خام تیل کی قیمتوں میں اضافے اور عالمی کشیدگی کے درمیان سینسیکس 644.58 پوائنٹس گر گیا، نفٹی 23,500 سے نیچے

خام تیل کی قیمتوں میں اضافے اور جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے باعث جمعہ کو بھارتی شیئر بازار گراوٹ کے ساتھ کھلا۔ ابتدائی کاروبار میں سینسیکس 644.58 پوائنٹس کم ہو کر 75,389.84 پر آ گیا جبکہ نفٹی 50، 163.30 پوائن

خام تیل کی قیمتوں میں اضافے اور عالمی کشیدگی کے باعث جمعہ کو بھارتی شیئر بازار گراوٹ کے ساتھ کھلا۔ عالمی منڈیوں سے ملنے والے کمزور اشاروں اور خام تیل کی بڑھتی قیمتوں نے سرمایہ کاروں میں احتیاط کو بڑھا دیا۔ مارکیٹ کھلتے ہی فروخت کا دباؤ دیکھنے میں آیا اور اہم اشاریے منفی زون میں ٹریڈ کرنے لگے۔

خام تیل کی قیمتوں اور عالمی کشیدگی کا اثر

بین الاقوامی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ اس کی بڑی وجوہات میں جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور سپلائی سے متعلق خدشات شامل ہیں۔ بھارت اپنی توانائی کی ضروریات کا بڑا حصہ درآمدات کے ذریعے پورا کرتا ہے، اس لیے تیل کی قیمتوں میں اضافہ بھارتی معیشت اور شیئر بازار پر براہ راست اثر ڈالتا ہے۔

تیل مہنگا ہونے سے مہنگائی میں اضافے اور کمپنیوں کی لاگت بڑھنے کا امکان ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے جمعہ کو مارکیٹ کھلتے ہی سرمایہ کاروں نے احتیاط برتتے ہوئے فروخت کو ترجیح دی۔

سینسیکس اور نفٹی کی ابتدائی کارکردگی

جمعہ کو ابتدائی کاروبار میں بی ایس ای سینسیکس 644.58 پوائنٹس گر کر 75,389.84 کی سطح پر آ گیا۔ اسی طرح این ایس ای نفٹی 50 بھی 163.30 پوائنٹس کی کمی کے ساتھ 23,475.85 تک پہنچ گیا۔ نفٹی 23,500 کی اہم سطح سے نیچے آ گیا۔

ابتدائی گراوٹ سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ سرمایہ کار اس وقت خطرہ لینے سے گریز کر رہے ہیں اور عالمی اشاروں کا اثر بھارتی مارکیٹ پر واضح طور پر نظر آ رہا ہے۔

گراوٹ کے باوجود بعض حصص میں خریداری

اگرچہ مجموعی طور پر مارکیٹ میں دباؤ دیکھا گیا، لیکن کچھ حصص میں خریداری بھی ہوئی۔ نفٹی میں کول انڈیا، این ٹی پی سی، ریلائنس انڈسٹریز اور بجاج فنانس کے حصص بڑھت کے ساتھ ٹریڈ کرتے دکھائی دیے۔

دوسری جانب ایچ ڈی ایف سی بینک، لارسن اینڈ ٹوبرو، ٹاٹا اسٹیل، ایچ سی ایل ٹیکنالوجیز اور ٹیک مہندرا کے حصص میں کمی دیکھی گئی۔ ان بڑی کمپنیوں کے حصص میں گراوٹ نے مارکیٹ کی مجموعی کارکردگی پر دباؤ ڈالا۔

مارکیٹ میں ملا جلا رجحان

جمعہ کے ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق مارکیٹ میں ملا جلا رجحان دیکھا گیا۔ تقریباً 837 حصص میں اضافہ ہوا جبکہ 1,264 حصص گراوٹ میں ٹریڈ کر رہے تھے۔ اس کے علاوہ 162 حصص میں کوئی نمایاں تبدیلی نہیں آئی۔

ان اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ سرمایہ کار فی الحال مارکیٹ میں محتاط رویہ اختیار کر رہے ہیں۔ کچھ سرمایہ کار گراوٹ کو موقع سمجھ کر منتخب حصص میں خریداری کر رہے ہیں جبکہ کئی سرمایہ کار خطرے سے بچنے کے لیے انتظار کی حکمت عملی اختیار کر رہے ہیں۔

جے کے لکشمی سیمنٹ پر سرمایہ کاروں کی نظر

کارپوریٹ خبروں کے باعث کچھ کمپنیوں کے حصص سرمایہ کاروں کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ جے کے لکشمی سیمنٹ کو آسام میں جُویپہار نیو اُمرنگسو لائم اسٹون بلاک کے لیے ترجیحی بولی دہندہ قرار دیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ کمپنی نے NECEM سیمنٹس میں تقریباً 77.96 فیصد حصص خریدنے کی بھی منظوری دی ہے۔

مالیاتی کمپنیوں کی فنڈ جمع کرنے کی منصوبہ بندی

میکس فنانشل سروسز نے 2,000 کروڑ روپے تک فنڈ جمع کرنے کے منصوبے کی منظوری دی ہے۔ کمپنی اس رقم کو بنیادی طور پر Axis Max Life Insurance کے توسیعی اور ترقیاتی منصوبوں کے لیے استعمال کرے گی۔ اس کے علاوہ کچھ حصہ عمومی کارپوریٹ ضروریات کے لیے بھی استعمال کیا جائے گا۔

اسی طرح منورما انڈسٹریز نے بھی 500 کروڑ روپے تک فنڈ جمع کرنے کے منصوبے کی منظوری دی ہے۔

دوسری جانب نیکٹر لائف سائنسز نے اپنی ذیلی کمپنی ایوینسس ایکسپورٹس کے ساتھ 100 کروڑ روپے تک کے انٹر کارپوریٹ قرض کے معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔

بینکنگ اور توانائی کے شعبے میں پیش رفت

انڈین اوورسیز بینک نے ایک ماہ کی ایم سی ایل آر شرح میں 10 بیسس پوائنٹس کی کمی کی ہے۔ نئی شرح 15 مارچ سے نافذ العمل ہوگی جبکہ دیگر مدتوں کے لیے ایم سی ایل آر شرحوں میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔

دوسری طرف KPI گرین انرجی نے اضافی 35 میگاواٹ شمسی صلاحیت شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس توسیع کے بعد کمپنی کی مجموعی آپریشنل صلاحیت بڑھ کر 589 میگاواٹ ہو گئی ہے۔

Leave a comment