ایران امریکہ ممکنہ امن معاہدے کی خبر کے بعد بھارتی شیئر بازار میں نمایاں تیزی

ایران اور امریکہ کے درمیان ممکنہ امن معاہدے سے متعلق خبروں کے بعد عالمی منڈیوں میں مثبت رجحان دیکھا گیا۔ بھارتی شیئر بازار میں سینسیکس 1,197 پوائنٹس اور نفٹی 362 پوائنٹس بڑھا، جبکہ ایشیائی اور امریکی منڈیوں میں بھی بہتری ریکارڈ کی گئی۔

مغربی ایشیا میں طویل عرصے سے جاری کشیدگی کے درمیان ایران اور امریکہ کے درمیان ممکنہ امن معاہدے سے متعلق خبروں نے عالمی مالیاتی منڈیوں میں نئی امید پیدا کر دی ہے۔ جغرافیائی و سیاسی خطرات میں کمی کی توقع کے باعث دنیا بھر کے سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ ہوا ہے، جس کے اثرات بھارتی شیئر بازار سمیت ایشیائی اور امریکی منڈیوں میں بھی دیکھنے میں آئے ہیں۔

مثبت عالمی اشاروں کے درمیان بھارتی شیئر بازار نے مضبوط آغاز کیا۔ ابتدائی کاروبار میں بی ایس ای سینسیکس 1,197 پوائنٹس اضافے کے ساتھ 76,725.27 کی سطح تک پہنچ گیا، جبکہ این ایس ای نفٹی 362 پوائنٹس بڑھ کر 23,984.85 کی سطح پر کاروبار کرتا نظر آیا۔ ماہرین کے مطابق اگر علاقائی کشیدگی میں مستقل کمی آتی ہے تو اس کے عالمی معیشت، توانائی کی منڈیوں اور سرمایہ کاروں کے رجحانات پر مثبت اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان جاری تنازع کے خاتمے کے لیے ایک ابتدائی معاہدے پر اتفاق ہونے کی خبر سامنے آئی ہے۔ اس پیش رفت نے بین الاقوامی منڈیوں میں خطرہ مول لینے کے رجحان کو فروغ دیا ہے۔ عام طور پر جغرافیائی و سیاسی کشیدگی کے دوران سرمایہ کار محفوظ سرمایہ کاری کے ذرائع کی جانب رخ کرتے ہیں، تاہم کشیدگی میں کمی کے امکانات پیدا ہونے پر ایکویٹی منڈیوں میں سرمایہ کاری بڑھنے لگتی ہے۔ اسی وجہ سے عالمی شیئر بازاروں میں خریداری کا رجحان دیکھنے میں آیا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر یہ معاہدہ باضابطہ طور پر نافذ ہوتا ہے اور خطے میں استحکام برقرار رہتا ہے تو اس کے عالمی تجارت اور سپلائی چینز پر مثبت اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

مثبت عالمی اشاروں کے درمیان بھارتی منڈی میں وسیع پیمانے پر خریداری دیکھی گئی۔ بینکنگ، آٹوموبائل، آئی ٹی، دھاتوں اور توانائی کے شعبوں کے حصص میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ بی ایس ای سینسیکس نے ابتدائی کاروبار میں 1,197 پوائنٹس کی چھلانگ لگائی، جبکہ نفٹی 50 بھی 362 پوائنٹس اضافے کے ساتھ کھلا۔ مارکیٹ ماہرین کے مطابق غیر ملکی سرمایہ کاروں کی بڑھتی ہوئی دلچسپی اور عالمی خطرات میں کمی نے مقامی منڈی کو تقویت فراہم کی ہے۔

خام تیل کی قیمتوں میں آنے والی کمی نے بھی سرمایہ کاروں کے اعتماد پر مثبت اثر ڈالا ہے، کیونکہ بھارت اپنی توانائی کی ضروریات کے لیے بڑے پیمانے پر درآمدات پر انحصار کرتا ہے۔

امن معاہدے سے متعلق خبروں کا اثر صرف بھارتی منڈی تک محدود نہیں رہا۔ ایشیا کی بڑی شیئر منڈیوں نے بھی مضبوط آغاز کیا۔ جنوبی کوریا کا کوسپی انڈیکس سات فیصد سے زائد اضافے کے ساتھ کھلا، جبکہ کوسڈیک میں بھی نمایاں تیزی ریکارڈ کی گئی۔ جاپان کا نکی 225 اور ٹوپکس انڈیکس بھی اضافے کے ساتھ کاروبار کرتے دکھائی دیے۔

ہانگ کانگ کے ہینگ سینگ انڈیکس فیوچرز میں بھی بہتری دیکھی گئی، جو اس بات کا اشارہ ہے کہ علاقائی سرمایہ کار جغرافیائی و سیاسی کشیدگی میں ممکنہ کمی کو مثبت انداز میں دیکھ رہے ہیں۔

عالمی سرمایہ کاروں کی توجہ امریکہ اور ایران سے متعلق پیش رفت پر مرکوز رہی۔ ممکنہ امن معاہدے کی خبر کے بعد امریکی شیئر بازار کے فیوچرز میں بھی مضبوطی دیکھی گئی۔ ڈاؤ جونز انڈسٹریل ایوریج، ایس اینڈ پی 500 اور نیسڈیک 100 سے منسلک فیوچرز میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ سرمایہ کاروں کو توقع ہے کہ علاقائی استحکام عالمی اقتصادی سرگرمیوں کو سہارا دے گا اور توانائی کی سپلائی سے متعلق خطرات میں کمی لائے گا۔

جغرافیائی و سیاسی کشیدگی میں کمی کی توقع کا سب سے بڑا اثر خام تیل کی منڈی پر دیکھا گیا۔ بین الاقوامی منڈی میں ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) اور برینٹ کروڈ دونوں کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ برینٹ کروڈ کی قیمت 85 ڈالر فی بیرل کی اہم سطح سے نیچے آ گئی، جبکہ WTI کروڈ میں بھی نمایاں کمزوری دیکھی گئی۔

تیل کی قیمتوں میں کمی کو توانائی درآمد کرنے والے ممالک کے لیے ایک مثبت پیش رفت تصور کیا جاتا ہے، کیونکہ اس سے مہنگائی کے دباؤ میں کمی آ سکتی ہے اور اقتصادی سرگرمیوں کو سہارا مل سکتا ہے۔

Leave a comment