ₹29.14 کروڑ جمع کرنا چاہتی ہے۔ ٹیپکو انڈیا انجینئرنگ کا ₹60.6 کروڑ کا آئی پی او پیر کو کھلا اور بدھ تک کھلا رہے گا۔

آئی پی او مارکیٹ کی موجودہ صورتحال سرمایہ کاروں کے محتاط رویے کی عکاسی کرتی ہے۔

Leave a comment