برطانیہ کے وزیر اعظم اینڈی برنہم اسسٹڈ ڈائنگ بل پر ووٹ نہیں دیں گے

برطانیہ کے وزیر اعظم اینڈی برنہم نے انگلینڈ اور ویلز کے اسسٹڈ ڈائنگ بل کی دوسری ریڈنگ پر ووٹ نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ حکومت اس معاملے پر غیر جانب دار مؤقف برقرار رکھے گی۔

برطانیہ کے وزیر اعظم اینڈی برنہم نے انگلینڈ اور ویلز کے لیے مجوزہ اسسٹڈ ڈائنگ بل کی دوسری ریڈنگ پر ووٹ نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک ذاتی اور اہم معاملہ ہے اور پارلیمنٹ کو اس پر آزادانہ طور پر فیصلہ کرنا چاہیے۔

دو ہفتوں میں پارلیمنٹ میں ووٹنگ کا امکان

برطانوی پارلیمنٹ میں Terminally Ill Adults (End of Life) Bill پر جلد دوبارہ بحث اور ووٹنگ ہونے کا امکان ہے۔ یہی بل گزشتہ سال ہاؤس آف کامنز نے منظور کیا تھا، تاہم بعد میں ہاؤس آف لارڈز میں بڑی تعداد میں ترامیم کے باعث اس کی پارلیمانی کارروائی مقررہ وقت میں مکمل نہیں ہو سکی۔

مجوزہ قانون کا مقصد شدید بیمار بالغ افراد کو کچھ مقررہ شرائط اور حفاظتی اقدامات کے تحت اپنی زندگی ختم کرنے کے لیے مدد حاصل کرنے کی اجازت دینا ہے۔ بل کی موجودہ دفعات کے مطابق یہ سہولت 18 سال یا اس سے زیادہ عمر کے ان بالغ افراد کے لیے ہوگی جن کی چھ ماہ کے اندر موت واقع ہونے کی توقع ہے۔

بل کے حامی اسے شدید بیمار مریضوں کو زندگی کے آخری مرحلے کے بارے میں زیادہ اختیارات دینے کی سمت ایک اہم قدم قرار دیتے ہیں۔ دوسری جانب مخالفین کو قانون کے غلط استعمال، کمزور افراد پر ممکنہ دباؤ اور صحت کے نظام پر پڑنے والے اثرات کے حوالے سے تشویش ہے۔

برنہم نے ووٹنگ سے دور رہنے کا فیصلہ کیوں کیا

وزیر اعظم برنہم نے جمعہ کو لیبر ارکان پارلیمنٹ کو لکھے گئے خط میں اپنے فیصلے سے آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی ذمہ داری پارلیمنٹ کے فیصلے کو نافذ کرنا ہوگی، چاہے پارلیمنٹ قانون میں تبدیلی کے حق میں فیصلہ کرے یا موجودہ نظام برقرار رکھنے کا فیصلہ کرے۔

برنہم نے یہ بھی واضح کیا کہ وہ اسسٹڈ ڈائنگ کے معاملے پر ارکان پارلیمنٹ کی رائے کو متاثر کرنے کے لیے وزیر اعظم کے عہدے کو استعمال نہیں کرنا چاہتے۔ ان کے مطابق ووٹنگ سے دور رہنا اس بات کو یقینی بنانے کا بہتر طریقہ ہے کہ تمام ارکان پارلیمنٹ اس معاملے پر آزادانہ طور پر اپنی رائے دے سکیں۔

ان کے فیصلے کی اہمیت اس لیے بھی ہے کہ ان کے پیش رو وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر نے گزشتہ سال اسی تجویز کے حق میں ووٹ دیا تھا۔ تاہم، اسٹارمر نے اس وقت اس کی حمایت میں کوئی عوامی مہم نہیں چلائی تھی اور حکومت نے باضابطہ طور پر غیر جانب دار مؤقف برقرار رکھا تھا۔

حکومت باضابطہ طور پر غیر جانب دار رہے گی

برنہم نے اپنے خط میں زور دیا کہ ذاتی طور پر ووٹ نہ دینے کا ان کا فیصلہ حکومت کی سرکاری پالیسی میں تبدیلی نہیں ہے۔ حکومت اسسٹڈ ڈائنگ بل پر غیر جانب دار مؤقف برقرار رکھے گی۔

برطانوی پارلیمانی نظام میں ایسے معاملات پر پارٹی ارکان پارلیمنٹ کو اکثر آزادانہ طور پر ووٹ دینے کی اجازت دی جاتی ہے۔ اسے فری ووٹ کہا جاتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ارکان پارلیمنٹ پر پارٹی لائن کے مطابق کسی ایک فریق کے حق میں ووٹ دینے کی پابندی نہیں ہوتی۔

برنہم نے کہا کہ اس معاملے پر کوئی ایک واحد درست رائے نہیں ہے۔ انہوں نے اسے انتہائی اہم اور ذاتی نوعیت کی بحث قرار دیتے ہوئے کہا کہ مختلف خیالات رکھنے والے افراد کی رائے کا احترام کیا جانا چاہیے۔

میئر رہتے ہوئے برنہم اصولی طور پر حمایت کر چکے ہیں

اینڈی برنہم کا موجودہ مؤقف ان کے سابقہ بیانات کے مقابلے میں مختلف نظر آتا ہے۔ گریٹر مانچسٹر کے میئر کی حیثیت سے انہوں نے ماضی میں اسسٹڈ ڈائنگ کے اصول کی حمایت کے اشارے دیے تھے۔

تاہم، جون میں انہوں نے اس معاملے پر قانون نافذ کرنے کے عملی چیلنجز کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ سماجی نگہداشت اور پیلی ایٹو کیئر، یعنی زندگی کے آخری مرحلے میں مریضوں کو فراہم کی جانے والی نگہداشت، میں کافی بہتری کے بغیر اسسٹڈ ڈائنگ قانون نافذ کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔

