اٹلی کے کوٹین الپس میں لاپتا کوہ پیما نکولا ایوالڈو کی تلاش میں اے آئی سے فیصلہ کن سراغ

اٹلی کے کوٹین الپس میں لاپتا کوہ پیما نکولا ایوالڈو کی تلاش میں اے آئی سے فیصلہ کن سراغ

اٹلی کے پہاڑی علاقے کوٹین الپس میں ستمبر 2024 سے لاپتا ہونے والے تجربہ کار کوہ پیما اور آرتھوپیڈک سرجن نکولا ایوالڈو کی تلاش میں مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی نے فیصلہ کن کردار ادا کیا۔ کئی ماہ تک بغیر کسی پیش رفت کے جاری رہنے والا سرچ آپریشن جولائی 2025 میں ڈرون اور اے آئی ٹیکنالوجی کے استعمال کے بعد فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوا۔

ستمبر 2024 میں نکولا ایوالڈو تنہا پہاڑوں کی جانب روانہ ہوئے تھے، تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا تھا کہ وہ کس راستے کا انتخاب کر رہے ہیں۔ کئی گھنٹوں تک رابطہ نہ ہونے پر اہلِ خانہ اور ساتھیوں میں تشویش پیدا ہوئی جس کے بعد تلاش کا آغاز کیا گیا۔ ریسکیو ٹیم کو ان کی گاڑی ایک گاؤں میں کھڑی ملی، جس کے بعد اندازہ لگایا گیا کہ وہ کوٹین الپس کی دو معروف چوٹیوں میں سے کسی ایک کی جانب گئے ہوں گے۔

اس کے بعد تقریباً 50 ریسکیو اہلکاروں نے دشوار گزار پہاڑی علاقوں میں پیدل تلاش کی۔ ہیلی کاپٹر کے ذریعے بھی متعدد بار فضائی نگرانی کی گئی، تاہم کوئی ٹھوس سراغ حاصل نہ ہو سکا۔ سرچ آپریشن تقریباً ایک ہفتے تک جاری رہا لیکن کوئی نتیجہ سامنے نہیں آیا۔

ستمبر کے اختتام پر شدید برف باری شروع ہونے کے باعث موسمی حالات مزید خراب ہو گئے۔ بڑھتے ہوئے خطرات کے پیش نظر سرچ اور ریسکیو آپریشن روکنا پڑا، جس کے بعد کئی ماہ تک تلاش ممکن نہ رہی۔

جولائی 2025 میں برف پگھلنے کے بعد سرچ آپریشن دوبارہ شروع کیا گیا۔ اس مرحلے پر ریسکیو ٹیم نے ڈرون اور مصنوعی ذہانت پر مبنی سافٹ ویئر کا استعمال کیا۔ ڈرون کے ذریعے علاقے کی 2,600 سے زائد ہائی ریزولوشن تصاویر حاصل کی گئیں۔

ان تصاویر کو اے آئی سسٹم میں شامل کرنے کے بعد چند گھنٹوں کے اندر ہر تصویر کا باریک بینی سے تجزیہ کیا گیا۔ قدرتی ماحول سے مختلف نظر آنے والی اشیاء کی نشاندہی کے دوران ایک تصویر میں سرخ رنگ کی ایک شے سامنے آئی، جو بعد میں نکولا ایوالڈو کا ہیلمٹ ثابت ہوئی۔

اس اہم سراغ کی بنیاد پر تلاش کو مزید آگے بڑھایا گیا اور بالآخر ریسکیو ٹیم نے نکولا ایوالڈو کی لاش برآمد ہونے کی تصدیق کی۔

Leave a comment