تروپتی لڈو کیس میں ED نے 129.85 کروڑ روپے کی جائیدادیں اٹیچ کیں

تروپتی مندر کے لڈو پرساد میں مبینہ ملاوٹ شدہ گھی کی سپلائی سے منسلک منی لانڈرنگ کیس میں ED نے 129.85 کروڑ روپے مالیت کی جائیدادیں عارضی طور پر اٹیچ کی ہیں۔ کیس میں اب تک اٹیچ، ضبط یا منجمد کی گئی جائیدادوں کی مجموعی مالیت 132.55 کروڑ روپے ہے۔

انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ED) نے تروپتی مندر کے لڈو پرساد میں مبینہ ملاوٹ شدہ گھی کی سپلائی سے منسلک منی لانڈرنگ کیس میں ڈیری کمپنیوں، ان کے پروموٹرز اور دیگر متعلقہ افراد کی 129.85 کروڑ روپے کی جائیدادیں عارضی طور پر اٹیچ کی ہیں۔ ایجنسی کے مطابق، اس تازہ کارروائی کے بعد کیس میں اب تک اٹیچ، ضبط یا منجمد کی گئی جائیدادوں کی مجموعی مالیت 132.55 کروڑ روپے ہو گئی ہے۔

منی لانڈرنگ کیس میں جائیدادوں کے خلاف کارروائی

ED نے بتایا کہ یہ کارروائی منی لانڈرنگ کی روک تھام کے قانون (PMLA)، 2002 کے تحت کی گئی ہے۔ تحقیقات مبینہ ملاوٹ شدہ گھی کی سپلائی سے منسلک منی لانڈرنگ اور مالی لین دین پر مرکوز ہیں۔

ایجنسی کا الزام ہے کہ متعلقہ کمپنیوں نے گھی کے نام پر ایسی مصنوعات سپلائی کیں جن کی تیاری میں مختلف نباتاتی تیلوں اور کیمیائی مادوں کا استعمال کیا گیا تھا۔ تاہم، ان الزامات کی حتمی تصدیق عدالتی کارروائی کے تحت ہی ہوگی۔

کن کمپنیوں اور افراد کی جائیدادیں اٹیچ ہوئیں

ED کے مطابق، کارروائی میں بھولے بابا آرگینک ڈیری ملک پرائیویٹ لمیٹڈ، شری ویشنو دیری اسپیشیلٹیز پرائیویٹ لمیٹڈ اور ان سے منسلک پروموٹرز وپن جین اور پومل جین کی جائیدادیں شامل ہیں۔

اس کے علاوہ، سُکرتی فوڈز پرائیویٹ لمیٹڈ، اس کے پروموٹر کیلاش چند منگل، ان کے خاندان کے افراد اور متعلقہ کمپنیوں اور افراد کی جائیدادوں کے خلاف بھی کارروائی کی گئی ہے۔

ایجنسی نے ان جائیدادوں کو عارضی طور پر اٹیچ کیا ہے۔ ایسی کارروائی کا مقصد مبینہ جرم سے حاصل آمدنی یا اس سے متعلق جائیدادوں کو تحقیقات کے دوران محفوظ رکھنا ہوتا ہے۔ عارضی اٹیچمنٹ اپنے آپ میں کسی فرد یا کمپنی کے خلاف الزامات کے عدالت میں ثابت ہونے کی نشاندہی نہیں کرتی۔

ED متعلقہ کمپنیوں کے مالی ریکارڈ، بینکنگ لین دین اور مبینہ سپلائی نیٹ ورک کی جانچ کر رہی ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ رقم کا بہاؤ کس طرح ہوا اور اس سے کن افراد کو فائدہ پہنچا۔

234.5 کروڑ روپے کی مبینہ ملاوٹ شدہ گھی کی سپلائی

ED کے مطابق، اس کی تحقیقات میں سامنے آیا کہ بھولے بابا آرگینک ڈیری ملک نے براہ راست اور مبینہ درمیانی کمپنیوں کے ذریعے TTD کو تقریباً 234.5 کروڑ روپے مالیت کا ملاوٹ شدہ گھی سپلائی کیا۔ ایجنسی کا الزام ہے کہ کچھ کمپنیوں نے اپنے نام سے ٹینڈر کے عمل میں حصہ لیا اور اس کے بدلے کمیشن حاصل کیا۔

تحقیقاتی ایجنسی کے مطابق، مبینہ طور پر استعمال کیے گئے اس طریقہ کار میں کچھ کمپنیوں نے حقیقی ڈیری کاروبار کا تاثر پیش کیا، جبکہ ان کے مالی ریکارڈ میں مشتبہ لین دین درج تھے۔ ED کا دعویٰ ہے کہ ان انتظامات کا استعمال مصنوعات کی اصل نوعیت اور رقم کے ذرائع کو چھپانے کے لیے کیا گیا۔

اس معاملے میں گھی کے معیار، پیداواری عمل اور سپلائی سے متعلق الزامات کی مختلف شواہد کی بنیاد پر تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ الزامات اور کمپنیوں کے کردار کے بارے میں حتمی فیصلہ مجاز عدالت کرے گی۔

نباتاتی تیل اور کیمیائی مادوں کے استعمال کا الزام

ED نے الزام لگایا ہے کہ مبینہ ملاوٹ شدہ گھی بھولے بابا اور سُکرتی فوڈز کی پیداواری یونٹس میں تیار کیا گیا تھا۔ ایجنسی کے مطابق، اس عمل میں ریفائنڈ پام آئل، پام کرنل آئل اور پامولین کو مونوگلیسرائیڈز، ایسیٹک ایسڈ ایسٹر، لیکٹک ایسڈ اور بیٹا کیروٹین جیسے مادوں کے ساتھ ملایا گیا تھا۔

