سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں ہونے والا سکس کنگز سلام ٹینس نمائشی ٹورنامنٹ ملتوی کر دیا گیا ہے۔ منتظمین نے یہ فیصلہ خطے میں بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی کے ساتھ ٹورنامنٹ سے متعلق سکیورٹی، لاجسٹکس اور انتظامی چیلنجز کا جائزہ لینے کے بعد کیا ہے۔ کارلوس الکاراز، نوواک جوکووچ اور الیگزینڈر زویریو جیسے ٹاپ ٹینس کھلاڑیوں کی شرکت والے اس ٹورنامنٹ کو اب 27 سے 30 دسمبر کے درمیان منعقد کرنے کی تجویز ہے۔
اصل شیڈول کے مطابق تین روزہ ٹورنامنٹ 21 اکتوبر سے شروع ہونا تھا۔ تاہم سعودی عرب اور اس کے آس پاس کے علاقے میں حالیہ حملوں کی اطلاعات کے بعد مقابلے کے انعقاد سے متعلق غیر یقینی صورتحال بڑھ گئی تھی۔ منتظمین نے کہا کہ ٹورنامنٹ ملتوی کرنے کا فیصلہ مقابلے کے معیار اور شائقین کے تجربے کو برقرار رکھنے کے مقصد سے کیا گیا ہے۔
ٹورنامنٹ ملتوی کرنے کی وجہ
سکس کنگز سلام کے منتظمین نے بی بی سی اسپورٹ کو بتایا کہ ریاض سیزن کی ترجیح اعلیٰ سطح کے کھیلوں کے مقابلوں کو یقینی بنانا ہے۔ ان کے مطابق ٹورنامنٹ کے انعقاد سے متعلق انتظامی اور لاجسٹک چیلنجز کا جائزہ لینے کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا۔ ان چیلنجز کے شائقین کے تجربے پر ممکنہ اثرات کو بھی فیصلے کی بنیاد بنایا گیا۔
خطے کی سکیورٹی صورتحال پر بڑھتی ہوئی تشویش کے درمیان کسی بین الاقوامی کھیلوں کے مقابلے کے لیے کھلاڑیوں، عہدیداروں، عملے اور شائقین کی آمدورفت کا انتظام اہم ہو جاتا ہے۔ فضائی سفر، مقامی نقل و حمل، مقام تک رسائی اور دیگر انتظامی ضروریات بھی متاثر ہو سکتی ہیں۔
تاہم منتظمین کے عوامی بیان میں سکیورٹی کو ٹورنامنٹ ملتوی کرنے کی واحد باضابطہ وجہ قرار نہیں دیا گیا۔ اس لیے فیصلے کو علاقائی کشیدگی کے تناظر میں دیکھتے ہوئے منتظمین کی جانب سے بتائے گئے لاجسٹک اور مقابلے کے انتظام سے متعلق اسباب کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔
الکاراز، جوکووچ اور زویریو کی شرکت متوقع تھی
سکس کنگز سلام کے آئندہ ایڈیشن میں دنیا کے کئی نمایاں ٹینس کھلاڑیوں کی شرکت کا منصوبہ تھا۔ ان میں اسپین کے کارلوس الکاراز، سربیا کے نوواک جوکووچ اور جرمنی کے الیگزینڈر زویریو شامل تھے۔
آسٹریلیا کے ایلکس ڈی مناؤر کے علاوہ امریکا کے ٹیلر فرٹز اور لرنر ٹیئن کو بھی ٹورنامنٹ میں کھیلنے کے لیے مقرر کیا گیا تھا۔ ان کھلاڑیوں کی شرکت سے ٹورنامنٹ کو بین الاقوامی سطح پر وسیع توجہ ملنے کی توقع تھی۔
یہ مقابلہ روایتی اے ٹی پی ٹور ٹورنامنٹ کے بجائے ایک نمائشی ایونٹ کے طور پر جانا جاتا ہے۔ اس میں ٹاپ کھلاڑیوں کو ایک ہی پلیٹ فارم پر دیکھنے کا موقع ملتا ہے۔ ایسے ایونٹس کی کشش کھلاڑیوں کی شہرت، مقابلے کے فارمیٹ اور شائقین کے لیے دستیاب خصوصی تجربے پر منحصر ہوتی ہے۔
ملتوی کیے جانے کے بعد اب کھلاڑیوں کے شیڈول اور دسمبر میں ان کی دستیابی پر نظر رہے گی۔ دستیاب معلومات میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ اعلان کردہ تمام کھلاڑیوں نے نئی تاریخوں پر شرکت کی تصدیق کی ہے یا نہیں۔
ریاض میں حملوں کی اطلاعات کے بعد غیر یقینی صورتحال بڑھی
ٹورنامنٹ کے انعقاد سے متعلق غیر یقینی صورتحال اس وقت بڑھی جب یمن کی حوثی تحریک کی جانب سے سعودی عرب پر حملوں کی اطلاعات سامنے آئیں۔ دستیاب رپورٹ کے مطابق ہفتے کے آخر میں ہونے والے حملوں میں ریاض کے ہوائی اڈے کے قریب میزائل حملے کا واقعہ بھی شامل تھا۔ ان اطلاعات میں بڑی تعداد میں افراد کے ہلاک اور زخمی ہونے کا دعویٰ کیا گیا۔
سعودی عرب کے توانائی کے مراکز کو بھی نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات سامنے آئیں۔ اس کے بعد ملک کے توانائی کے وزیر نے سخت ردعمل دینے کی بات کہی۔ ان واقعات سے علاقائی سکیورٹی اور نقل و حمل کے نظام سے متعلق خدشات میں اضافہ ہوا۔
