بھارتی شیئر بازار نے 18 جون کے کاروباری سیشن کا آغاز معمولی کمزوری کے ساتھ کیا۔ ابتدائی کاروبار میں NIFTY 50، 12 پوائنٹس کی کمی کے ساتھ 23,073 پر کھلا، جبکہ BSE SENSEX تقریباً 70 پوائنٹس کی کمزوری کے ساتھ 77,088 کی سطح پر ٹریڈ کرتا دکھائی دیا۔
امریکی فیڈرل ریزرو کی مانیٹری پالیسی کے اعلان کے بعد عالمی منڈیوں میں محتاط ماحول دیکھنے میں آیا، جس کا اثر بھارتی شیئر بازار پر بھی پڑا۔ جمعرات کے کاروباری سیشن میں گھریلو ایکویٹی مارکیٹ کا آغاز معمولی کمزوری کے ساتھ ہوا۔ ابتدائی کاروبار میں نفٹی اور سینسیکس محدود دائرے میں ٹریڈ کرتے نظر آئے، جبکہ آئی ٹی شیئرز میں فروخت کا دباؤ دیکھا گیا۔
ماہرین کے مطابق امریکی مرکزی بینک کی جانب سے شرح سود کو برقرار رکھنے کے باوجود مستقبل میں ممکنہ سخت پالیسی کے اشاروں نے سرمایہ کاروں کو محتاط بنا دیا ہے۔ اس کا اثر عالمی ٹیکنالوجی شیئرز کے ساتھ ساتھ بھارتی آئی ٹی سیکٹر پر بھی نظر آ رہا ہے۔
کاروباری سیشن کے آغاز میں NIFTY 50 معمولی گراوٹ کے ساتھ کھلا، جبکہ سینسیکس بھی ابتدائی اوقات میں دباؤ کا شکار رہا۔ تاہم، مارکیٹ میں بڑی گراوٹ دیکھنے میں نہیں آئی اور سرمایہ کار امریکی فیڈ کی پالیسی کے اثرات کا جائزہ لیتے نظر آئے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق سرمایہ کار اس وقت عالمی اقتصادی اشاریوں، غیر ملکی سرمایہ کاروں کی سرگرمیوں اور آئندہ اقتصادی اعداد و شمار پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ ایسے ماحول میں مارکیٹ میں محدود اتار چڑھاؤ دیکھنے کو مل سکتا ہے۔
امریکی فیڈرل ریزرو نے اپنی حالیہ میٹنگ میں شرح سود میں کوئی تبدیلی نہیں کی۔ تاہم، مرکزی بینک نے مہنگائی اور اقتصادی سرگرمیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے مستقبل کی مانیٹری پالیسی کے حوالے سے محتاط مؤقف برقرار رکھنے کے اشارے دیے ہیں۔ عالمی مالیاتی منڈیوں میں امریکی شرح سود کو خاص اہمیت حاصل ہے کیونکہ اس کا اثر سرمائے کے بہاؤ، ڈالر کی مضبوطی اور ابھرتی ہوئی منڈیوں میں سرمایہ کاری پر پڑتا ہے۔ اسی وجہ سے بھارتی شیئر بازار بھی فیڈ کے فیصلوں پر حساس ردعمل ظاہر کرتا ہے۔
جمعرات کے کاروبار میں سب سے زیادہ دباؤ انفارمیشن ٹیکنالوجی (IT) کمپنیوں کے شیئرز پر دیکھا گیا۔ سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ اگر امریکہ میں بلند شرح سود طویل مدت تک برقرار رہتی ہے تو کارپوریٹ اخراجات متاثر ہو سکتے ہیں، جس سے آئی ٹی خدمات کی طلب پر اثر پڑ سکتا ہے۔ بھارتی آئی ٹی کمپنیوں کی آمدنی کا بڑا حصہ امریکی مارکیٹ سے حاصل ہوتا ہے۔
ایسی صورتحال میں عالمی اقتصادی غیر یقینی کیفیت اس شعبے کی کارکردگی کو متاثر کر سکتی ہے۔ دوسری جانب انشورنس، فارما اور بعض صارفین سے متعلق شعبوں کے شیئرز میں نسبتاً مضبوطی دیکھی گئی، جس سے مارکیٹ کو محدود حمایت حاصل ہوئی۔
شیئر بازار کے ساتھ ساتھ زرمبادلہ مارکیٹ میں بھی دباؤ دیکھا گیا۔ امریکی ڈالر کے مقابلے میں بھارتی روپیہ ابتدائی کاروبار میں کمزور ہوا اور گزشتہ چند دنوں کی مضبوطی کا سلسلہ ٹوٹ گیا۔ ماہرین کے مطابق امریکی فیڈ کے سخت مؤقف کے باعث ڈالر کو تقویت ملی ہے، جس سے ابھرتی ہوئی معیشتوں کی کرنسیوں پر دباؤ بڑھا ہے۔ خام تیل کی قیمتوں اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کی سرگرمیوں پر بھی روپے کی سمت کافی حد تک منحصر رہے گی۔
کارپوریٹ اعلانات اور نئے کاروباری پیش رفت کے باعث متعدد کمپنیوں کے شیئرز توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ انفراسٹرکچر، ٹیلی کام، ہوٹل، فارما اور صنعتی شعبوں سے تعلق رکھنے والی بعض کمپنیوں میں کاروبار کے دوران سرگرمی دیکھی جا رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کمپنیوں سے متعلق مخصوص خبروں کے باعث بعض شیئرز وسیع تر مارکیٹ کے مقابلے میں مختلف کارکردگی دکھا سکتے ہیں۔ اس لیے سرمایہ کار مارکیٹ کی مجموعی سمت کے ساتھ ساتھ انفرادی کمپنیوں کے بنیادی عوامل پر بھی توجہ دے رہے ہیں۔