تحقیقاتی ایجنسی کا دعویٰ ہے کہ ان مصنوعات کے چالان کھانے کے تیل کے طور پر تیار کیے جاتے تھے، جبکہ متعلقہ مالی ریکارڈ میں کاروبار کو حقیقی ڈیری سرگرمی کے طور پر ظاہر کرنے کی کوشش کی گئی۔ ED یہ بھی جانچ رہی ہے کہ پیداوار، خریداری اور فروخت سے متعلق دستاویزات میں مبینہ تضادات کس مقصد سے درج کیے گئے۔

یہ تفصیلات تحقیقاتی ایجنسی کے الزامات پر مبنی ہیں۔ مصنوعات کی اصل ساخت اور سپلائی سے متعلق نتائج کو آزادانہ ٹیسٹ رپورٹس اور عدالتی ریکارڈ کی بنیاد پر ہی حتمی شکل دی جا سکتی ہے۔

فرضی خرید و فروخت اور حوالہ کے ذریعے ادائیگی کا الزام

ED کے مطابق، مبینہ مالی بے ضابطگیوں میں پام آئل کی فروخت فرضی خریداروں کو ظاہر کرنے کا طریقہ بھی شامل تھا۔ ایجنسی کا الزام ہے کہ ریکارڈ میں دودھ اور گھی کی فرضی خریداری اور اسکِمڈ ملک جیسے ضمنی مصنوعات کی فروخت درج کی گئی۔

تحقیقات میں یہ الزام بھی سامنے آیا کہ فرضی خریداری کے لیے بینکنگ ذرائع سے کی گئی ادائیگیاں بعد میں حوالہ نیٹ ورک کے ذریعے نقد رقم کی صورت میں واپس کی جاتی تھیں۔ ED کا دعویٰ ہے کہ اس رقم کا استعمال مبینہ فرضی خریداروں کو ادائیگی، درمیانی ڈیری کمپنیوں کو کمیشن دینے اور کیس سے منسلک دیگر افراد تک رقم پہنچانے کے لیے کیا گیا۔

اگر ان الزامات کی تصدیق ہوتی ہے تو کیس میں مبینہ مالی دھوکہ دہی اور منی لانڈرنگ کے پہلو بھی شامل ہوں گے۔ فی الحال ایجنسی ان لین دین سے متعلق دستاویزات اور مالی روابط کی جانچ کر رہی ہے۔

16 مقامات پر تلاشی، 2.7 کروڑ روپے نقدی اور بینک رقم ضبط

ED نے اس سے قبل 3 جون 2026 کو ملک کی چھ ریاستوں اور علاقوں میں 16 مقامات پر تلاشی مہم چلائی تھی۔ یہ مقامات اتر پردیش، تمل ناڈو، مہاراشٹر، دہلی، راجستھان اور آندھرا پردیش میں تھے۔

ایجنسی کے مطابق، تلاشی مبینہ اہم سازشی عناصر، درمیانی ڈیری کمپنیوں، کیمیائی مادوں کے سپلائرز اور مالی لین دین میں مدد کرنے والے مبینہ افراد سے منسلک احاطوں میں کی گئی تھی۔

اس کارروائی کے دوران تقریباً 2.7 کروڑ روپے نقدی اور بینک کھاتوں میں موجود رقم ضبط یا منجمد کی گئی تھی۔ اس کے بعد ED نے مالی دستاویزات اور دیگر شواہد کا تجزیہ کرتے ہوئے تحقیقات کو آگے بڑھایا۔

تازہ کارروائی میں 129.85 کروڑ روپے مالیت کی جائیدادیں عارضی طور پر اٹیچ کی گئی ہیں۔ ایجنسی کے مطابق، اب تک اٹیچ، ضبط یا منجمد کی گئی جائیدادوں کی مجموعی مالیت 132.55 کروڑ روپے ہے۔

دو پروموٹر گرفتار، تحقیقات جاری

ED پہلے ہی بھولے بابا آرگینک ڈیری ملک پرائیویٹ لمیٹڈ کے پروموٹر اور ڈائریکٹر وپن جین اور سُکرتی فوڈز پرائیویٹ لمیٹڈ کے پروموٹر اور ڈائریکٹر کیلاش چند منگل کو گرفتار کر چکی ہے۔ ایجنسی کا الزام ہے کہ دونوں نے مبینہ ملاوٹ شدہ گھی کی تیاری اور اس کی سپلائی کے انتظام میں اہم کردار ادا کیا۔

تحقیقاتی ایجنسی متعلقہ کمپنیوں کے درمیان مالی روابط، مبینہ درمیانی افراد کے کردار اور رقم کے حتمی استعمال کا پتہ لگانے کے لیے تحقیقات کر رہی ہے۔ اس مقصد کے لیے بینک کھاتوں، کاروباری ریکارڈ، ادائیگی کی دستاویزات اور دستیاب دیگر شواہد کی جانچ کی جا رہی ہے۔

کیس میں شامل کمپنیوں اور افراد کی ذمہ داری کا حتمی تعین تحقیقات اور عدالتی کارروائی مکمل ہونے کے بعد ہی کیا جائے گا۔

Leave a comment