تاہم کسی بھی حملے کی ذمہ داری، ہلاکتوں کی تعداد اور واقعات کی تفصیلات کی تصدیق کے لیے سرکاری بیانات اور قابل اعتماد آزاد رپورٹس سے رجوع کرنا ضروری ہے۔ علاقائی تنازع سے متعلق ابتدائی اطلاعات میں تفصیلات تبدیل ہو سکتی ہیں۔ اس لیے حملوں سے متعلق دعووں کو حتمی طور پر ثابت شدہ حقائق تسلیم کرنے سے پہلے ان کی تصدیق ضروری ہے۔
سعودی پرو لیگ کے فٹبال میچز بھی دوبارہ مقرر
علاقائی کشیدگی کے اثرات سعودی عرب کے دیگر کھیلوں کے مقابلوں پر بھی نظر آئے ہیں۔ دستیاب معلومات کے مطابق سعودی پرو لیگ کے تین میچز کو بھی نئی تاریخوں پر منتقل کیا گیا ہے۔
ان میں الریاض اور الہلال کے درمیان ہونے والا میچ اور جدہ میں الیتحاد اور الشباب کے درمیان ہونے والا مقابلہ شامل ہے۔ ان دونوں میچز کو دسمبر تک آگے بڑھا دیا گیا۔ جبکہ جدہ میں النصر اور الاہلی کے درمیان ہونے والے میچ کو مارچ تک دوبارہ مقرر کیا گیا ہے۔
لیگ نے میچز کی تاریخیں تبدیل کرنے کے لیے لاجسٹک وجوہات کا حوالہ دیا۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ بڑے کھیلوں کے مقابلوں کے انعقاد میں صرف کھلاڑیوں کی دستیابی ہی نہیں بلکہ سفر، مقام کا انتظام اور دیگر انتظامی ضروریات بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
اس سے قبل النصر کے لیے کھیلنے والے کرسٹیانو رونالڈو نے اے ایف سی چیمپئنز لیگ کے ایک میچ میں گول کیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق میزائل الرٹ کی وجہ سے میچ کا آغاز تقریباً ایک گھنٹے کی تاخیر سے ہوا۔ یہ واقعہ کھیلوں کے مقابلوں کے انتظام پر سکیورٹی صورتحال کے ممکنہ اثرات کو ظاہر کرتا ہے۔
فارمولا ون اور گالف ایونٹس پر بھی نظر
علاقائی تنازع کے اثرات مستقبل میں ہونے والے دیگر بین الاقوامی کھیلوں کے مقابلوں پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ رپورٹ میں قطر اور ابوظہبی میں مجوزہ فارمولا ون ریسز کا ذکر کیا گیا ہے۔ تاہم دستیاب معلومات کی بنیاد پر ان ریسز کے ملتوی یا منسوخ ہونے کی تصدیق نہیں ہوئی۔ فی الحال انہیں صرف ایسے ایونٹس کے طور پر دیکھا جانا چاہیے جو ممکنہ طور پر متاثر ہو سکتے ہیں۔
گالف کے شعبے میں ایشین ٹور نے کہا ہے کہ وہ سعودی عرب کی صورتحال پر گہری نظر رکھ رہا ہے۔ ٹور کے سیزن کے اختتامی پی آئی ایف سعودی انٹرنیشنل ٹورنامنٹ کو 18 سے 21 نومبر تک ریاض گالف کلب میں منعقد کرنے کا منصوبہ ہے۔
ایشین ٹور نے رائٹرز کو بتایا کہ وہ اپنے شراکت دار گالف سعودی کے ساتھ خطے کی بدلتی صورتحال اور نومبر میں مقابلے کے انعقاد کے امکانات پر بات کر رہا ہے۔ اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ گالف منتظمین بھی صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں، تاہم ٹورنامنٹ کے بارے میں حتمی فیصلے کی کوئی اطلاع دستیاب نہیں ہے۔
دسمبر میں انعقاد پر نظر رہے گی
سکس کنگز سلام کا ملتوی ہونا سعودی عرب میں کھیلوں کے مقابلوں کے شیڈول اور انتظام سے متعلق غیر یقینی صورتحال کو سامنے لاتا ہے۔ دسمبر کی نئی تاریخیں منتظمین کو تیاری کے لیے اضافی وقت فراہم کر سکتی ہیں، لیکن ٹورنامنٹ کا کامیاب انعقاد علاقائی صورتحال، کھلاڑیوں کی دستیابی اور انتظامی تیاریوں پر منحصر ہوگا۔
بین الاقوامی کھیلوں کے مقابلوں کے لیے مستحکم انتظامی نظام، قابل اعتماد نقل و حمل اور شائقین کی سکیورٹی اہم ہوتی ہے۔ ایسے میں منتظمین کو نئی تاریخوں کے ساتھ تمام متعلقہ فریقوں کے لیے واضح انتظامات یقینی بنانا ہوں گے۔
فی الحال سکس کنگز سلام کو 27 سے 30 دسمبر کے درمیان منعقد کرنے کا منصوبہ ہے۔ اس کے ساتھ سعودی پرو لیگ کے دوبارہ مقرر کیے گئے میچز اور نومبر میں مجوزہ گالف ٹورنامنٹ پر بھی نظر رہے گی۔ ان مقابلوں کی حتمی صورتحال متعلقہ منتظمین کے اعلانات اور علاقائی حالات میں ہونے والی آئندہ پیش رفت سے واضح ہوگی۔







