بھارتی شیئر بازار نے منگل کو تقریباً مستحکم مگر معمولی کمی کے ساتھ کاروبار کا آغاز کیا۔ پیر کو مضبوط تیزی اور شاندار اختتام کے بعد نئے کاروباری سیشن میں سرمایہ کاروں نے محتاط رویہ اختیار کیا۔ ابتدائی کاروبار میں بینکنگ اور بعض بڑی کمپنیوں کے شیئرز پر دباؤ دیکھا گیا، جبکہ انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) شعبے کے شیئرز میں خریداری دیکھی گئی۔
ہفتے کے دوسرے کاروباری سیشن میں بی ایس ای سینسیکس 4.03 پوائنٹس یا 0.01 فیصد کی معمولی کمی کے ساتھ 76,831.75 پوائنٹس پر کھلا۔ اسی طرح این ایس ای نفٹی 50 انڈیکس 24.70 پوائنٹس یا 0.10 فیصد کم ہو کر 23,971.25 پوائنٹس پر کھلا۔
مارکیٹ کی ابتدائی رفتار سے اشارہ ملا کہ پیر کی مضبوط بڑھوتری کے بعد سرمایہ کار منافع وصولی اور منتخب شیئرز میں خریداری کے درمیان توازن برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ تاہم، آئی ٹی کمپنیوں کے شیئرز میں مضبوطی نے مارکیٹ کو بڑی گراوٹ سے بچانے میں مدد دی۔
اس سے قبل پیر کو بھارتی شیئر بازار نے مضبوط کارکردگی کا مظاہرہ کیا تھا۔ کاروبار کے دوران اہم اشاریوں میں وسیع پیمانے پر خریداری دیکھی گئی۔ سینسیکس 776.01 پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ 76,835.78 پوائنٹس پر بند ہوا تھا، جبکہ نفٹی 50 انڈیکس 228.50 پوائنٹس بڑھ کر 23,995.95 پوائنٹس تک پہنچ گیا تھا۔
پیر کی تیزی کے بعد منگل کو مارکیٹ کا تقریباً مستحکم آغاز سرمایہ کاروں کے محتاط رویے کی عکاسی کرتا ہے۔ مارکیٹ کے شرکاء اب کمپنیوں کے سہ ماہی نتائج، عالمی اشاروں اور اہم شعبوں کی سرگرمیوں پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔
سینسیکس میں شامل 30 کمپنیوں میں سے ابتدائی کاروبار کے دوران 15 کمپنیوں کے شیئرز اضافے کے ساتھ کھلے، جبکہ 13 کمپنیوں کے شیئرز میں کمی ریکارڈ کی گئی اور دو کمپنیوں کے شیئرز بغیر کسی تبدیلی کے کھلے۔ ملک کی نمایاں آئی ٹی کمپنی انفوسس کا شیئر ابتدائی کاروبار میں تقریباً 1.68 فیصد اضافے کے ساتھ سینسیکس میں سب سے زیادہ بڑھنے والے شیئرز میں شامل رہا۔
دیگر بڑی آئی ٹی کمپنیوں کے شیئرز میں بھی خریداری دیکھی گئی۔ ٹیک مہندرا کا شیئر تقریباً 1.56 فیصد بڑھا، جبکہ ٹاٹا کنسلٹنسی سروسز (TCS) کا شیئر تقریباً 1.26 فیصد اضافے کے ساتھ کھلا۔ ایچ سی ایل ٹیک کا شیئر بھی تقریباً 0.48 فیصد بڑھا۔ آئی ٹی شیئرز میں تیزی نے مارکیٹ کی ابتدائی کمزوری کو کسی حد تک متوازن کیا۔ سرمایہ کار اب اس بات پر نظر رکھیں گے کہ آیا دن کے باقی کاروبار میں یہ رجحان برقرار رہتا ہے یا نہیں۔
آئی ٹی کمپنیوں کے علاوہ کئی دیگر بڑی کمپنیوں کے شیئرز نے بھی مثبت آغاز کیا۔ سن فارما کا شیئر تقریباً 0.72 فیصد بڑھا۔ انٹرگلوب ایوی ایشن (انڈیگو) کے شیئر میں تقریباً 0.36 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔ اس کے علاوہ اڈانی پورٹس، لارسن اینڈ ٹوبرو (L&T)، ماروتی سوزوکی، ٹائٹن، بھارتی ایئرٹیل، ٹاٹا اسٹیل، بھارت الیکٹرانکس لمیٹڈ (BEL)، بجاج فائنانس اور بجاج فنسرو کے شیئرز نے بھی معمولی اضافے کے ساتھ کاروبار کا آغاز کیا۔ ہندوستان یونی لیور اور ایٹرنل کے شیئرز ابتدائی کاروبار میں تقریباً بغیر کسی تبدیلی کے رہے۔
منگل کو بینکنگ شعبے کے نمایاں شیئرز میں ابتدائی کمزوری ریکارڈ کی گئی۔ ایچ ڈی ایف سی بینک کا شیئر تقریباً 0.62 فیصد کمی کے ساتھ کھلا، جبکہ کوٹک مہندرا بینک کا شیئر تقریباً 0.56 فیصد گر گیا۔ اسٹیٹ بینک آف انڈیا (SBI) کا شیئر تقریباً 0.36 فیصد کمزور رہا۔ آئی سی آئی سی آئی بینک اور ایکسس بینک کے شیئرز میں بھی معمولی کمی ریکارڈ کی گئی۔
بینکنگ شیئرز میں کمزوری کا اثر اہم اشاریوں پر بھی دیکھا گیا، کیونکہ مالیاتی کمپنیوں کا سینسیکس اور نفٹی میں نمایاں وزن ہے۔ اگر بینکنگ شیئرز میں فروخت کا دباؤ بڑھتا ہے تو اس سے مارکیٹ کی آئندہ سمت متاثر ہو سکتی ہے۔
ابتدائی کاروبار میں مہندرا اینڈ مہندرا (M&M) کا شیئر سب سے زیادہ کمزور رہا اور اس میں تقریباً 0.87 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے علاوہ پاور گرڈ، الٹرا ٹیک سیمنٹ، آئی ٹی سی، ریلائنس انڈسٹریز، ٹرینٹ، ایشین پینٹس اور این ٹی پی سی کے شیئرز بھی منفی زون میں کھلے۔ ریلائنس انڈسٹریز کے شیئر میں تقریباً 0.25 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ مارکیٹ کی سمت طے کرنے میں ریلائنس انڈسٹریز اور بڑی بینکنگ کمپنیوں کا کردار اہم سمجھا جاتا ہے۔
نفٹی 50 میں شامل 50 کمپنیوں میں سے ابتدائی کاروبار کے دوران 24 کمپنیوں کے شیئرز اضافے کے ساتھ کھلے، جبکہ 23 کمپنیوں کے شیئرز میں کمی دیکھی گئی۔ تین کمپنیوں کے شیئرز میں کوئی نمایاں تبدیلی نہیں آئی۔ یہ صورتحال مارکیٹ میں ملے جلے رجحان کی نشاندہی کرتی ہے۔ ایک جانب آئی ٹی اور چند منتخب شعبوں میں خریداری جاری رہی، جبکہ دوسری جانب بینکنگ اور دیگر بڑی کمپنیوں کے شیئرز پر دباؤ برقرار رہا۔









