22 مارچ 2026 کو پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ترمیم کی گئی، جس میں آئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے صبح تقریباً 6 بجے نئی قیمتوں کا اعلان کیا۔ ملک کے متعدد شہروں میں قیمتیں مستحکم رہیں جبکہ بعض مقامات پر معمولی تبدیلی ریکارڈ کی گئی۔ ایندھن کی قیمتیں گھریلو اخراجات اور مختلف شعبوں کے آپریشنل اخراجات پر براہِ راست اثر ڈالتی ہیں۔
شہر کے لحاظ سے قیمتوں میں فرق کی بنیادی وجہ ریاستی حکومتوں کی جانب سے عائد کیے گئے ٹیکس ہیں۔ نئی دہلی میں پیٹرول ₹94.72 فی لیٹر اور ڈیزل ₹87.62 فی لیٹر ہے۔ ممبئی میں پیٹرول ₹104.21 اور ڈیزل ₹92.15 فی لیٹر ہے۔ کولکاتا میں پیٹرول ₹103.94 اور ڈیزل ₹90.76 ہے جبکہ چنئی میں پیٹرول ₹100.75 اور ڈیزل ₹92.34 فی لیٹر دستیاب ہے۔
احمد آباد میں پیٹرول ₹94.49 اور ڈیزل ₹90.17 ہے جبکہ بنگلورو میں پیٹرول ₹102.92 اور ڈیزل ₹89.02 فی لیٹر ہے۔ حیدرآباد میں پیٹرول ₹107.46 اور ڈیزل ₹95.70 ریکارڈ کیا گیا ہے۔ جے پور میں پیٹرول ₹104.72 اور ڈیزل ₹90.21 ہے جبکہ لکھنؤ میں پیٹرول ₹94.69 اور ڈیزل ₹87.80 فی لیٹر ہے۔
پونے میں پیٹرول ₹104.04 اور ڈیزل ₹90.57 ہے۔ چندی گڑھ میں پیٹرول ₹94.30 اور ڈیزل ₹82.45 ہے۔ اندور میں پیٹرول ₹106.48 اور ڈیزل ₹91.88 ہے جبکہ پٹنہ میں پیٹرول ₹105.58 اور ڈیزل ₹93.80 فی لیٹر ہے۔ سورت میں پیٹرول ₹95.00 اور ڈیزل ₹89.00 ہے جبکہ ناسک میں پیٹرول ₹95.50 اور ڈیزل ₹89.50 فی لیٹر ہے۔ ریاستی ٹیکس ڈھانچے کی وجہ سے مختلف شہروں میں قیمتوں میں فرق برقرار ہے۔
گزشتہ تقریباً دو برسوں کے دوران بھارت میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بڑے پیمانے پر اتار چڑھاؤ دیکھنے میں نہیں آیا۔ مئی 2022 کے بعد مرکزی اور متعدد ریاستی حکومتوں کی جانب سے ٹیکس میں کمی کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں تبدیلی کا براہِ راست اثر صارفین پر محدود رہا ہے، جس کے نتیجے میں مقامی سطح پر ایندھن کی قیمتیں نسبتاً مستحکم رہی ہیں۔
تاہم یہ استحکام عالمی منڈی کی صورتحال پر منحصر ہے۔ اگر بین الاقوامی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں تبدیلی آتی ہے تو اس کا اثر ملک میں ایندھن کی قیمتوں پر بھی پڑ سکتا ہے۔
پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کا تعین کئی عوامل کی بنیاد پر ہوتا ہے، جن میں عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتیں، بھارتی روپیہ اور امریکی ڈالر کے درمیان شرح تبادلہ، اور مرکزی و ریاستی حکومتوں کے ٹیکس شامل ہیں۔ بھارت خام تیل درآمد کرتا ہے اور ادائیگی ڈالر میں کی جاتی ہے، اس لیے شرح تبادلہ میں تبدیلی قیمتوں کو متاثر کرتی ہے۔ ریفائننگ لاگت اور طلب و رسد کا توازن بھی حتمی قیمت کے تعین میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ طلب میں اضافے کے دوران قیمتوں میں تبدیلی ممکن ہے۔
ایندھن کی قیمتوں کا اثر صرف ٹرانسپورٹ کے اخراجات تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس سے سبزیوں، پھلوں، اناج اور دیگر ضروری اشیاء کی قیمتوں پر بھی اثر پڑتا ہے۔ قیمتوں کے مستحکم رہنے سے گھریلو بجٹ پر کچھ حد تک دباؤ کم ہوتا ہے، جبکہ تبدیلی کی صورت میں اخراجات کے ڈھانچے پر اثر پڑتا ہے۔
صارفین موبائل کے ذریعے روزانہ ایندھن کی قیمتوں کی معلومات حاصل کر سکتے ہیں۔ انڈین آئل کے صارفین “RSP” کے ساتھ اپنے شہر کا کوڈ 9224992249 پر بھیج سکتے ہیں۔ بھارت پیٹرولیم کے صارفین “RSP” کو 9223112222 پر بھیج سکتے ہیں جبکہ ہندوستان پیٹرولیم کے صارفین “HP Price” کو 9222201122 پر بھیج کر تازہ قیمتیں معلوم کر سکتے ہیں۔






