تیلنگانہ کے نارائن پیٹ-کوٹنگل علاقے میں مجوزہ پن بجلی منصوبے کے لیے زمین سروے کے دوران کسانوں کا احتجاج۔ ایک خاتون کی طبیعت بگڑنے سے تناؤ کی صورتحال پیدا ہو گئی۔ حکام نے مزید پولیس فورس تعینات کر دی ہے اور کسانوں کے ساتھ بات چیت کا وعدہ کیا ہے۔
حیدرآباد: تیلنگانہ کے نارائن پیٹ-کوٹنگل علاقے میں مجوزہ پن بجلی منصوبے کے لیے زمین سروے کی کسانوں نے شدید مخالفت کی ہے۔ حکام نے بتایا کہ یہ سروے منصوبے کے ابتدائی اقدامات کا حصہ ہے اور حتمی فیصلہ کسانوں کے ساتھ بات چیت اور ان کی رضامندی کے بعد ہی کیا جائے گا۔
مظاہرے کے دوران ایک خاتون اچانک بیمار پڑ گئیں۔ گاؤں والوں نے انہیں فوری طور پر قریبی اسپتال میں داخل کرایا۔ اطلاعات کے مطابق، خاتون کی حالت تشویشناک ہے اور وہ زیر علاج ہیں۔ اس واقعے نے منصوبے کے حوالے سے حکومت اور مقامی کسانوں کے درمیان بڑھتے ہوئے تناؤ کو مزید ہوا دی ہے۔
پن بجلی منصوبے کی مخالفت کرنے والے کسان
مقامی کسانوں نے بتایا کہ مجوزہ پن بجلی منصوبہ ان کی زمینوں اور روزگار کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔ کسانوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر ان کے مطالبات پورے نہیں کیے گئے تو وہ اپنے احتجاج کو تیز کریں گے۔
اس منصوبے کے حوالے سے گاؤں والوں نے وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی سے بھی ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ ایک کسان نے کہا: "ہماری زمین ہی ہماری زندگی ہے۔ اسے ہم سے چھین لینا ہماری تباہی ہے۔ حکام کو ہماری پریشانی سمجھنی چاہیے اور متبادل راستے تلاش کرنے چاہئیں۔"
کسانوں نے واضح کیا ہے کہ وہ اپنے روزگار اور کاشتکاری کو خطرے میں ڈالنے والے کسی بھی اقدام کو برداشت نہیں کریں گے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ یہ مخالفت ذاتی نہیں، بلکہ اجتماعی تحفظ اور مفادات کے تحفظ کے لیے ایک قدم ہے۔
مظاہرے کے دوران ایک خاتون شدید زخمی
مظاہرے کے دوران، ہجوم میں موجود ایک خاتون اچانک بیمار پڑ کر گر گئیں۔ گاؤں والوں نے انہیں فوری طور پر قریبی اسپتال میں داخل کرایا۔ ڈاکٹروں کے مطابق، خاتون کی حالت تشویشناک ہے اور ان کی صحت پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔
اس واقعے کے بعد مقامی لوگوں نے تشویش کا اظہار کیا ہے اور حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ایسے مظاہروں کے دوران حفاظتی انتظامات اور بنیادی امدادی سہولیات کو مضبوط کیا جائے۔
کسانوں کے احتجاج کے بعد حکام نے سیکیورٹی بڑھا دی
صورتحال کو قابو میں کرنے کے لیے ضلعی انتظامیہ نے مزید پولیس اہلکار تعینات کر دیے ہیں۔ حکام کی جانب سے دی گئی وضاحت کے مطابق، زمین کا سروے منصوبے کے ابتدائی مرحلے کا حصہ ہے۔ انہوں نے وعدہ کیا ہے کہ کسانوں کے ساتھ بات چیت اور مشاورت کے بعد ہی زمین کا حصول یا دیگر اقدامات کیے جائیں گے۔ ایسے منصوبوں میں مقامی کمیونٹیز کے ساتھ شفافیت، مناسب معاوضہ پالیسی اور فعال مشاورت انتہائی ضروری ہے۔ اس سے نہ صرف مخالفت اور تناؤ میں کمی آئے گی، بلکہ منصوبے کی کامیابی اور پائیداری کو بھی یقینی بنایا جا سکے گا۔