دہلی احتجاج کیس میں الیکشن کمیشن اور حکام کو سپریم کورٹ کا نوٹس

سپریم کورٹ نے 15 اکتوبر 2026 کو دہلی احتجاج اور عدالت کے احاطے میں پیش آنے والے واقعات سے متعلق درخواستوں پر سماعت کرتے ہوئے الیکشن کمیشن، انتخابی حکام، دہلی پولیس اور دیگر متعلقہ فریقوں سے جواب طلب کیا۔

دہلی میں ہونے والے احتجاج اور سپریم کورٹ احاطے میں پیش آنے والے واقعات سے متعلق متعدد درخواستوں پر سپریم کورٹ نے 15 اکتوبر 2026 کو سماعت کی۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس سوریہ کانت نے واضح کیا کہ کوئی بھی عدلیہ کو ڈرانے یا دباؤ میں لانے کی کوشش نہیں کر سکتا۔ عدالت نے الیکشن کمیشن، انتخابی حکام، دہلی پولیس اور دہلی حکومت سمیت متعلقہ فریقوں سے مختلف معاملات میں جواب طلب کیا۔

الیکشن کمیشن اور انتخابی حکام کو نوٹس

سپریم کورٹ نے خصوصی گہری نظرثانی (SIR) اور چیف الیکشن کمشنر سے متعلق معاملات پر دائر درخواستوں کے سلسلے میں الیکشن کمیشن اور متعلقہ حکام سے جواب طلب کیا۔ دستیاب معلومات کے مطابق چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے علاوہ الیکشن کمشنروں سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی کو بھی نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔

خاتون صحافیوں کے ساتھ مبینہ بدسلوکی کا معاملہ

دہلی میں احتجاج کے دوران خاتون صحافیوں کے ساتھ پولیس کی جانب سے مبینہ بدسلوکی اور مارپیٹ کے الزامات عدالت کے سامنے اٹھائے گئے۔ چیف جسٹس نے سینئر وکیل اندرا جے سنگھ سے اس معاملے سے متعلق دستاویزات دو سربمہر لفافوں میں جمع کرانے کو کہا۔ عدالت نے تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل دینے کے امکان پر بھی غور کیا۔

راہل گاندھی اور دیگر رہنماؤں سے متعلق درخواستیں

احتجاج اور سپریم کورٹ تک مارچ سے متعلق مقدمات میں راہل گاندھی، سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو اور دیگر رہنماؤں سے متعلق درخواستوں پر نوٹس جاری کیے جانے کی اطلاع سامنے آئی ہے۔ ان درخواستوں میں احتجاج کے دوران پیش آنے والے واقعات اور عدالت کے احاطے میں مبینہ نعرے بازی سے متعلق سوالات اٹھائے گئے ہیں۔

عدالت کے احاطے میں احتجاج پر اعتراض

سماعت کے دوران سینئر وکیل گورو بھاٹیہ نے سپریم کورٹ کے احاطے میں سیاسی سرگرمیوں اور مبینہ جلوس پر اعتراض کیا۔ انہوں نے اسے عدلیہ پر دباؤ ڈالنے کی کوشش قرار دیا۔ اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ عدلیہ کو ڈرایا یا دھمکایا نہیں جا سکتا۔

خاتون صحافیوں کی شناخت اور صحافت پر بحث

سولیسیٹر جنرل تشار مہتا نے سماعت کے دوران صحافیوں کی شناخت سے متعلق معاملہ اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل دور میں موبائل فون سے ویڈیو بنانے اور اسے سوشل میڈیا پر شیئر کرنے والے افراد کی شناخت کرنا چیلنج ہوسکتا ہے۔ احتجاج کے دوران صحافیوں کی سلامتی اور ان کی پیشہ ورانہ شناخت سے متعلق سوالات پر عدالت میں بحث ہوئی۔

CCTV فوٹیج محفوظ رکھنے کی ہدایت

سپریم کورٹ نے دہلی میں ہونے والے احتجاج سے متعلق CCTV فوٹیج محفوظ رکھنے کی ہدایت پولیس حکام کو دی۔ عدالت نے جنتر منتر کو احتجاجی مقام کے طور پر استعمال کرنے سے متعلق فیصلے پر بھی حکومت سے سوال کیا۔

خاتون صحافی کی گرفتاری سے متعلق ہدایت

سماعت کے دوران ایک خاتون صحافی سے متعلق معاملے میں چیف جسٹس نے دہلی پولیس کو انہیں گرفتار نہ کرنے کی ہدایت دی۔ سولیسیٹر جنرل نے عدالت کو بتایا کہ اگر وہ تحقیقات میں شامل ہوتی ہیں تو انہیں گرفتار نہیں کیا جائے گا۔ اس معاملے میں مزید کارروائی عدالت کی ہدایات اور متعلقہ تحقیقات کی شرائط کے مطابق ہوگی۔

تمام فریقوں کو اپنا موقف پیش کرنے کا موقع

عدالت نے کہا کہ اس کے سامنے آنے والی ہر آواز اہم ہے اور تمام متعلقہ فریقوں کو اپنا موقف پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ وزارت داخلہ، دہلی میٹرو اور دہلی پولیس کی جانب سے داخل کیے گئے حلف ناموں کو بھی عدالت نے مدنظر رکھا۔ جوابی حلف نامے داخل ہونے کے بعد مزید سماعت ہوگی۔

SIR، میٹرو اور پولیس کارروائی سے متعلق درخواستیں

سماعت میں SIR، چیف الیکشن کمشنر کے خلاف اپوزیشن رہنماؤں کی شکایات، دہلی میٹرو کی خدمات میں مبینہ رکاوٹ اور پولیس کارروائی جیسے معاملات شامل رہے۔ اسد الدین اویسی کی جانب سے دائر درخواست اور احتجاج سے متعلق دیگر درخواستوں پر بھی متعلقہ فریقوں سے جواب طلب کیے جانے کی اطلاع دی گئی۔

اگلی سماعت کی تاریخ

دستیاب معلومات کے مطابق عدالت نے سماعت کے دوران اگلی تاریخ کا اعلان نہیں کیا۔ تحریری حکم جاری ہونے کے بعد مزید کارروائی اور ہدایات واضح ہوسکتی ہیں۔ SIR سے متعلق مقدمات اور احتجاج پر عائد پابندیوں سے متعلق درخواستوں کی الگ الگ سماعت کیے جانے کا امکان ہے۔

دہلی احتجاج کے معاملے میں سپریم کورٹ کی آئندہ کارروائی متعلقہ فریقوں کے جوابات، داخل کیے گئے دستاویزات اور تحریری احکامات پر منحصر ہوگی۔ خاتون صحافیوں سے متعلق الزامات کی تحقیقات، CCTV فوٹیج کا تحفظ اور احتجاج سے متعلق پابندیوں کی قانونی حیثیت جیسے معاملات زیرِ سماعت رہیں گے۔

 

Leave a comment