ٹیک آف کے کچھ دیر بعد سیپہران ایئرلائنز کا بوئنگ 737 مشہد واپس پہنچا
ایران کے مشہد سے کرمانشاہ جانے والی سیپہران ایئرلائنز کی بوئنگ 737 پرواز کو منگل، 15 ستمبر کو ٹیک آف کے کچھ ہی دیر بعد ہنگامی صورتحال کے باعث مشہد ایئرپورٹ واپس آنا پڑا۔ ابتدائی رپورٹس کے مطابق، ٹیک آف کے بعد لینڈنگ گیئر کے ایک ٹائر میں سنگین خرابی پیدا ہوئی اور ٹائر الگ ہوگیا۔ اس کے بعد طیارے میں شدید کمپن محسوس کی گئی۔
رپورٹس میں یہ بھی بتایا گیا کہ ٹائر سے ہونے والے نقصان کے بعد انجن میں بھی مسئلہ پیدا ہوا۔ تاہم، واقعے کی مکمل تکنیکی وجہ ابھی سرکاری تحقیقات کا موضوع ہے۔ صورتحال کو دیکھتے ہوئے پائلٹوں نے طیارے کو مشہد واپس لانے اور ہنگامی لینڈنگ کرانے کا فیصلہ کیا۔
شدید کمپن سے کیبن کو نقصان
طیارے میں شدید کمپن کے باعث مسافروں میں گھبراہٹ پھیل گئی۔ سوشل میڈیا اور ایرانی میڈیا میں سامنے آنے والی ویڈیوز میں کیبن کے اندر سامان ادھر اُدھر گرتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ شدید کمپن کے دوران کیبن کی چھت کی اندرونی پینلنگ کا ایک حصہ بھی نیچے آگیا، جس کے باعث طیارے کے اندرونی ساختی حصے دکھائی دینے لگے۔
ویڈیو میں کچھ مسافر خوف کے باعث پریشان نظر آئے۔ تاہم طیارہ محفوظ طریقے سے مشہد ایئرپورٹ پر اتر گیا۔ دستیاب رپورٹس کے مطابق کسی مسافر یا عملے کے رکن کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ہے۔
مقامی وقت کے مطابق شام 5:39 بجے واقعہ
رضوی خراسان صوبے کے حکام کے مطابق یہ واقعہ مقامی وقت کے مطابق شام 5:39 بجے پیش آیا۔ واقعے کے بعد طیارے کو محفوظ طریقے سے مشہد واپس لایا گیا۔
ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق سیپہران ایئرلائنز کے ترجمان حسن جعفری نے بتایا کہ طیارے میں سوار تمام افراد بحفاظت باہر نکل گئے۔ بعد میں مسافروں کو متبادل طیارے کے ذریعے کرمانشاہ بھیجنے کا انتظام کیا گیا۔
واقعے کے بعد مشہد ایئرپورٹ کا رن وے کچھ وقت کے لیے بند رکھا گیا۔ طیارے اور رن وے کی صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد آپریشن دوبارہ شروع کردیا گیا۔
ٹائر میں خرابی سے پیدا ہونے والی صورتحال
طیارے کا ٹائر پھٹ جانا یا لینڈنگ گیئر سے ٹائر الگ ہوجانا بذاتِ خود طیارے کے حادثے کا سبب نہیں بنتا۔ طیاروں کو ایسی تکنیکی صورتحال سے نمٹنے کے لیے خصوصی طریقہ کار کے ساتھ ڈیزائن کیا جاتا ہے۔ خطرے کی شدت اس بات پر منحصر ہوتی ہے کہ خرابی پرواز کے کس مرحلے میں ہوئی اور اس کے نتیجے میں طیارے کے دیگر حصوں کو کتنا نقصان پہنچا۔
اگر ٹائر کا کوئی حصہ ٹوٹ کر الگ ہوجائے تو اس کے ٹکڑے لینڈنگ گیئر، انجن یا قریبی دیگر حصوں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ ٹیک آف کے فوراً بعد ایسی صورتحال پیدا ہونے پر پائلٹوں کو کئی طریقہ کار پر عمل کرنا پڑتا ہے۔ طیارے کی صورتحال، ایندھن، بلندی اور دستیاب ایئرپورٹ جیسے عوامل کو مدنظر رکھتے ہوئے واپس آنے یا پرواز جاری رکھنے کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔
مشہد کے واقعے میں عملے نے طیارے کو واپس ایئرپورٹ لانے کا فیصلہ کیا۔ اس کے بعد طیارے کو محفوظ طریقے سے اتارا گیا اور مسافروں کو باہر نکالا گیا۔
بوئنگ 737 سے متعلق دیگر واقعات
