مختلف ریاستوں کی فرضی یونیورسٹیوں سے متعلق یو جی سی کا انتباہ، ڈگریاں ناقابلِ قبول

یو جی سی نے دہلی اور اتر پردیش سمیت مختلف ریاستوں میں چلنے والی فرضی یونیورسٹیوں کی فہرست جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان اداروں کی ڈگریاں قابلِ قبول نہیں اور داخلے سے پہلے منظوری کی جانچ ضروری ہے۔

یونیورسٹی گرانٹس کمیشن نے ملک کی مختلف ریاستوں میں چلنے والی فرضی یونیورسٹیوں کے بارے میں انتباہ جاری کیا ہے۔ کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ان اداروں کی طرف سے جاری کی گئی ڈگریاں قابلِ قبول نہیں ہوں گی۔ کمیشن کے مطابق یہ ادارے قانونی منظوری کے بغیر ڈگریاں فراہم کر رہے ہیں جنہیں ملازمت یا اعلیٰ تعلیم کے لیے تسلیم نہیں کیا جاتا۔ یہ فہرست طلبہ، والدین اور تعلیمی شعبے سے وابستہ افراد کے لیے جاری کی گئی ہے تاکہ داخلے سے پہلے درست یونیورسٹی کا انتخاب کیا جا سکے اور مستقبل کے خطرات سے بچا جا سکے۔

یو جی سی ایکٹ 1956 کے تحت صرف وہی ادارے ڈگری دینے کے مجاز ہیں جنہیں مرکزی یا ریاستی حکومت نے قائم کیا ہو یا جنہیں ‘ڈیمڈ ٹو بی یونیورسٹی’ کا درجہ حاصل ہو۔ اس کے علاوہ پارلیمنٹ کے خصوصی قانون کے تحت منظور شدہ ادارے ہی جائز ڈگری جاری کر سکتے ہیں۔

کمیشن کے مطابق متعدد فرضی ادارے خود کو یونیورسٹی ظاہر کر کے طلبہ کو راغب کر رہے ہیں۔ ایسے اداروں میں داخلہ لینے والے طلبہ کو مستقبل میں ملازمت، سرکاری امتحانات اور مزید تعلیم کے دوران مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

فہرست کے مطابق دہلی اور اتر پردیش میں سب سے زیادہ فرضی یونیورسٹیاں پائی گئی ہیں۔ دہلی میں آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف پبلک اینڈ فزیکل ہیلتھ سائنس، یونائیٹڈ نیشنل یونیورسٹی اور وشوکرما اوپن یونیورسٹی جیسے ادارے بغیر منظوری کے چل رہے ہیں۔ اتر پردیش میں گاندھی ہندی ودیا پیٹھ پریاگ، بھارتیہ شکشا پریشد لکھنؤ اور مہامایا ٹیکنیکل یونیورسٹی نوئیڈا فہرست میں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ کیرالہ، مہاراشٹر، پڈوچیری، مغربی بنگال اور آندھرا پردیش میں بھی بعض اداروں کو فرضی قرار دیا گیا ہے۔

کمیشن نے کہا ہے کہ کسی بھی یونیورسٹی میں داخلہ لینے سے پہلے اس کی منظوری لازماً جانچ لینی چاہیے۔ منظور شدہ یونیورسٹیوں کی مکمل فہرست کمیشن کی سرکاری ویب سائٹ پر دستیاب ہے۔ اس کے ساتھ ادارے کی سرکاری منظوری، قیام کا قانون اور حکومتی اجازت سے متعلق تفصیلات بھی جانچنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

Leave a comment