اسپین کے دارالحکومت میڈرڈ کے جنوب میں بدھ کی صبح دو ہائی اسپیڈ ٹرینوں کے درمیان تصادم میں کم از کم 10 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے۔ دونوں ٹرینوں میں 500 سے زائد مسافر سوار تھے۔ امدادی کارروائی جاری ہے اور ہلاکتوں کی تعداد بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
اسپین کے صوبہ ٹولیڈو میں بدھ کی صبح ایک سنگین ریل حادثہ پیش آیا۔ اُردا قصبے کے قریب میڈرڈ-سیویل ہائی اسپیڈ ریلوے لائن پر دو مسافر ٹرینیں آپس میں ٹکرا گئیں۔ حادثہ مقامی وقت کے مطابق صبح تقریباً 8:54 بجے پیش آیا۔ تصادم اتنا شدید تھا کہ ٹرین کے کم از کم دو ڈبے پٹری سے اتر کر ڈھلوان پر جا گرے۔ حادثے کے فوراً بعد ریلوے لائن پر ٹرینوں کی آمدورفت روک دی گئی۔ امدادی اور ریسکیو ٹیمیں جائے حادثہ پر پھنسے مسافروں کو نکالنے میں مصروف ہیں۔
اُردا کے قریب ریل حادثہ کیسے پیش آیا؟
اسپین کی سرکاری ریلوے انفراسٹرکچر کمپنی ادیف (Adif) کے مطابق حادثہ میڈرڈ سے اندلس جانے والے ہائی اسپیڈ ریلوے روٹ پر پیش آیا۔ حادثے میں اسپین کی سرکاری ریلوے کمپنی رینفے (Renfe) کی ایک AVE ٹرین اور نجی آپریٹر اریو (Iryo) کی ایک ٹرین شامل تھیں۔
ابتدائی معلومات کے مطابق ایک ٹرین نے دوسری ٹرین کو پیچھے سے ٹکر ماری۔ تاہم حادثے کے وقت دونوں ٹرینوں کی رفتار اور ان کی درست پوزیشن کے بارے میں تحقیقات جاری ہیں۔ ریلوے حکام نے کہا ہے کہ تکنیکی تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی حادثے کی وجوہات کی تصدیق کی جا سکے گی۔
تصادم سے دو ڈبے پٹری سے اتر گئے
عینی شاہدین کی جانب سے فراہم کردہ معلومات اور جائے حادثہ سے سامنے آنے والی ویڈیوز میں ٹرین کے کئی ڈبے تباہ شدہ حالت میں دکھائی دیے۔ تصادم کے باعث کم از کم دو ڈبے پٹری سے اتر کر ریلوے ٹریک کے کنارے ڈھلوان پر جا گرے۔ بعض مقامات پر ٹوٹے ہوئے ڈبوں کا ملبہ بکھرا ہوا ملا۔
ایک مسافر نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ سفر شروع ہونے کے تقریباً 40 منٹ بعد اسے زوردار جھٹکا محسوس ہوا۔ حادثے کے بعد مسافروں میں افراتفری پھیل گئی۔ متعدد افراد کو تباہ شدہ ڈبوں سے باہر نکلنے کی کوشش کرتے دیکھا گیا۔
500 سے زائد مسافر سفر کر رہے تھے
علاقائی حکام کے مطابق دونوں ٹرینوں میں مجموعی طور پر 500 سے زائد افراد سفر کر رہے تھے۔ ابتدائی معلومات کے مطابق رینفے کی ہائی اسپیڈ ٹرین میں تقریباً 397 اور اریو کی ٹرین میں 147 مسافر سوار تھے۔
حادثے کے بعد بڑی تعداد میں مسافروں کو بحفاظت باہر نکالنے اور زخمیوں تک طبی امداد پہنچانے کے لیے کارروائی شروع کی گئی۔ حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ تباہ شدہ ڈبوں کی مکمل جانچ کے بعد ہلاک اور زخمی افراد کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
ہلاکتوں کی تعداد سے متعلق مختلف اطلاعات، سرکاری تصدیق کا انتظار