بوئنگ 737 دنیا میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والے کمرشل طیاروں کے خاندانوں میں شامل ہے۔ اسی وجہ سے اس ماڈل سے متعلق تکنیکی واقعات اکثر بین الاقوامی سطح پر زیر بحث آتے ہیں۔ تاہم، مختلف واقعات کو ایک ہی وجہ یا ایک ہی حفاظتی نتیجے سے جوڑنا مناسب نہیں ہے۔
مئی 2024 میں ترکیہ میں کورینڈن ایئرلائنز کے بوئنگ 737-800 طیارے کے غازی پاشا ایئرپورٹ پر لینڈنگ کے دوران نوز لینڈنگ گیئر کے دونوں ٹائر پھٹ گئے تھے۔ طیارہ رن وے پر محفوظ طریقے سے رک گیا تھا۔ اس میں 184 مسافر اور 6 عملے کے ارکان سوار تھے اور کسی کو چوٹ نہیں لگی تھی۔ طیارے کے نوز لینڈنگ گیئر کو نقصان پہنچا تھا۔
اگست 2026 میں امریکا کے لاس اینجلس انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر DHL کے لیے چلائے جانے والے بوئنگ 737 کارگو طیارے کی لینڈنگ کے دوران بریک سسٹم میں مسئلہ پیدا ہوا۔ FAA کے مطابق، بریک لاک ہونے کے بعد چار ٹائر پھٹ گئے اور طیارے میں آگ لگ گئی۔ طیارے میں موجود تمام عملہ محفوظ رہا اور کسی کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں تھی۔ واقعے کی تحقیقات شروع کردی گئی تھیں۔
ان واقعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ٹائر یا بریک سے متعلق خرابی مختلف حالات میں مختلف انداز میں سامنے آسکتی ہے۔ کئی معاملات میں طیارے رن وے پر محفوظ طریقے سے رک جاتے ہیں، جبکہ بعض واقعات میں مزید تکنیکی تحقیقات کی ضرورت پڑتی ہے۔
بوئنگ 737 MAX پر پہلے بھی حفاظتی سوالات اٹھے
بوئنگ 737 خاندان کی حفاظت کے حوالے سے سب سے سنگین بین الاقوامی بحث 737 MAX سے متعلق 2018 اور 2019 کے دو مہلک حادثات کے بعد ہوئی تھی۔ ان حادثات میں مجموعی طور پر 346 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اس کے بعد 737 MAX طیاروں کو دنیا بھر میں تقریباً 20 ماہ تک پروازوں سے دور رکھا گیا اور طیارے کے سافٹ ویئر، فلائٹ کنٹرول سسٹم اور پائلٹ ٹریننگ میں تبدیلیاں کی گئیں۔
جنوری 2024 میں الاسکا ایئرلائنز کے بوئنگ 737-9 MAX طیارے میں دورانِ پرواز مڈ کیبن ایگزٹ ڈور پلگ الگ ہوگیا تھا۔ طیارہ محفوظ طریقے سے پورٹ لینڈ واپس پہنچ گیا تھا۔ اس واقعے کے بعد FAA نے تقریباً 171 متاثرہ طیاروں کو عارضی طور پر گراؤنڈ کردیا تھا۔ NTSB کے مطابق، اس واقعے میں ایک فلائٹ اٹینڈنٹ اور سات مسافر معمولی زخمی ہوئے تھے۔
FAA کی تحقیقات میں بوئنگ کے مینوفیکچرنگ اور کوالٹی کنٹرول کے طریقہ کار سے متعلق کئی خامیاں سامنے آئی تھیں۔ اس کے بعد ایجنسی نے کمپنی کی نگرانی میں اضافہ کیا اور پیداواری معیار بہتر بنانے کے لیے اقدامات کیے۔
مشہد واقعے کی تکنیکی تحقیقات
سیپہران ایئرلائنز کے طیارے کے تازہ واقعے میں ٹائر کی خرابی، انجن کے مسئلے اور کیبن کے اندر ہونے والے نقصان کے درمیان حقیقی تکنیکی تعلق کا تعین تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی کیا جاسکے گا۔ فی الحال دستیاب معلومات کے مطابق، طیارہ ہنگامی صورتحال میں مشہد واپس آیا، محفوظ طریقے سے لینڈ کیا اور تمام مسافروں اور عملے کو باہر نکال لیا گیا۔
یہ واقعہ اسی ایئرلائنز کے ایک دوسرے طیارے سے متعلق حالیہ واقعے کے تقریباً دو ہفتے بعد پیش آیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق، تقریباً دو ہفتے قبل سیپہران ایئرلائنز کا ایک اور طیارہ مشہد میں لینڈنگ کے دوران رن وے سے باہر چلا گیا تھا۔ اس واقعے میں بھی کسی کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں تھی۔






