رام بھدراچاریہ کے اہم بیانات: ورن سسٹم سے ہندو راشٹر تک

رام بھدراچاریہ کے اہم بیانات: ورن سسٹم سے ہندو راشٹر تک
آخری تازہ کاری: 21-10-2025

رام بھدراچاریہ نے وجیتھوا مہوتسو کے نویں دن، جہاں وہ والمیکی راماین کی کتھا سنا رہے تھے، مندرجہ ذیل اہم نکات بار بار بیان کیے:

انہوں نے کہا کہ سناتن روایت میں چاروں ورن — برہمن، چھتری، ویشیہ، شودر — یکساں تھے؛ اس وقت "او بی سی" یا "ایس سی" جیسی تقسیم کار زمرے نہیں تھے۔

انہوں نے دلیل دی کہ صرف "زور زور سے چلانے" سے ہندو راشٹر نہیں بن جائے گا؛ ہندو راشٹر بنانے کے لیے پارلیمنٹ میں ہندو نواز جماعتوں کو کم از کم 470 نشستیں ملنی چاہئیں۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گرد کی کوئی ذات نہیں ہوتی۔

انہوں نے بتایا کہ قدیم ہندوستان میں 18 سمرتیاں تھیں، جنہیں سناتن روایت کا "آئین" سمجھا جاتا تھا، اور وقتًا فوقتًا ان میں تبدیلیاں ہوتی رہیں۔

انہوں نے یہ تبصرہ بھی کیا کہ زیادتی کرنے والوں کو سزائے موت ملنی چاہیے۔

اس کے ساتھ ہی، انہوں نے کہا کہ اگر مہاتما گاندھی کو خراج عقیدت پیش کرنا ہے، تو پارلیمنٹ میں ایک قرارداد منظور کرکے رامچرت مانس کو قومی گرنتھ قرار دیا جانا چاہیے۔

انہوں نے "پتنی" (بیوی) لفظ کی تشریح کرتے ہوئے کہا: "جو شوہر کو پتن (نقصان) سے بچائے — وہی پتنی ہے۔" کتھا شروع ہونے سے پہلے تقریب میں پوجا ارچنا ہوئی۔

مقام اور تقریب کی معلومات

مقام: سلطانپور ضلع کے وجیتھوا علاقے میں منعقدہ مہوتسو۔

اس تقریب میں مختلف سماجی و ثقافتی شخصیات موجود تھیں — جیسے جج، راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے وِبھاگ سنگھ چالک، وغیرہ۔

تجزیہ اور سماجی پس منظر

رام بھدراچاریہ کا یہ بیان سماجی طور پر اہم ہے کیونکہ انہوں نے ورن وِوستھا، ذات پات کے زمروں اور سماجی تقسیم کا مسئلہ اٹھایا ہے۔ یہ موجودہ دور میں "ذات مخالف" نقطہ نظر اور ہم آہنگی تحریک کے تناظر میں متعلقہ ہے۔

ان کا یہ کہنا کہ "چاروں ورن یکساں تھے" اس نقطہ نظر کی عکاسی کرتا ہے کہ انہوں نے روایتی سماجی درجہ بندی (برہمن، چھتری، ویشیہ، شودر) کی روایتی تشریح کو ایک نئے زاویے سے پیش کیا ہے۔

انہوں نے ایک سیاسی تناظر بھی شامل کیا ہے — "ہندو راشٹر" کے لیے پارلیمانی نشستیں، قومی گرنتھ کا اعلان — جس سے یہ محض ایک مذہبی شخصیت کا تبصرہ نہیں رہتا، بلکہ سماجی و سیاسی گفت و شنید کا حصہ بن جاتا ہے۔

یہ بیان ان مذہبی/سماجی گروہوں میں بحث کا ایک ذریعہ بن سکتا ہے جو ذات پات کے نظریات، مذہبی معاشرت اور ہم آہنگی پر غور و فکر کرتے ہیں۔

Leave a comment