مغربی ایشیا میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے اثرات بھارتی شیئر بازار میں واضح طور پر دیکھنے کو ملے۔ عالمی بازاروں سے ملے جلے اشاروں کے درمیان ہفتے کے کاروباری دن گھریلو بازار گراوٹ کے ساتھ کھلے۔ ابتدائی کاروبار میں بی ایس ای سینسیکس تقریباً 500 پوائنٹس تک گر گیا، جبکہ نفٹی 50 انڈیکس 24,200 کی اہم سطح سے نیچے پھسل گیا۔
صبح تقریباً 9:30 بجے بی ایس ای سینسیکس 306.13 پوائنٹس یعنی 0.39 فیصد کی گراوٹ کے ساتھ 77,538.39 پر کاروبار کر رہا تھا۔ دوسری جانب نفٹی 83.90 پوائنٹس یعنی 0.34 فیصد گر کر 24,242.75 پر پہنچ گیا۔
غیر ملکی زر مبادلہ بازار میں بھی دباؤ دیکھا گیا۔ بھارتی روپیہ امریکی ڈالر کے مقابلے میں 0.35 فیصد کمزور ہو کر 94.58 پر کھلا، جبکہ گزشتہ کاروباری سیشن میں یہ 94.25 پر بند ہوا تھا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق عالمی غیر یقینی صورتحال بڑھنے پر سرمایہ کار محفوظ سرمایہ کاری کے متبادل کی جانب رخ کرتے ہیں، جس کے باعث ابھرتی ہوئی معیشتوں کے بازاروں میں فروخت کا دباؤ بڑھ جاتا ہے۔
سینسیکس کے 30 بڑے شیئرز میں سے بیشتر سرخ نشان میں کاروبار کرتے دکھائی دیے۔ آٹو اور بینکنگ سیکٹر پر سب سے زیادہ دباؤ رہا۔ مہندرا اینڈ مہندرا کے شیئر میں سب سے زیادہ 1.35 فیصد کی گراوٹ درج کی گئی۔ اس کے علاوہ ایکسس بینک، ایچ ڈی ایف سی بینک، ریلائنس، کوٹک مہندرا بینک، ماروتی سوزوکی، ایٹرنل اور آئی سی آئی سی آئی بینک کے شیئرز میں بھی نمایاں کمی دیکھی گئی۔
دوسری جانب ایشین پینٹس، بی ای ایل، ٹیک مہندرا، ہندوستان یونی لیور، اڈانی پورٹس، آئی ٹی سی، ایچ سی ایل ٹیک، انفوسس اور سن فارما کے شیئرز میں تیزی دیکھی گئی۔
وسیع تر بازار میں بھی ملا جلا رجحان دیکھا گیا۔ نفٹی مڈکیپ انڈیکس میں معمولی گراوٹ رہی، جبکہ اسمال کیپ انڈیکس ہلکی بڑھت کے ساتھ کاروبار کرتا دکھائی دیا۔ سیکٹورل انڈیکسز میں پرائیویٹ بینک، پی ایس یو بینک، بینکنگ اور آٹو سیکٹر پر زیادہ دباؤ دیکھا گیا۔ دوسری جانب آئی ٹی اور فارما سیکٹر میں خریداری کا رجحان برقرار رہا۔
بازار میں گراوٹ کی سب سے بڑی وجہ مغربی ایشیا میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو قرار دیا جا رہا ہے۔ امریکہ کی جانب سے ایران کے بعض مقامات پر کارروائی کیے جانے کی خبروں کے بعد عالمی سرمایہ کاروں میں تشویش بڑھ گئی ہے۔









