بھارت میں بین الاقوامی رقم کی منتقلی کی خدمات کے لیے متھوٹ فاریکس اور منی گرام کی شراکت داری

متھوٹ فاریکس اور منی گرام نے بھارت میں بین الاقوامی رقم کی منتقلی کی خدمات کو وسعت دینے کے لیے شراکت داری شروع کی ہے۔ صارفین متعلقہ متھوٹ شاخوں کے ذریعے بیرون ملک سے بھیجی گئی رقم نقد یا ڈیجیٹل ذرائع سے حاصل کر سکیں گے۔

بھارت میں بین الاقوامی رقم کی منتقلی کی خدمات کو وسعت دینے کے مقصد سے متھوٹ فاریکس لمیٹڈ اور بین الاقوامی ادائیگی نیٹ ورک منی گرام نے اپنی کاروباری شراکت داری کا باضابطہ آغاز کر دیا ہے۔ اس تعاون کے تحت بیرون ملک سے بھیجی گئی رقم متھوٹ کی متعلقہ شاخوں سے نقد یا منی گرام کے ڈیجیٹل ذرائع کے ذریعے بینک اکاؤنٹ میں حاصل کی جا سکے گی۔

نئی دہلی میں شراکت داری کا باضابطہ آغاز

متھوٹ فاریکس اور منی گرام کے درمیان کاروباری شراکت داری کا باضابطہ آغاز نئی دہلی کے الکنندا علاقے میں واقع ایم جی جارج متھوٹ ٹاورز-3 میں کیا گیا۔ یہ متھوٹ گروپ کا شمالی خطے کا کارپوریٹ دفتر ہے۔

اس تقریب میں متھوٹ فنانس کے منیجنگ ڈائریکٹر الیگزینڈر جارج متھوٹ اور منی گرام کے جنوبی ایشیا کے سینئر ریجنل کمرشل ڈائریکٹر نوید اشرف نے شرکت کی۔ دونوں عہدیداروں نے شراکت داری سے متعلق معاہدے کا باضابطہ تبادلہ کیا۔

اس موقع پر متھوٹ گروپ اور منی گرام کے دیگر سینئر عہدیدار بھی موجود تھے۔ کمپنی کے مطابق، اس تعاون سے دونوں اداروں کے درمیان موجودہ کاروباری تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔

بھارت میں متھوٹ فاریکس کی 54 خصوصی شاخیں

متھوٹ فاریکس لمیٹڈ غیر ملکی کرنسی کی خرید و فروخت کا کاروبار کرتی ہے۔ اس سرگرمی کے لیے کمپنی کو ریزرو بینک آف انڈیا (RBI) سے اجازت حاصل ہے۔ فی الحال ملک بھر میں اس کی 54 خصوصی فاریکس شاخیں موجود ہیں۔

اس کے علاوہ متھوٹ فنانس اور متھوٹ منی کی منتخب شاخوں میں بھی غیر ملکی کرنسی سے متعلق خدمات دستیاب ہیں۔ ان شاخوں کے ذریعے صارفین غیر ملکی کرنسی کے نوٹ خرید اور فروخت کر سکتے ہیں۔ بیرون ملک سفر کرنے والوں کے لیے ٹریول کارڈ کی سہولت بھی فراہم کی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ ضرورت کے مطابق بیرون ملک رقم بھیجنے کی خدمات بھی دستیاب ہیں۔

کمپنی 'فاریکس ایٹ ہوم' کے نام سے ایک اور سہولت بھی فراہم کرتی ہے۔ بیرون ملک سفر کرنے والے افراد، اعلیٰ تعلیم کے لیے دوسرے ممالک جانے والے طلبہ اور بین الاقوامی ادائیگیاں کرنے والے صارفین اپنی ضروریات کے مطابق ان خدمات سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ تاہم، تمام خدمات ہر شاخ میں دستیاب ہونا ضروری نہیں ہے۔ اس لیے خدمات حاصل کرنے سے پہلے متعلقہ شاخ سے معلومات کی تصدیق کرنا ضروری ہے۔

متھوٹ کے وسیع نیٹ ورک کے ذریعے رقم کی منتقلی کی خدمات میں توسیع

متھوٹ فنانس بنیادی طور پر گولڈ لون خدمات کے لیے معروف ہے اور یہ متھوٹ گروپ کی اہم کمپنی ہے۔ اس گروپ کے تحت تقریباً 20 کاروباری ڈویژن کام کر رہے ہیں۔

کمپنی کی جانب سے فراہم کردہ معلومات کے مطابق، اس کا نیٹ ورک ملک بھر میں 7,600 سے زیادہ مقامات تک پھیلا ہوا ہے۔ گروپ کی مختلف مالیاتی خدمات سے روزانہ تقریباً ڈھائی لاکھ صارفین وابستہ ہوتے ہیں۔

منی گرام کے ساتھ ہونے والی شراکت داری میں متھوٹ کے اسی وسیع نیٹ ورک کو استعمال کیا جائے گا۔ اس کا مقصد ان علاقوں تک بین الاقوامی رقم کی منتقلی کی سہولت پہنچانا ہے جہاں فی الحال لوگوں کے پاس محدود متبادل موجود ہیں۔ تاہم، تمام شاخوں میں یہ خدمات بیک وقت شروع ہوں گی یا نہیں، اس بارے میں واضح معلومات فراہم نہیں کی گئی ہیں۔ صارفین اس حوالے سے متعلقہ شاخ سے معلومات حاصل کر سکتے ہیں۔

متھوٹ گروپ کا کاروبار صرف بھارت تک محدود نہیں ہے۔ یہ گروپ امریکہ، برطانیہ، متحدہ عرب امارات، نیپال اور سری لنکا سمیت دیگر ممالک میں بھی کام کرتا ہے۔

شراکت داری پر الیگزینڈر جارج متھوٹ کا بیان

متھوٹ فنانس کے منیجنگ ڈائریکٹر الیگزینڈر جارج متھوٹ نے کہا کہ منی گرام کے ساتھ دوبارہ مل کر کام کرنا کمپنی کے لیے ایک اچھا موقع ہے۔ ان کے مطابق، متھوٹ کا ملک بھر میں وسیع شاخوں کا نیٹ ورک ہے، جبکہ منی گرام بیرون ملک سے رقم بھیجنے کی سہولت فراہم کرتی ہے۔ دونوں اداروں کے اشتراک سے لوگوں کے لیے بیرون ملک سے بھیجی گئی رقم وصول کرنا آسان ہو جائے گا۔

انہوں نے بتایا کہ کمپنی کی کوشش ہے کہ لوگوں کو مالیاتی خدمات حاصل کرنے کے لیے غیر ضروری طور پر مختلف مقامات پر نہ جانا پڑے۔ خاص طور پر ملازمت یا کاروبار کے لیے بیرون ملک مقیم افراد کی جانب سے گھر بھیجی جانے والی رقم ان کے اہل خانہ کو آسانی سے دستیاب ہو سکے۔

بیرون ملک سے بھیجی گئی رقم نقد وصول کرنے کے خواہش مند صارفین اپنے قریبی متھوٹ برانچ سے رابطہ کر سکتے ہیں۔ وہاں سے انہیں معلوم ہو سکے گا کہ یہ سہولت دستیاب ہے یا نہیں اور رقم وصول کرنے کے لیے کن دستاویزات کی ضرورت ہوگی۔ اس کے علاوہ منی گرام کے سرکاری ذرائع سے بھی متعلقہ معلومات حاصل کی جا سکتی ہیں۔

Leave a comment