پٹنہ ہائی کورٹ کا دو سال سے سیل مکان کھولنے کا حکم، بہار حکومت پر 50 ہزار روپے جرمانہ

پٹنہ ہائی کورٹ کا دو سال سے سیل مکان کھولنے کا حکم، بہار حکومت پر 50 ہزار روپے جرمانہ

پٹنہ ہائی کورٹ نے دو سال سے سیل ایک رہائشی مکان کو فوری طور پر کھولنے کا حکم دیا ہے اور معاملے میں لاپروائی پر بہار حکومت پر 50 ہزار روپے کا جرمانہ عائد کیا ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ بغیر معقول وجہ اور قانونی طریقۂ کار کے کسی شہری کے مکان کو طویل مدت تک سیل رکھنا جائز نہیں ہے۔

یہ معاملہ ایک نجی رہائشی مکان سے متعلق ہے جسے انتظامیہ نے تقریباً دو سال قبل سیل کر دیا تھا۔ مکان کے مالک نے اس کارروائی کو من مانا اور غیر قانونی قرار دیتے ہوئے پٹنہ ہائی کورٹ سے رجوع کیا۔ سماعت کے دوران عدالت کو بتایا گیا کہ مکان سیل کیے جانے کے بعد طویل عرصے تک کوئی ٹھوس کارروائی نہیں کی گئی اور نہ ہی سیل کرنے سے متعلق کوئی واضح اور باقاعدہ حکم پیش کیا گیا۔

سماعت کے دوران ہائی کورٹ نے حکومت اور متعلقہ حکام کے طرزِ عمل پر عدم اطمینان کا اظہار کیا۔ عدالت نے کہا کہ کسی فرد کی ملکیت پر اس نوعیت کی پابندی اس کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگر انتظامیہ کو کوئی کارروائی کرنی تھی تو اسے مقررہ مدت کے اندر قانون کے مطابق اقدام کرنا چاہیے تھا۔

عدالت نے حکم دیا کہ متعلقہ مکان کو فوری طور پر کھولا جائے تاکہ مکان کا مالک اس کا استعمال کر سکے۔ اس کے ساتھ ہی ہائی کورٹ نے بہار حکومت کو ہدایت دی کہ وہ 50 ہزار روپے کی رقم بطور جرمانہ مکان کے مالک کو ادا کرے۔ عدالت کے مطابق یہ جرمانہ انتظامی لاپروائی اور درخواست گزار کو پیش آنے والی دشواری کے پیش نظر عائد کیا گیا ہے۔

عدالت نے یہ بھی ریکارڈ پر لیا کہ اس طرح کے معاملات میں عام شہریوں کو ذہنی، مالی اور سماجی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور دو سال تک مکان سیل رہنے کے باعث درخواست گزار کو نقصان اٹھانا پڑا۔

Leave a comment