اسسٹڈ ڈائنگ بل میں کیا ہے

مجوزہ قانون انگلینڈ اور ویلز میں بعض شدید بیمار بالغ افراد کو اپنی زندگی کے اختتام کے حوالے سے قانونی مدد حاصل کرنے کا اختیار دینے کی بات کرتا ہے۔ اس کے لیے فرد کی عمر کم از کم 18 سال ہونی چاہیے اور اس کی چھ ماہ کے اندر موت واقع ہونے کی توقع ہونی چاہیے۔

تاہم، مدد حاصل کرنے کے لیے متعدد حفاظتی اقدامات تجویز کیے گئے ہیں۔ ان کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ فیصلہ فرد کی اپنی مرضی سے کیا گیا ہو اور اس پر کسی دوسرے شخص کی جانب سے نامناسب دباؤ نہ ہو۔

یہی حفاظتی نظام بل کے حوالے سے ہونے والی اہم بحثوں میں سے ایک ہے۔ حامیوں کا خیال ہے کہ مناسب قانونی اور طبی حفاظتی اقدامات کے ذریعے غلط استعمال کو روکا جا سکتا ہے۔ مخالفین کا کہنا ہے کہ قانون بننے کے بعد کمزور حالات میں موجود افراد پر براہ راست یا بالواسطہ دباؤ کے خطرے کو مکمل طور پر ختم نہیں کیا جا سکتا۔

گزشتہ سال کامنز سے منظور ہوا تھا بل

اسسٹڈ ڈائنگ سے متعلق یہ تجویز گزشتہ سال برطانیہ کے ہاؤس آف کامنز میں ہونے والی ووٹنگ میں اکثریت حاصل کر چکی ہے۔ اس کے بعد اسے ہاؤس آف لارڈز بھیجا گیا، جہاں بڑی تعداد میں ترامیم کے باعث بل کی کارروائی طویل ہوتی گئی۔

آخرکار پارلیمانی وقت ختم ہونے کے باعث بل قانون نہیں بن سکا۔ اب اسی بل کو دوبارہ پارلیمنٹ کے سامنے لانے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ارکان پارلیمنٹ کو ایک بار پھر اس حساس معاملے پر اپنی رائے رکھنے اور ووٹ دینے کا موقع ملے گا۔

وزرا کو بھی عوامی بحث سے دور رہنے کا مشورہ

وزیر اعظم برنہم نے صرف اپنے لیے ووٹنگ سے دور رہنے کا فیصلہ نہیں کیا بلکہ وزرا کو بھی اس معاملے پر عوامی تبصروں سے گریز کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

جمعہ کو بھیجے گئے ایک الگ خط میں انہوں نے وزرا سے کہا کہ وہ عوامی بحث کا حصہ بننے سے گریز کریں اور اپنے اپنے محکموں کی ذمہ داریوں کے حوالے سے مجوزہ قانون کے اثرات پر عوامی طور پر رائے کا اظہار نہ کریں۔

تاہم، وزرا کو پارلیمنٹ میں اپنی مرضی کے مطابق ووٹ دینے کی آزادی دی گئی ہے۔ اس طرح حکومت کا سرکاری مؤقف غیر جانب دار رکھتے ہوئے ارکان پارلیمنٹ اور وزرا کو اپنے ذاتی صوابدید کی بنیاد پر فیصلہ کرنے کا موقع دیا جا رہا ہے۔

محکمہ صحت کے حوالے سے بھی اختلافات

اسسٹڈ ڈائنگ کے معاملے پر برطانیہ کے صحت کے نظام اور NHS کے کردار کے حوالے سے بھی بحث جاری ہے۔ صحت کی سیکریٹری یویٹ کوپر پہلے اسسٹڈ ڈائنگ کے حق میں ووٹ دے چکی ہیں۔

ان کے پیش رو ویس اسٹریٹنگ نے NHS پر ممکنہ اثرات کے حوالے سے عوامی طور پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔ اس وجہ سے قانون کے ممکنہ صحت سے متعلق نتائج بھی پارلیمانی بحث کا اہم حصہ بن سکتے ہیں۔

اب آگے کیا ہوگا

اب توجہ برطانوی پارلیمنٹ میں ہونے والی اگلی بحث اور ووٹنگ پر ہے۔ اگر ہاؤس آف کامنز دوبارہ بل کی منظوری دیتا ہے تو اس کے بعد اسے پارلیمانی کارروائی کے اگلے مراحل سے گزرنا ہوگا۔ حتمی طور پر قانون بننے سے پہلے اس کی دفعات، حفاظتی اقدامات اور ترامیم پر تفصیلی بحث ہو سکتی ہے۔

وزیر اعظم برنہم نے ووٹنگ سے دور رہنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ ذاتی رائے رکھنے کے باوجود وہ وزیر اعظم کے عہدے کی غیر جانب داری برقرار رکھنے کے لیے ووٹ نہیں دیں گے۔ دوسری جانب ارکان پارلیمنٹ کو آزادانہ طور پر ووٹ دینے کا موقع دیا جا رہا ہے۔

اسسٹڈ ڈائنگ کا معاملہ برطانیہ میں طویل عرصے سے اخلاقی، قانونی، طبی اور سماجی بحث کا موضوع رہا ہے۔ آنے والی پارلیمانی کارروائی اس بات کا تعین کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی کہ انگلینڈ اور ویلز میں شدید بیمار مریضوں کی زندگی کے آخری مرحلے سے متعلق قانون میں کوئی تبدیلی ہوتی ہے یا نہیں۔

Leave a comment