کاستیا-لا مانچا کی علاقائی حکومت کی ترجمان ایسٹر پادیا نے ابتدائی معلومات میں کم از کم 10 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی۔ اس کے بعد اسپین کی خبر رساں ایجنسی ای ایف ای (EFE) کے حوالے سے بعض رپورٹس میں ہلاکتوں کی تعداد کم از کم 30 بتائی گئی۔ دیگر مقامی رپورٹس میں اس سے بھی زیادہ ہلاکتوں کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
تاہم ان مختلف اعداد و شمار کی یکساں سرکاری تصدیق دستیاب نہیں ہے۔ ریسکیو ٹیموں کی کارروائی جاری ہونے کے باعث ہلاکتوں کی حتمی تعداد اور زخمیوں کی حالت واضح ہونے میں وقت لگ سکتا ہے۔
تین ہیلی کاپٹر اور فائر بریگیڈ کی متعدد ٹیمیں تعینات
اسپین کی ہنگامی خدمات نے حادثے کے بعد بڑے پیمانے پر امدادی کارروائی شروع کی۔ جائے حادثہ پر فائر بریگیڈ، ایمبولینس اہلکاروں اور شہری تحفظ کے دستوں کو تعینات کیا گیا ہے۔ زخمیوں کو اسپتال منتقل کرنے کے لیے تین طبی ہیلی کاپٹر اور دو موبائل انتہائی نگہداشت یونٹس بھی بھیجے گئے۔
الکازار دے سان خوان اور اورگاز سے فائر بریگیڈ کی ٹیمیں جائے حادثہ پر پہنچیں۔ انتظامیہ نے آس پاس کے علاقوں سے اضافی عملے اور طبی وسائل کو بھی تیار رکھنے کی ہدایت کی ہے۔
وزیراعظم پیڈرو سانچیز نے اظہارِ تعزیت کیا
اسپین کے وزیراعظم پیڈرو سانچیز نے ٹرین حادثے پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سنگین ریل حادثے کی اطلاع ملنے کے بعد وہ وزیر ٹرانسپورٹ کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں۔ وزیراعظم نے متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کی اور زخمیوں کو ہر ممکن مدد فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ اسپین کی پارلیمنٹ نے بھی حادثے کے باعث دن کے لیے مقررہ پروگرام منسوخ کر دیے۔
میڈرڈ-اندلس ریلوے سروس معطل
حادثے کے بعد ادیف نے میڈرڈ اور اندلس کے درمیان ہائی اسپیڈ ریل ٹریفک عارضی طور پر روک دی۔ اس کے باعث میڈرڈ، سیوداد ریال اور جنوبی اسپین جانے والی متعدد ٹرین سروسز متاثر ہوئی ہیں۔
ریل آپریٹر رینفے نے مسافروں کے لیے ٹکٹ تبدیل کرنے اور منسوخ کرنے کی سہولت فراہم کی ہے۔ کمپنی نے متاثرہ مسافروں کے اہل خانہ کی مدد کے لیے ہیلپ لائن بھی شروع کی ہے۔
جنوری میں بھی بڑا ریل حادثہ پیش آیا تھا
اسپین میں رواں سال جنوری میں بھی اندلس کے علاقے ادیموز کے قریب دو ٹرینوں کے تصادم میں 46 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اس حادثے کے بعد ریلوے کے حفاظتی انتظامات اور ہائی اسپیڈ ریل نیٹ ورک کی نگرانی کے حوالے سے سوالات اٹھے تھے۔
بدھ کے حادثے کے بعد ایک بار پھر ریل آپریشن، سگنلنگ نظام اور مسافروں کی حفاظت پر توجہ مرکوز ہوئی ہے۔ فی الحال حادثے کے پیچھے تکنیکی خرابی، سگنلنگ کے مسئلے یا انسانی غلطی میں سے کون سا سبب تھا، اس بارے میں کوئی حتمی نتیجہ سامنے نہیں آیا ہے۔






