MCX پر سونا تقریباً 1 فیصد بڑھ کر 10 گرام کے لیے ₹1,45,870 پر پہنچا، چاندی مستحکم

منگل کو MCX پر سونے کی قیمت تقریباً 1 فیصد بڑھ کر 10 گرام کے لیے ₹1,45,870 تک پہنچ گئی، جبکہ چاندی ₹2,39,900 فی کلوگرام کی سطح پر مستحکم رہی۔ عالمی منڈیوں کے اشاروں، سرمایہ کاروں کی خریداری، امریکی ڈالر کی نقل و حرکت اور شرح سود سے متعلق توقعا

مسلسل اتار چڑھاؤ کے درمیان منگل کو گھریلو فیوچرز مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ دیکھا گیا۔ ملٹی کموڈٹی ایکسچینج (MCX) پر سونا تقریباً 1 فیصد اضافے کے ساتھ 10 گرام کے لیے ₹1,45,870 کی سطح پر کاروبار کر رہا ہے۔

عالمی منڈیوں میں سونے کی طلب اور سرمایہ کاروں کی خریداری میں اضافے کے باعث گھریلو فیوچرز مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں میں تیزی دیکھی گئی۔ گزشتہ تجارتی سیشن میں نمایاں گراوٹ کے بعد سونے کی قیمت میں دوبارہ اضافہ ہوا اور یہ تقریباً 1 فیصد بڑھ کر 10 گرام کے لیے ₹1,45,870 کی سطح پر پہنچ گیا۔

دوسری جانب، منگل کو چاندی کی قیمتوں میں کوئی نمایاں تبدیلی نہیں دیکھی گئی۔ MCX پر چاندی ₹2,39,900 فی کلوگرام کی سطح پر مستحکم کاروبار کرتی رہی۔

حالیہ دنوں میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں مسلسل اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے۔ عالمی اقتصادی اشارے، امریکی ڈالر کی نقل و حرکت، شرح سود سے متعلق توقعات اور سرمایہ کاروں کے رجحانات قیمتی دھاتوں کی منڈی پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔

پیر کو سونے کی قیمت میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی تھی۔ گزشتہ تجارتی سیشن میں سونا تقریباً 1.60 فیصد گر کر 10 گرام کے لیے ₹1,44,920 پر آ گیا تھا۔ تاہم، منگل کو مارکیٹ میں خریداری واپس آنے کے بعد سونے کی قیمت میں دوبارہ اضافہ ہوا۔ کاروبار کے دوران سونا تقریباً 1 فیصد بڑھ کر ایک بار پھر 10 گرام کے لیے ₹1.45 لاکھ کی سطح سے اوپر پہنچ گیا۔

مارکیٹ ماہرین کے مطابق، بین الاقوامی منڈی میں سونے کی طلب میں بہتری اور محفوظ سرمایہ کاری کے متبادل کے طور پر اس کی بڑھتی ہوئی مقبولیت نے قیمتوں کو سہارا دیا ہے۔ عالمی غیر یقینی صورتحال کے دوران سرمایہ کار سونے کو محفوظ اثاثہ سمجھتے ہیں، جس کے باعث اس کی طلب میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

سونے کی قیمتیں صرف گھریلو طلب سے ہی نہیں بلکہ بین الاقوامی حالات سے بھی متاثر ہوتی ہیں۔ امریکی ڈالر کی مضبوطی یا کمزوری، مرکزی بینکوں کی شرح سود کی پالیسی، افراطِ زر کے اعداد و شمار اور جغرافیائی سیاسی پیش رفت سونے کی قیمتوں کی سمت طے کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ اگر امریکی ڈالر کمزور ہوتا ہے تو عام طور پر سونے کی قیمتوں کو سہارا ملتا ہے کیونکہ دیگر کرنسیوں کے حامل سرمایہ کاروں کے لیے سونا نسبتاً سستا ہو جاتا ہے۔

اسی طرح، شرح سود میں کمی کی توقع بھی سونے کی طلب میں اضافہ کر سکتی ہے۔ منگل کی تیزی میں سرمایہ کاروں کی خریداری اور عالمی منڈیوں سے ملنے والے اشاروں کا اثر دیکھا گیا۔

سونے کے برعکس، منگل کو چاندی کی قیمتیں مستحکم رہیں۔ MCX پر چاندی ₹2,39,900 فی کلوگرام کی سطح پر کاروبار کرتی رہی۔ چاندی کو صرف سرمایہ کاری کے لیے ہی نہیں بلکہ صنعتی استعمال کے باعث بھی ایک اہم دھات سمجھا جاتا ہے۔ الیکٹرانکس، سولر پینلز اور دیگر صنعتی شعبوں میں چاندی کی طلب موجود رہتی ہے۔

تاہم، چاندی کی قیمتیں صنعتی طلب، عالمی اقتصادی نمو اور سرمایہ کاروں کی سرگرمیوں سے متاثر ہوتی ہیں۔ آئندہ دنوں میں انہی عوامل کی بنیاد پر چاندی کی قیمتوں کی سمت طے ہو سکتی ہے۔

Leave a comment