جنگ سے متاثرہ سمندری علاقوں میں، خاص طور پر کم گہرائی والے خطوں میں، زیرِ سمندر انٹرنیٹ کیبلز پر خطرہ نمایاں طور پر بڑھ جاتا ہے۔ یہ کیبلز مضبوط ساخت اور طویل مدتی استعمال کے لیے تیار کی جاتی ہیں، تاہم نقصان کی صورت میں ان کی مرمت میں طویل وقت درکار ہوتا ہے، جس کے نتیجے میں عالمی انٹرنیٹ خدمات پر سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
جنگ سے متاثرہ سمندری علاقے، خصوصاً آبنائے ہرمز جیسے مقامات، زیرِ سمندر انٹرنیٹ کیبلز کے لیے بڑھتے ہوئے خطرے کا سامنا کر رہے ہیں۔ کم گہرائی اور بڑھتی ہوئی عسکری سرگرمیاں ان کیبلز کو زیادہ حساس بناتی ہیں۔ حالیہ تنازعات کے تناظر میں ان کیبلز کو نقصان پہنچنے کے خدشات ظاہر کیے گئے ہیں، جس سے متعدد ممالک کی انٹرنیٹ کنیکٹیوٹی متاثر ہو سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق، مضبوط ساخت کے باوجود جنگ کے دوران ان کیبلز کی مرمت مشکل ہو جاتی ہے، جو عالمی ڈیٹا ٹرانسمیشن کو متاثر کر سکتی ہے۔
جنگ کے دوران سمندری سرگرمیوں میں اضافہ زیرِ سمندر انٹرنیٹ کیبلز کے لیے خطرات کو بڑھا دیتا ہے۔ آبنائے ہرمز جیسے علاقوں میں سمندر کی گہرائی بعض مقامات پر تقریباً 200 فٹ تک محدود ہوتی ہے، جس سے کیبلز تک رسائی نسبتاً آسان ہو جاتی ہے۔ ایسی صورتِ حال میں کسی بھی حملے یا حادثے سے کیبلز کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
جنگی حالات میں کیبلز کی مرمت کا عمل انتہائی پیچیدہ ہو جاتا ہے۔ سمندری سیکیورٹی، عسکری سرگرمیوں اور تکنیکی رکاوٹوں کے باعث مرمت میں ہفتوں یا مہینوں کا وقت لگ سکتا ہے، جس کے نتیجے میں طویل عرصے تک انٹرنیٹ خدمات متاثر رہ سکتی ہیں۔
زیرِ سمندر انٹرنیٹ کیبلز کو انتہائی مضبوط اور پائیدار بنایا جاتا ہے۔ یہ کیبلز سونامی، سمندری حیات اور حتیٰ کہ آتش فشانی سرگرمیوں کو بھی برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ انہیں ہائی بینڈوڈتھ اور کم لیٹنسی کے لیے ڈیزائن کیا جاتا ہے، جس سے ڈیٹا ٹرانسمیشن تیز اور کم لاگت میں ممکن ہوتی ہے۔
ان کیبلز کی ساخت میں مضبوط مواد استعمال کیا جاتا ہے، جس سے انہیں نقصان پہنچانا آسان نہیں ہوتا۔ یہ لچکدار اور نسبتاً ہلکی ہوتی ہیں اور ان کی اوسط عمر تقریباً 25 سال سمجھی جاتی ہے۔ دنیا کی انٹرنیٹ ٹریفک کا بڑا حصہ انہی کیبلز کے ذریعے منتقل ہوتا ہے۔
تاہم، مضبوطی کے باوجود ان کیبلز کی کچھ حدود بھی ہیں۔ مڈ سلائیڈ یا سمندری لینڈ سلائیڈ والے علاقوں میں یہ تیزی سے متاثر ہو سکتی ہیں۔ اس کے علاوہ، ان کی تنصیب کا عمل پیچیدہ اور وقت طلب ہوتا ہے، جس سے نئی کیبلز بچھانا آسان نہیں ہوتا۔
کیبلز کو نقصان پہنچنے کی صورت میں مرمت کا عمل طویل اور مہنگا ہوتا ہے، اور جنگی حالات میں یہ مزید مشکل ہو جاتا ہے۔ مزید برآں، سیکیورٹی ماہرین کے مطابق ان کیبلز کو جاسوسی سرگرمیوں کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے، جو ایک اضافی خطرہ ہے۔





