رانچی–پٹنہ وندے بھارت ایکسپریس کی ٹریکٹر ٹرالی سے ٹکر

جھارکھنڈ کے ہزاری باغ میں رانچی–پٹنہ وندے بھارت ایکسپریس کی ٹریکٹر ٹرالی سے ٹکر ہوگئی۔ واقعے میں کسی بڑے جانی نقصان کی اطلاع نہیں ہے اور ریلوے و مقامی انتظامیہ کی جانب سے تحقیقات کی جارہی ہیں۔
رانچی–پٹنہ وندے بھارت ایکسپریس کی ٹریکٹر ٹرالی سے ٹکر
Photo Credit / Attribution: Google

جھارکھنڈ میں رانچی–پٹنہ وندے بھارت ایکسپریس ہفتے کے روز ایک حادثے کا شکار ہونے سے بال بال بچ گئی۔ ہزاری باغ ضلع میں چرہی اور بیس اسٹیشن کے درمیان ریلوے ٹریک پر ٹرین کی ایک ٹریکٹر ٹرالی سے ٹکر ہوگئی۔ اس واقعے میں کسی بڑے حادثے یا جانی نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔

چرہی اور بیس کے درمیان ٹریکٹر ٹرالی سے ٹکر

رانچی سے پٹنہ جانے والی وندے بھارت ایکسپریس اپنے مقررہ راستے پر سفر کر رہی تھی، جب ہزاری باغ علاقے میں چرہی اور بیس کے درمیان ریلوے ٹریک پر اچانک ایک ٹریکٹر ٹرالی آگئی۔ ٹرین کے ڈرائیور کو اسے ہٹانے کا موقع ملنے سے پہلے ہی ٹرین ٹریکٹر ٹرالی سے ٹکرا گئی۔ ٹکر کے نتیجے میں ٹریکٹر ٹرالی کو نقصان پہنچا۔

واقعے کے بعد کچھ دیر کے لیے جائے وقوعہ پر افراتفری کی صورتحال پیدا ہوگئی۔ ٹرین میں سوار مسافروں میں بھی کچھ دیر کے لیے تشویش اور گھبراہٹ پیدا ہوئی۔ مسافروں نے اپنے طور پر بھی واقعے کی معلومات شیئر کیں۔

ریلوے اور مقامی انتظامیہ کی جانب سے تحقیقات

واقعے کے بعد ریلوے اور مقامی انتظامیہ کی جانب سے اس کی وجوہات کی تحقیقات کی جارہی ہیں۔ یہ بھی جانچ کی جارہی ہے کہ ٹریکٹر ٹرالی ریلوے ٹریک تک کیسے پہنچی اور وہاں موجود ہونے کے باوجود اسے بروقت کیوں نہیں ہٹایا جاسکا۔

ریلوے کی جانب سے ٹریک اور ٹرین کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔ یہ معلوم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے کہ ٹریکٹر ٹرالی کس راستے سے ریلوے لائن تک پہنچی تھی۔ ریلوے ٹریک کے آس پاس کوئی غیر مجاز راستہ یا کراسنگ ہونے کی صورت میں اسے بھی تحقیقات کے دائرے میں شامل کیا جائے گا۔

کراسنگ اور ٹریک کی نگرانی کا جائزہ

ریلوے حکام کی تحقیقات میں یہ بھی دیکھا جائے گا کہ واقعے کے وقت ٹریکٹر ٹرالی کا ڈرائیور کہاں تھا اور گاڑی کس مقصد سے ریلوے ٹریک کے قریب پہنچی تھی۔ اگر کسی مجاز کراسنگ سے ٹریک عبور کیا جارہا تھا تو وہاں موجود حفاظتی انتظامات اور اشاروں کی صورتحال کا بھی جائزہ لیا جاسکتا ہے۔

اگر گاڑی غیر مجاز راستے سے ٹریک پر پہنچی تھی تو ریلوے ٹریک کی نگرانی اور تجاوزات روکنے کے انتظامات کے بارے میں بھی تحقیقات کی جائیں گی۔

وندے بھارت ایکسپریس کا آپریشن

وندے بھارت ایکسپریس ایک نیم تیز رفتار ٹرین ہے اور مقررہ رفتار سے چلتی ہے۔ ریلوے ٹریک پر کسی گاڑی یا دوسری رکاوٹ کا آنا حادثے کا سبب بن سکتا ہے۔ اس لیے ایسے راستوں پر ٹریک کے حفاظتی انتظامات اہم ہوتے ہیں۔

ایسے واقعات میں لوکو پائلٹ کی چوکسی بھی اہم ہوتی ہے۔ ٹرین کے سامنے آنے والی رکاوٹ کو دیکھتے ہی ڈرائیور کو فوری طور پر ردعمل دینا پڑتا ہے۔ وندے بھارت جیسی ٹرین میں اچانک بریک لگانے کی صورتحال مسافروں کے لیے بھی تکلیف دہ اور خطرناک ہوسکتی ہے۔

بڑے جانی نقصان کی اطلاع نہیں

رانچی اور پٹنہ کے درمیان چلنے والی یہ ٹرین جھارکھنڈ اور بہار کے مسافروں کے لیے ایک اہم ریلوے سروس ہے۔ ٹرین کے راستے میں بیرونی گاڑی آنے کے واقعے کے بعد مسافروں کی حفاظت کے حوالے سے بحث ہوئی۔

ریلوے ٹریک پر ٹریکٹر ٹرالی پہنچنے کے واقعے نے ٹریک کی نگرانی، فینسنگ، لیول کراسنگ اور غیر مجاز راستوں کو روکنے کے انتظامات کا جائزہ لینے کی ضرورت بھی پیدا کردی ہے۔

فی الحال واقعے میں کسی بڑے جانی نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔ ٹرین اور ٹریکٹر ٹرالی کے درمیان ٹکر کے بعد ریلوے ٹیم نے صورتحال کا جائزہ لیا۔ مزید تحقیقات میں واقعے کی اصل وجہ اور ذمہ داری سے متعلق معلومات سامنے آنے کی توقع ہے۔

Leave a comment